این ایف سی کا معمہ – ٹی بی پی اداریہ

61

این ایف سی کا معمہ
دی بلوچستان پوسٹ اداریہ

بارہ مئی کو پاکستانی صدر نے آئین کے تقاضے تاخیر سے پورے کرتے ہوئے، دسواں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) تشکیل دے دیا، جو وفاق اور اکائیوں (صوبوں) کے مابین مالیاتی وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے پر غور کرکے اپنی نئی سفارشات پیش کرے گی۔

وفاق قابلِ تقسیم پول(ڈویزیبل پول) میں سے اپنے لیئے مختص حصے کو آخری این ایف سی میں طے حصے سے زیادہ نہیں بڑھا سکتا، جس کی ضمانت اٹھارویں ترمیم بھی دیتا ہے کہ مرکز کو 42.5 اور صوبوں کو 57.5 فیصد حصہ ملے گا۔ اس حصے میں اضافہ کرنے کے لیئے وفاق کو آئین میں ترمیم لانا ہوگا جو کہ ایک مشکل کام ہے اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس چکر میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی ممکنہ سیاسی بحران سے بچتے ہوئے، وفاق کے لیئے زیادہ رقم لے آنے کے لیئے وفاقی نمائندے عمودی تقسیم کے بجائے اُفقی تقسیم کو نشانہ بنائیں گے تاکہ صوبے اپنے حصے میں سے دفاع، قومی ترقیاتی منصوبوں، عالمی قرضوں اور گلگت و کشمیر کی ترقی میں بھی حصہ ڈالیں جو کہ عموماً خالصتاً وفاق کے بجٹ سے پورے کیئے جاتے ہیں اور صوبے اس مد میں امداد کے ذمہ دار نہیں۔

ماضی میں این ایف سی میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے مایہ ناز ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے پاکستانی اخبار ‘دی نیوز’ کے ساتھ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کل 99 فیصد کے حصے سے 15 فیصد کی کٹوتی کی جائے تو اس سے خود بہ خود صوبوں کا حصہ 57.5 سے گِر کر 39.6 رہ جائیگی۔

بہرحال، کوئی بھی صوبہ اس بات پر ہنسی خوشی رضامند نہیں ہوگا کہ صوبوں کے حصہ کا 57.5 فیصد میں سے 15فیصد کٹوتی ہو اور صوبوں کے مابین تقسیم کے لیئے محض 39.6 فیصد رقم رہ جائے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ صوبوں کو رضامند کرنے کا بھی طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر، بلوچستان کی نمائندگی کرنے اور اسکا مقدمہ “لڑنے” کے لیئے صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی کے ساتھ ساتھ جاوید جبار نامی لکھاری کو بطور تکنیکی ماہر منتخب کیا گیا ہے۔

جاوید جبار کے انتخاب کو ناصرف عوامی سطح اور حزبِ اختلاف میں ناپسندیدگی سے دیکھا جارہا ہے، بلکہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے رکن قومی اسمبلی بھی اس پر خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔ گوادر- لسبیلہ کے حلقے سے منتخب وفاقی رکن اسمبلی اسلم بھوتانی نے عدالت میں جاوید جبار کو منتخب کرنے کے خلاف عدالت میں پٹیشن بھی دائر کر رکھا ہے۔ انکے مطابق جاوید جبار ایک اچھے ادیب اور لکھاری ہوسکتے ہیں، مگر انکا معیشت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا، اور بلوچستان کے مفادات سے کوئی جذباتی لگاؤ نہیں۔

اخر ایسے کسی شخص کو کیوں منتخب کیا گیا ہے، جنکا تعلق نہ بلوچستان سے ہے اور ہی نہ ہی وہ بلوچستان کے معاشی حالات و مشکلات سے آگاہ ہیں؟ ماہرین کے مطابق ایسے لوگوں کا چناؤ “مقتدر حلقوں” کی جانب سے محض بطور ” جی حضور” کے طور پر ہوئی ہے، تا کہ صوبوں کے حصے میں سے کچھ جاتا ہے تو بھی یہ کچھ نہ بولیں۔ یہی حال پنجاب اور خیبر پختونخوا کا بھی ہے، لڑنے کے لیئے سندھ محاذ پر اکیلا کھڑا ہوگا۔

اس پورے معاملے میں شرمندگی و ندامت کا سامنا بلوچستان حکومت کو اٹھانا پڑیگا، جہاں بلوچستان اپنے پہلے سے ہی انتہائی قلیل حصے سے مزید حصہ کھودیگا یعنی 5.17 فیصد سُکڑ کر 4.39 فیصد رہ جائیگی بلکہ غضب کی بات یہ ہوگی کہ جس رقم کو صحت و تعلیم جیسے شعبوں پر خرچ کیا جانا ہے، بعد میں وہ رقم بھی سیکیورٹی اداروں کو دی جائیگی، وہی ادارے جن پر بلوچستان میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔