گوادر میں پاکستانی فورسز کا بلوچ خواتین پر لاٹھی چارج

479

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں فورسز کو خواتین پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ سوشل میڈیا مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق سوشل میڈیا پر آج ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی پیرا ملٹری فورس فرنٹیئر کور کی ایک بڑی تعداد گوادر شہر کے علاقے موسیٰ موڑ پر تعینات ہے اور بلوچ خواتین پر تشدد کررہی ہے۔

مبائل فون سے بنائے گئے اس ویڈیو کو تقریباً سو میٹر کے فاصلے سے بنایا گیا ہے، ویڈیو میں فورسز کی چار گاڑیاں اور متعدد مسلح اہلکار واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ جبکہ کچھ فاصلے پر درجن بھر بلوچ خواتین چیختے ہوئے دِکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو بنانے والے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی لیکن اس ویڈیو میں اس نامعلوم شخص کو بلوچی زبان میں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ” خواتین کو مار رہے ہیں، فوج خواتین کو مار رہی ہے، فوج کسی اور کو آگے جانے نہیں دے رہی ہے اور خواتین کو لاٹھیوں سے مار رہی ہے، خواتین پر اسطرح تشدد کرنا بہت غلط ہے۔”

تاہم اس واقعے کی تفصیلات ابتک موصول نہیں ہوسکی ہیں کہ بلوچ خواتین گوادر میں موسیٰ موڑ کے مقام پر کیوں جمع تھیں اور پولیس کے بجائے فوج وہاں کیا کررہی تھی اور خواتین پر تشدد کیوں کیا جارہا ہے۔

یاد رہے حالیہ سالوں میں بلوچستان میں بلوچ خواتین پر فورسز کی جانب سے تشدد، انکی ماورائے عدالت گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے متحرک تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بلوچ قوم پرست جماعتیں مسلسل احتجاج کرتی آئیں ہیں۔