بلوچستان, نوآبادیاتی جھلکیاں – ریکی بلوچ

89

بلوچستان, نوآبادیاتی جھلکیاں

تحریر: ریکی بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

11.اگست. 1947 .کو آل انڈیا ریڑیو دہلی سے نشر ہونے والے اعلامیے میں حکومت پاکستان نے قلات بلوچستان کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرلیا۔ جس کے بعد خان قلات اور بلوچ قوم پرست جماعت قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کے الحاق پاکستان سےانکار کے باوجود 27 مارچ 1948 جبری نام نہاد الحاق کے زریعے بلوچستان کو پاکستان کے ساتھ شامل کیا گیا۔ اس وقت کے سیاسی قیدوبند اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ بلوچستان کو پاکستان میں زبردستی شامل کیا گیا، جبری الحاق کے بعد 1948 سے 1962 تک پاکستان کی طرف سے بلوچستان کو نمائندگی نہیں دی گئی بلکہ بلوچستان کو بطور کالونی ون یونٹ کے تحت اپنے کنٹرول میں رکھا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بلوچستان کو اپنی مرضی ومنشاٰء کے تحت تقسیم بھی کیا گیا تاکہ بلوچوں کو کمزور کر کے با آسانی بلوچستان کے وسائل کو لوٹا جاسکے۔ ڈیرہ جات کو پنجاب اور جیکب آباد کو سندھ میں شامل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قبضہ گیر نے بلوچوں کیخلاف ہر غیر قانونی اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا، یہاں تک کہ بلوچستان کا تقریبا 3000 مربع میل بشمول دس ہزار نفوس ایران کو بطور تحفہ دیا گیا، جس کے بدلے ایران نے -20 کوبرا ہیلی کاپٹر بلوچوں کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان کو دیئے۔ یاد رہے ان ہیلی کاپٹروں کے اکثر پائلٹ ایرانی تھے جو بلوچ نسل کشی میں پاکستان کے ساتھ تھے.

بلوچستان کو صوبائی حیثیت دینے کے بعد بلوچستان کی پہلی منتخب حکومت کو صرف 8 ماہ میں ختم کرکے گورنر راج قائم کیا گیا اور ذوالفقار بھٹو کی طرف سے نواب اکبر خان بگٹی کو گورنر نامزد کیا گیا۔

1952 کو بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ بگٹی سے دریافت ہونے والی گیس سے صرف چند اضلاع مستفید ہورہے ہیں، ان چند اضلاع میں بھی سردیوں کے موسم میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ اسی گیس سے پنجاب میں فیکٹریاں اور سی این.جی. پمپس چلتے ہیں۔

1970تا-1995 کو ضلع چاغی میں سیندک کے مقام سے دریافت ہونے والی کاپر اور سونے کے ذخائر میں بھی بلوچستان کوملنے والاحصہ اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر بھی نہیں۔

28-مئی 1998- ضلع چاغی کا پہاڑی علاقہ راسکوہ میں دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار ایٹم بم کے تجربے کیئے. وہاں کے عوام کو ایٹم زدہ ہونے کے باوجود علاج ومعالجے کی سہولیات نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے پورے بلوچستان بالخصوص چاغی نوشکی خاران اور گردنواح کے علاقوں مین ہزاروں لوگ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار گئے.

نیٹو سپلائی اور افغان ٹرانزٹ کے مد میں ان ہی روڈوں سے سالانہ اربوں روپیہ کمانے کے باوجود روڈوں کو 2 رویا نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے سالانہ ٹریفک حادثات میں 6 ہزار-سے-8- ہزار لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں. گوادر میں چین کی سرمایہ کاری کرنے اور سی پیک روٹ بنانے کی مد میں اربوں ڈالر دینے کے باوجود بھی بلوچستان کے عوام کی حالت بجائے بہتر ہونے کی بدتر ہوتی جارہی ہیں. سی پیک کی مد میں ہزاروں طلباء کو چین کی طرف سے تعلیم دینے کے پیکج میں کسی ایک بلوچ طالبعلم کو شامل نہ کرنا بلوچ دشمنی نہیں تو کیا ہے؟

موجودہ عالمی وباء کرونا وائرس covid 19 نے جہاں دنیا میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں. بلوچستان بھی اسکے زد میں ہے. یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بلوچستان میں کوڈ انیس (کرونا وائرس) خود نہیں آیا بلکہ اسے لایا گیا. ہزاروں کی تعداد میں زائرین کو انکے اپنے صوبے بھیجنے کے بجائے پہلے تفتان بارڈر اور بعد میں بیوٹمز کیمپس, نیشنل پارک ہزارگنجی لایا گیا. پھر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آبادی کے بیچوں بیچ شیخ زاہد ہسپتال اور حاجی کیمپ بروری منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہیں. صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کرونا کے باعث چین سے آنے والی امداد میں سے بلوچستان کو مکمل طور سے نظرانداز کیا جارہا ہے. اور برائے نام وزیر اعلیٰ بلوچستان عوام کو ریلیف اور اس وبا کو کنٹرول کرنے کے احکامات جاری کرنے کے بجائے اپنے فیملی کے ہمراہ پکنک منانے میں مصروف ہیں. یہ تمام امر اس بات کا واضح ثبوت ہے. پنجاب اور اسکے کاسہ لیسوں کو بلوچ عوام کی نہیں یہاں کے ساحل اور وسائل کی ضروت ہیں.بلوچستان اور پاکستان کے درمیان رشتہ قابض اور نوآبادیات کہ سوا کچھ نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔