بلوچ قومی تحریک اور نوجوان – حمل بلوچ

134

بلوچ قومی تحریک اور نوجوان

تحریر: حمل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اگر دیکھا جائے تحریکوں میں ہمیشہ عظیم فیصلوں نے تاریخ بدلے ہیں، کیونکہ جب تک کچھ الگ نہیں کروگے، تب تک نہ آگے بڑھ پاؤ گے اور نہ ہی دنیا تمہاری طرف کبھی متوجہ ہوگی، اسی لیئے آج بلوچ آزادی کی تحریک میں ہمیں کچھ ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بلوچ ماؤں نے ایسے بہادر فرزند جنم دیئے، جنہوں نے اپنی ننگ و ناموس اور سرزمین کی بقاء کی خاطر بے مثال قربانیاں دیں، جو تاریخ کے پنوں پر ہمیشہ زندہ رہیں گے اور دنیا بھی انہیں یاد رکھے گی۔

بلوچ سرزمین کو غیروں کی لوٹ مار سے بچانے کیلئے ہمارے سامنے بہت سی ایسی مثالیں ہیں، جن کے عظیم فیصلوں نے بلوچ آزادی کی جدوجہد کو ایک ایسے مقام پہ کھڑا کیا ہے جہاں سے یہ اور بھی مضبوط ہوگا۔

وه عظیم فیصلہ فدائی ریحان جان و فدائی وسیم کا ہے، وہ فیصلہ فدائی رازق ، فدائی ازل ، فدائی درویش ، فدائی بابر مجید ، فدائی اسد ، فدائی حمل فتح ، فدائی کچکول ، فدائی منصب ، فدائی حق نواز ، فدائی چیئرمین فتح ، فدائی صدام و فدائی جانان کا ہے۔

ان کی اسی عظیم فیصلوں نے دنیا اور بلوچ تاریخ کو ایک نیا رخ دیا، بلوچ آزادی کی تحریک کو دنیا کے سامنے لانے اور اپنی دبی ہوئی آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے میں اس عظیم کردار ہی کی بدولت ہے۔

اب بلوچ نوجوانوں میں قوم و قومی بقاء کو بچانے کیلئے جوش و جذبہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وه کسی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے، صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینا ہی تبدیلی لانے کا سبب بنتے ہیں، بلوچ قومی جدوجہد میں نوجوانوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اپنے وطن و قومی بقاء کی خاطر آخری حد تک جا سکتے ہیں۔

انہی فیصلوں کی وجہ سے آج بلوچ نوجوانوں نے دشمن کی نیندیں حرام کی ہیں اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ ان نوجوانوں کو روکنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

اسی کے چلتے آئے روز قابض فورسز، خفیہ ایجنسی و انکے قائم کردہ ڈیتھ اسکواڈ ہزاروں بلوچ نوجوان خاص طور پر بلوچ طلباء کو اٹھا کر قید و بند کر رہے ہیں، وہ یہ جانتے ہیں کہ پڑھے لکھے اور باشعور بلوچ نوجوان نسل میرے لئے بہت خطرناک ہونگے، اسی لئے آج تک بلوچ قوم نے ہزاروں مسخ شدہ لاشیں اٹھائے ہیں۔

دشمن یہ جان لے کہ بلوچ وہ قوم ہے جو موت کو ہنستے مسکراتے گلے لگاتا ہے، تم انہیں موت کی خوف سے دستبردار نہیں کرسکتے، اگر بات وطن کی ہو تو وه خود موت کے استقبال کے لئے دو قدم آگے بڑھتے ہیں، دشمن یہ بھی اچھی طرح ذہن نشین کرلے کہ ہر باشعور بلوچ نوجوان احسان اور شاه داد ہے اور ہر بلوچ سرمچار ریحان و حمل ہے، یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج ہربلوچ سرمچار پہاڑوں میں بندوق کے ساتھ کتاب بھی رکھتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔