شہید غلام محمد، ایک درخشاں باب – شئے رحمت بلوچ

77

شہید غلام محمد، ایک درخشاں باب

تحریر: شئے رحمت بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کتنا بدنصیب ہوں میں کہ میں نے اپنی یاداشت میں کتنے رہبر کھوئے، ایسے رہبر، جن کی قربانی لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے، ایسے رہبر جنہوں نے تاریخ اپنے خون سے لکھا، جو بلوچ قومی جہد اور بلوچستان کو امانت کے طور پر ہمارے پاس رکھ کر اس فانی دنیا سے چلے گئے۔ رہبر اکثر اپنے کارواں پر قربان ہوتے ہیں، اصل وضاحت رہبری، جہدکاری ، ایمانداری ، یہی ہے کہ وہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہر طرح کے مشکلات اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں اور مشکل سفر کو دوسروں کےلیے آسان بنا دیتے ہیں، اور خود ہمہ وقت جہد میں برسرپیکار ہوتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے آنے والے نسلوں کےلیے ایک مشعل راہ بن جاتے ہیں اور انکا مقصد اور جدوجہد شہادت کے بعد بھی کارمرز ہوتا رہتا ہے، اور اس کٹھن رستے کو آسان بنا دیتا ہے۔

شہید غلام محمد بلوچ کی شہادت بلوچ قومی جہد کےلیے انتہائی نقصاندہ مانا جاتا ہے کیونکہ شہید غلام محمد کی رہنمائی اور مخلصی نے بلوچ قومی جہد کو کافی مضبوط بنایا تھا ، اکثر قومی جنگوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں ایک سپاہی کی شہادت کافی حد تک نقصاندہ اور خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ، اسی لیے ایسی جدوجہد میں رہنما کی شہادت بیان کے حد سے باہر ہے، کیونکہ اگر مثال ایک سپاہی شہید ہوجاتا ہے ، اس کے اثرات یہ ہوتے ہیں کہ تحریکوں میں سب ایک “چین “ کی طرح ہوتے ہیں، ایک کڑی ٹوٹنے سے مشین رکتا ہے، جب تک اس کی جگہ کوئی اور نہیں آجاتا وہ ناقابل استعمال رہ جاتا ہے، ہم نے اکثر ایسے واقعات دیکھے ہیں، تحریکوں میں چھوٹی بڑی غلطی تاریخ میں کتنا نقصاندہ ہوتا ہے ، اور ایک فرزند کی شہادت اس سے بھی بڑا نقصان ثابت ہوتا ہے۔

بلوچستان میں جہاں بات سیاست کی آجاتی ہے، وہاں ،”فریڈم آف اسپیچ “ جرنلزم “ اور سیاست ، خطرناک قسم تک محدود ہوچکا ہے، جہان ایک حق کی بات کی جائے تو وہاں فوج اور پارلیمانی سیاست دانوں کو زہر سے بھی بد تر لگ جاتی ہے، جہاں اپنے حقوق مانگنا ایک ایسا جرم بن جاتا ہے کہ زندگی بھر آپ کو قیدوں میں رہنا پڑتا ہے یا آپ کو مارا جاتا، ایسے حالات میں مزاحمت اور پارلیمانی سیاست سے دوری ایک فرض بن جاتی ہے، اور ایسے پارلیمانی سیاست میں حصہ لینا ایک گناہ بن جاتا ہے، ایسے سیاست سے کنارہ کشی کرکے حقیقت کا ساتھ دینا ، وطن سے محبت اور قوم کا خدمت گار ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔

بلوچستان کے حالات پر ایک نظر ڈالی جائے تو، اب بلوچستان کا ماحول اس قدر خطرناک ہوچکا ہے کہ جہاں منشیات فروش ، طالبان ، اور فوج کے سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈ والے اپنی منشاءچلاتے ہیں اور جو حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے اس کو ملک دشمن کے نام پر، قتل یا اغواء کیا جاتا ہے، بلوچستان میں ایک بھی ایسا دن نہیں گذرتا کہ وہاں ایسی خبر نہ آئے کہ کوئی اغواء نہیں ہوا یا کسی کا گھر جلایا نہ گیا ہو، بلوچستان میں توتک جیسے واقعات ہوچکے ہیں، جہاں بے حساب ناقابل شناخت لاشیں ملتی ہیں، ڈیرہ بگٹی سے لیکر مشکے، مشکے سے تربت تک، خواتیں کو اٹھایا گیا ہے جو تاحال پاکستان فورسز کی قیدوں میں اذیت برداشت کررہے ہیں، ایسے حالات میں ہر کوئی شہید غلام بن جاتا ہے، جو پارلیمانی سیاست اور عیاشی جلاکر، ایک مخلص جہدکار بن جاتا ہے، جس کو موت کا کوئی خوف نہیں ہوتا ۔

شہید غلام ، لالا منیر ، شیر محمد ، بلوچ کی شہادت کو آج گیارہ سال ہوگئے ہیں ، لیکن انکی فکر چراغ میں ہم کو اکثر اپنی جیت اور کامیابی نظر آتی ہے ، ہمیں یقین ہے کہ بلوچستان کی آزادی ایسے بہادر ، نڈر لوگوں کی جرت اور ایمانداری نے بلوچستان کی آزادی کو قریب لائیں گے اور ایک دن ایسا بھی ہوگا کہ ہر مظلوم اپنی زندگی بغیر خوف کے جیئے گا ، شہید غلام محمد بلوچ کو اکثر شہید کرنے کی دھمکیاں ملتی تھیں لیکن شہید نے کبھی بھی موت کا خوف نہیں کیا ، اور اپنے جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے بلوچستان کی آزادی اور اپنی قوم کی فتح کےلیے جسمانی حوالے سے جدا ہوگئے ، لیکن شہیدوں کے رستے کے مسافر دن بدن بڑھتے جارہے ہیں کم نہیں ہورہے ، اب دشمن کو یہ سمجھنا چاہئے کہ تحریکیں رہنماؤں کے شہادت سے رکتے نہیں بلکہ ایسے قربانیوں سے مزید مضبوط ہوجاتے ہیں ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔