شہدائے مرگاپ – فتح بلوچ

88

شہدائے مرگاپ 

تحریر : فتح بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان جہاں اکثر و بیشتر چار جماعتی اتحادوں پونم یا مالک اختر بزنجو جیسے سیاست دانوں کی دو رُخی سیاست غالب رہا ہے فیور نیشنلزم کی سیاست کو ایک واضح لائن دینے میں مشکلات پیش آتے رہے ہیں،  موقع پرست قیادت نے جب چاہا بلوچ سیاست کا رُخ موڑا تو سب آنکھیں بند کرکـے اسی راہ پر چل پڑے۔

بلوچ وطن کے زرخیز سرزمین نے ہر دور اور وقت میں عظیم فرزندوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے قوم کو متحد اور واضح موقف کے ساتھ وطن سے عشق اور قوم سے مہر کیا ، قائدانہ صلاحیتیں بھی ان عظیم لیڈروں میں رہا ۔

شـہید غلام محمد بلوچ ، شہید شیـر محمد بلوچ اور شہـید لالہ منیر بلوچ کی عظیم جدوجہد، دن رات محنت ،سرکلز، جلسہ جلوس بلوچستان کـی سیاست کو پاک صاف کـرنے میں ایک اہم کردار کا حامل رہا ہے، شہید واجہ غلام محمد کی سنجیدہ سیاست راست گوئی وطن اور بلوچ عوام سـے مِہر نے اُسے عظیم بنایا۔

شہید واجہ غلام محمد بلوچ اور مخلص ساتھیوں نے بلوچ سیاست کو پاک و صاف کرکے بلوچ قوم میں ایک اعتماد بحال کروایا بی این ایم کو مفاد پرستی سے پاک صاف کرکے سرفیس کی سیاست کو طاقتور بنانے کی رسم شروع کیا، ماس پارٹی کی جانب قدم بڑھنا شروع کیا کہ ظالم قبضہ گیـر کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا۔

مُرگاپ کی زمین پر پڑھے شہید غلام محمد شیر محمد اور لالہ منیر کی مسخ شدہ لاشوں نـے بلوچ سیاست اور سماج کو بیدار کیا اور قبضہ گیر سے نفرت کی انتہا نے بلوچ نیشنلزم کو ایک طاقت مہیا کی، بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شہید واجہ غلام محمد اور ساتھیوں کی مسخ شدہ لاشوں نے بلوچ قومی تاریخ کی مسخ شدہ اوراق کو صاف کیا۔

راقم کا شہید واجہ غلام محمد سے تفصیلی ملاقات اس دن ہوا جب وہ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ حب چوکی میں تشریف لائے تھے اور شام کو لسبیلہ پریس کلب حب میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بلوچ نیشنل فرنٹ کا اعلان کرنے جارہے تھے۔

راقم اور شہید واجہ عبدالصمد نے پریس کانفرنس کےلئے ہال کا بندوبست کروایا تھا اور شام کو شہید واجہ غلام محمد اور ساتھیوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے باقاعدہ بلوچ نیشنل فرنٹ کا اعلان کیا، جس میں بی ایس او آزاد، بی این ایم بی آر پی بلوچ نیشنل کونسل اور اس وقت وجود رکھنے والے دو تین بندوں پر مشتمل آزادی پسند تنظیمیں شامل تھے۔

پریس کانفرنس کے بعد سوال جواب کے سیشن میں واجہ شہید سے مختلف اخباروں  کے نمائندوں نے سوالات کیے اور پریس کانفرنس پینل کے دوستوں اور شہید واجہ نے جوابات دیئے، لیکن جو سوال آج بھی میرے زہن میں زندہ ہے وہ
روزنامہ انتخاب حب کے نمائندہ اور لسبیلہ پریس کلب کے صدر عزیز لاسی نے شہید واجہ غلام محمد بلوچ سے کیا کہ آج آپ نے یہاں بی ایس او آزاد بی آر پی اور دیگر آزادی پسند جماعتوں کی موجودگی میں جس فرنٹ کا اعلان کررہے ہیں وہ کتنے سالوں تک قائم رہ سکتی ہے؟اس سے پہلے بھی بلوچستان کے نامور شخصیات نے اس طرح کے اتحاد قائم کیے ہیں
جیسے کہ پونم یا چار جماعتی بلوچ اتحاد ، انکا حشر ہمارے سامنے ہیں، تو واجہ شہید غلام محمد نے کہا بلوچ نیشنل فرنٹ ان ہم خیال پارٹی اور تنظیموں کا اتحاد ہے جنکا مقصد آزاد بلوچستان کے سوا اور کچھ نہیں ہے ماضی میں جنتے اتحاد بنے ان میں شامل جماعتوں کے مقصد مختلف تھے، لیکن بی این ایف ایک نظریاتی اتحاد ہے یہ اتحاد ہم خیال گروپوں کے درمیان ہوا ہے آزاد بلوچستان کے لیے اور یہ اتحاد دائمی ہے، اور یہ آزاد بلوچستان تک قائم رہے گا۔

شہید غلام محمد کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے شہید جلیل ریکی شہید سنگت ثناء جو بی ایس او آزاد اور بی آرپی کے نمائندے تھے جواب کو سرخم تسلیم کرتے ہوئے کہا بلوچ نیشنل فرنٹ آزاد بلوچستان کی قیام تک قائم رہے گا۔

یقیناً شہید واجہ غلام محمد شہید سنگت ثنا اور جلیل ریکی نے اپنے باتوں کو عمل کے زریعے ثابت کیا
ان شہید دوستوں نے فرنٹ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قومی تحریک میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شریک کرنے کے لیے جو محنت کی، اسی کی بدولت لوگوں کی ایک بڑی تعداد تحریک سے جڑے رہیں۔

آج بلوچ نیشنل فرنٹ کہاں گیا؟
بی این ایم بی ایس او نہ بی آر پی آزاد بلوچستان کی موقف سے دست بردار ہوئے ہیں تو فرنٹ کن وجوہات کی بنا پر زوال پزیر ہوا؟
اس سوال کا جواب بی آر پی بی این ایم بی ایس او اور فرنٹ میں شامل ان تنظیم بہتر دے سکتے ہیں بلوچ قومی آزادی کی پاداش میں اس وقت جو ہزاروں سر قربان ہوئے وہ اس فرنٹ میں شامل پارٹیوں اور تنظیموں کے حصے تھے
اگر آج ان پارٹیوں اور تنظیموں کی لیڈر شپ کی طرف سے جو کوتاہی اور ناکامی کی وجہ بلوچ نیشنل فرنٹ اب قصہ پاران ہوچکا ہے تو ان پارٹیوں اور تنظیموں کو قوم کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے کہ وہ کیوں اس اتحاد کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکے ہیں؟

البتہ فرنٹ میں شامل بی آر پی تو بلوچ قومی تحریک کی بنیادی نظریہ سے مکمل الگ ہوچکا ہے زیادہ دور نہیں جاتے وہ تو کل کے فرنٹ کے یعنی بی این ایف کے ان پروگراموں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں (جیسے کہ 27 مارچ یوم قبضہ)

البتہ راقم کی سوچ یا مشاہدہ یہی ہے کہ بلوچ قومی تحریک کی منزل مقصود تک پہنچنے  کی راہیں مسلح جدوجہد کی کامیابی کے ساتھ ساتھ سرفیس کی سیاست میں جگہ بنانا ہے راستے  اور طریقے کا تعین وقت و حالات کے مطابق کرنا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔