ایٹمی دھماکوں کے لئے بلوچستان کا انتخاب غلامی کے سواء کچھ نہیں – بی این ایم

87

بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے اٹھائیس مئی یوم سیاہ کی مناسبت سے ایک آن لائن پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں پارٹی کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری دل مراد بلوچ، ڈائسپورہ کمیٹی کے آرگنائزر ڈاکٹر نسیم بلوچ سمیت کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ڈائسپورہ کمیٹی کے آرگنائزر ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ ایک غلام قوم کے لئے شہادت، لوٹ مار، استحصال اور سرزمین پر ننگ وناموس کا حملہ کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن پاکستان کے جوہری دھماکوں کے نتائج اتنے خطرناک ہیں کہ آج بھی بلوچ اسے مختلف شکلوں میں بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 1998 میں تاریخ کا ایسا دورانیہ تھا کہ قوم دوستی و قوم پرستی کے دعویدارتو مختلف شکلوں میں موجود تھے، جن کا ہم سب نے مشاہدہ بھی کیا لیکن آج کی صورت حال سے بہت مختلف تھا۔ آج تحریک کی وجہ سے ہماری سوچنے اور حالات و اقعات کو دیکھنے اور ادراک کرنے  کا انداز بدل چکا ہے۔ ممکن ہے کہ موجودہ جدوجہد سے پہلے ہم میں مجموعی طور پر ہماری ادراک واحساسات اس مقام پر نہیں تھے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا دنیا کے جتنے ممالک نے ایٹمی دھماکے کئے ہیں، انہوں نے مقام کاا نتخاب اور حفاظتی تدابیر ضرور اختیار کئے ہیں تاکہ تابکاری کے اثرات کم سے کم ہوں یا نہ ہونے کے برابر ہوں۔ لیکن پاکستان نے انتہائی غیر محفوظ طریقے سے چاغی میں ایٹمی دھماکے کئے۔ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ دھماکوں کے فوراَ بعد چاغی سمیت بلوچستان بھر میں قحط سالی اور کینسر، چھاتی کا کینسر، جلد کا کینسر، آنکھوں کی بیماریاں، قبل از مدت بچوں کی پیدائش سمیت مختلف بیماریاں عام ہوئیں۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا آج بھی مقامی ادارے اور بین الاقوامی ادارے کہتے ہیں کہ کم وزن بچوں کے پیدائش میں دنیا میں بلوچستان سرفہرست ہے۔ غذائی قلت میں بلوچستان میں صورت حال صومالیہ سے بھی بدتر ہے۔ ان کی وجوہات میں ایٹمی دھماکے اور بلوچ وسائل کی لوٹ مار سرفہرست ہے۔

آن لائن پروگرام اجلاس سے بات کرتے ہوئے بی این ایم کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری دل مراد بلوچ نے کہا کہ ”گوکہ بلوچ وطن پر قبضہ تاریخ کا بدترین واقعہ ہے لیکن نقصانات کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کے جوہری دھماکوں کے نقصانات بھی قبضہ سے کم نہیں“۔پاکستان کے جوہری دھماکوں کے مختلف پہلو ہیں، جن میں ان دھماکوں کی قانونی حیثیت، بلوچستان کا انتخابات، تابکاری اثرات، جوہری ہتھیاروں کی ذخیرہ،ایٹمی فضلہ ٹھکانہ لگاناشامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان  ایٹمی تجربات کی روک تھام کے حوالے سے سب سے بڑا معاہدہ سی ٹی بی ٹی اور جوہری ہتھیاروں کو حذف کرنے کے لئے ایک اور عالمی معاہدہ این ٹی پی پر دستخط نہیں کرچکا ہے۔ اس لئے پاکستان کے جوہری ہتھیار کسی بھی عالمی قانون کے دائرے میں نہیں آتے ہیں اور غیر قانونی ہیں لیکن عالمی مخالفت کے باوجود پاکستان جوہری دھماکے کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔ لہٰذااس امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا ہے کہ اس میں کسی نہ کسی سطح پر امریکہ کی رضامندی شامل ہوسکتاہے، کیونکہ انیس سو چون سے پاکستان امریکہ کا اتحادی اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے نہایت ارزان نرخوں پر کرایے کے لئے دستیاب رہا ہے۔

دل مراد بلوچ نے کہا کہ دھماکوں کے لئے بلوچستان کا انتخاب کی سب سے بڑی وجہ ہماری غلامی اور مقبوضہ علاقہ ہونا ہے۔ بصورت دیگر کوئی وجہ نہیں ایک تین بڑے شہروں خاران، چاغی اور دالبندین کے درمیانی علاقے میں جوہری دھماکے کئے جائیں۔ ان شہروں کے علاوہ راسکومیں بھی آبادیاں تھیں۔ بلوچستان میں آبادی کا ایک بڑا حصہ پہاڑی سلسلوں میں آباد ہے۔ حالانکہ پاکستا ن کے پاس پنجاب میں چولستان جیسا ریگستانی علاقہ موجود ہے جہاں دور دورتک آبادی نہیں۔ ہندوستان میں ایسے ہی علاقے پوکھران میں دھماکے کئے گئے تھے لیکن پاکستان اپنے جوہری دھماکوں کے لئے بلوچ سرزمین کے سینے کا انتخاب کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی جوہری دھماکوں سے نہ صرف راسکو راکھ کا ڈھیر بن گیا جہاں صدیوں تک سبزہ اگنے کا امکان نہیں، بلوچستان کے پہاڑ بے آب و گہاہ نہیں بلکہ مختلف وسائل سے بھرپور ہیں، جہاں قدرتی چشمے ہیں، چھوٹے چھوٹے باغات و نخلستان ہیں، مالداری کے لئے نہایت موزوں علاقے ہیں۔ اس لئے پہاڑی سلسلوں میں لوگوں کا گزر بسر آسانی سے ہوتاہے لیکن جوہری دھماکوں نے یہ سبب کچھ چھین لیا ہے۔

دل مراد بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے جوہری دھماکوں کی تابکاری کے اثرات کے  نتیجے میں کینسر ایک ایسی عفریت کا شکل اختیار کرچکاہے۔ وہ بلوچ کے قومی حساسیت کا ایک حصہ بن چکے ہیں جہاں بھی کوئی کینسر کا ایک سامنے نظرآتاہے، وہ محض اس شخص کا مسئلہ نہیں رہ جاتاہے بلکہ پوری سماج اس کے درد میں شریک ہوجاتاہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ کینسر کس سطح اور نہج پر پہنچ چکاہے۔ بلوچستان میں کینسر کی تباہ کاریاں اتنے شدید ہیں کہ پاکستان میڈیا بھی کہیں نہ کہیں اقرار پر مجبور ہوتاہے۔ ”پاکستانی ٹی وی چینل سما 4 فروری2019کے رپورٹ میں اقرارکرتاہے کہ ”بلوچستان اس وقت کینسر جیسے موذی مرض کی شدید لپیٹ میں ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب بلوچستان کے کسی کونے سے کینسر زدگی کے شکار کسی مریض کی خبر نہیں آتی ہو، اور اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ ان مریضوں میں بیشتر تعداد بچوں اور نوجوانوں کی ہے۔ پھر گزشتہ چند برسوں میں کینسر نے بلوچ نوجوانوں کا تو جیسے گھر ہی دیکھ لیا ہو۔ ایسے ایسے بانکے نوجوان اس مرض کی بھینٹ چڑھ گئے کہ جن کے ذکر پر ہی آنکھوں کے کناروں پر نمی در آتی ہے۔ ان نوجوانوں میں مستقبل کے سہانے خواب آنکھوں میں سجائے ایسے کتنے ہی ذہین و فطین طالب علم تھے جو یقینا بلوچ قوم کا اثاثہ تھے، جن کی آنکھوں کی روشنی اور چمک کینسر زدگی میں بھی ماند نہ پڑی، مگر اب وہ ہم میں نہیں اور اب بھی ایسے کتنے ہی نوجوان ہیں جو ہر روز اس عفریت کے شکنجے میں کستے جا رہے ہیں۔“ یہ دشمن کے ٹی وی چینل کا رپور ٹ ہے اورانتہائی غیر معمولی صورت حال کی نشاندہی کرتاہے۔ اسی طرح  بلوچستان ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شماربھی ہوش ربا ہیں۔ حالانکہ بلوچستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد علاج کے لئے کوئٹہ کے بجائے کراچی کا رخ کرتاہے۔

دل مراد بلوچ نے کہاکہ ایک جانب جوہری دھماکوں نے تباہی مچادی دوسری طرف پاکستان نے اپنے ایٹمی ہتھیار بھی بلوچستان میں ذخیرہ کررہاہے۔ اس کی نشاندہی ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے 2016میں کی تھی، جس کی تصدیق امریکی تحقیقی ادارے”دی انسٹیٹوٹ فارسائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکوریٹی“نے کی کہ پاکستان بلوچستان میں اپنے ایٹمی ہتھیار ذخیرہ کررہاہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان اپنے ایٹمی فضلہ بھی بلوچ سرزمین پر ڈمپ کررہاہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی ذخیرہ اور فضلہ دونوں تباہ کن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ہر صورت میں بلوچ کے لئے تباہ کن اوربلوچ قوم پر ایٹمی حملہ کے مترادف ہیں کیونکہ یورینیم بلوچ سرزمین سے حاصل کیاجارہاہے،تجربے بلوچ سرزمین پر کئے جاتے ہیں،ذخیرہ بلوچ سرزمین پر اور ایٹمی فضلہ بھی ہماری سرزمین پر ڈمپ کئے جارہے ہیں۔اس بات کے بظاہر امکان نظر نہیں آتے لیکن اس امکان کو بھی رد نہیں کیاجاسکتاہے کہ اگر عالمی طاقت اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستا ن کے ایٹمی ہتھیار دنیا کے لئے خطرناک ہیں اور انہوں نے پاکستانی ہتھیاروں کے ذخیروں پر حملہ کی تو یہ بوجھ بھی بلوچ سرزمین کو اٹھانا پڑے گا۔

دل مراد بلوچ نے کہا کہ آج پاکستان کے جوہری دھماکوں کے خلاف بات کرنے یا مزاحمت کرنے کے لئے کچھ لوگ کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں لیکن سوائے بی ایس او کے ہمیں کوئی توانا آواز نظر نہیں آیا۔اس وقت کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ اختر مینگل نے کہا تھا کہ ”مجھے تو سرکاری طورپر آگاہ بھی نہیں کیاہے کہ یہاں دھماکے کئے جارہے ہیں“لیکن ریاست کی جانب پریشر آیا تو موصوف پاکستانی وزیر اعظم کے ڈرائیور بن گئے اور نعرہ تکبیر بلند کی۔آج دنیا میں جہاں بھی پاکستان کے جوہری کے متعلق کوئی بات ہوتی ہے یاخدشے کاا ظہار کیا جاتاہے تو میں سمجھتاہوں کہ یہ بلوچ قومی تحریک اور قومی آوا ز کا رسپانس ہے۔

انہوں نے کہا ہمیں پاکستان کے تباہ کن جوہری ہتھیاروں اور ان کے تابکاری اثرات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دلمراد  نے کہا کہ ”آخر میں نامور صحافی وسعت اللہ کا حوالہ دوں گا جنہوں نے یورینیم کے ذخائر اور ایٹمی فضلہ ٹھکانہ لگانے کے بارے میں تحقیق کے لئے ڈیرہ غازی کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنی رپورٹ کے آخر میں کہا تھا ”جہاں لوگ اکٹیونہیں ہوتے ہیں وہاں ریڈیو(تابکاری)اکٹیو ہوتے ہیں“۔

آن لائن پروگرام سے بی این ایم برطانیہ کے صدر حکیم بلوچ،نسیم عباس بلوچ سمیت دیگر کارکنوں نے خطاب کی۔

اسی دن سوشل میڈیا میں صارفین نے #NukeAftermathInBalochistan کے ہشٹیگ سے ایک آن لائن کمپئن چلائی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔