کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کیلئے دوبارہ احتجاجی کیمپ قائم

99

لاپتہ غلام فاروق کی عمر رسیدہ والدہ انتقال کرگئی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ دوبارہ قائم کردی گئی۔ احتجاج کی قیادت وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ کررہے ہیں۔

بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے گذشتہ ایک دہائی کے زائد عرصے سے جاری احتجاج کو گذشتہ دنوں کرونا وائرس کے باعث موخر کردیا گیا تھا۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ کرونا وائس کے وباء کے باعث حکومت بلوچستان کے لاک ڈاون کے حکم نامہ کی پاسداری کرتے ہوئے ہم نے 14 دن کے لیے اپنا احتجاج موخر کردیا تھا۔

ماما قدیر کا کہنا ہے کہ اس وبا کے دنوں میں ہمارے پچاس ہزار لاپتہ افراد کو نہ رہا کیا گیا اور نہ ہی انہیں منظر عام پر لایا گیا بلکہ افسوس کیساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اس دوران مزید لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے جبکہ ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں واشک سے ایک دلہن کو شادی کے تقریب سے اٹھایا گیا، مشکے سے نو افراد اٹھائے گئے جن میں خاتون شامل ہے۔ ہمیں امید تھی کہ وباء کے باعث لوگ رہا کیئے جائیں گے لیکن بلوچستان سے درجنوں کے حساب سے لوگ لاپتہ کیئے جارہے ہیں۔

دریں اثنا لاپتہ غلام فاروق کی والدہ انتقال کرگئی۔

وی بی ایم پی کی جانب سے کہا گیا کہ لاپتہ غلام فاروق کی والدہ بستر مرگ پر بھی تین دن متواتر اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے آج اس دنیائے فانی سے رحلت کرگئی۔ غلام فاروق کی والدہ اکتوبر 2018 سے تنظیم کے احتجاجوں میں اس امید سے شرکت کررہی تھی کہ کوئی اس کی فریاد سنے اور اسے انصاف فراہم کریں۔

خیال رہے غلام فاروق ولد عبدالرسول 2 جون 2015 سے لاپتہ ہے۔ ان کے لواحقین کے مطابق انہیں حیدر آباد سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغواء کیا۔