بلوچستان میں کورونا کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹروں کو ماسک اور کٹ تک میسر نہیں – ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

88

نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ ملک میں جمہوری پارلیمانی اداروں اور پارلیمنٹ کو ابتدائی ہی سے کمزور اور بے توقیر کردیا گیا، غیرسنجیدہ اور نا تجربہ کار افراد کی حکمرانی نے جمہوری و پارلیمانی پریکٹس کو مشکل میں ڈال دیا، ناتجربہ کار اور غیر پارلیمانی افراد پرمشتمل حکومت قائم کرکے نہ صرف پارلیمنٹ کی وقعت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی  بلکہ کورونا جیسے عالمی وبائی صورتحال کو بھی غیرسنجیدہ اندازمیں لیکر ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جایا جارہا ہیے۔

سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ حکومتی غیر سنجیدگی نے ثابت کی کہ موجودہ مشکل صورتحال میں بھی پارلیمنٹ اور ملکی اداروں کے مابین ہم آہنگی نہیں، وزیراعظم خطاب کرتا ہے کہ لاک ڈاون کرکے معاشی خودکشی نہیں کرینگے آدھے گھنٹے کے اندر لاک ڈاون کی نوٹیفکیشن جاری ہوتی ہیے، وفاقی کابینہ کے اہم اراکین آئسولیشن میں چھپ کر اپنی ذمہ داریوں سے بیگانگی کا اظہار کر رہے ہیں، اہم قومی اور انسانی مسئلے پر بھی حکومت پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہیے جس کی بدولت ملک میں بازیچہ اطفال کی سی صورتحال پیدا ہوگئی ہیے، صوبے وفاق کی عدم تعاون سے نالاں ہیں۔کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز اور ہسپتالوں و ایمبولنسوں کے عملے کو کٹ اور ماسک تک میسر نہیں ، حکومتی غیر سنجیدگی کا علم یہ ہے کہ عوام ان کی ہدایات و اقدامات کا مذاق اڑاتے ہیں، حکومت کو انسانی جانوں سے زیادہ عالمی ادارہ صحت سے رقوم بٹورنے کی فکرمیں ہیں ۔

 دریں اثناء نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان حکومت راشن کی تقسیم میں اقربا پروری کا مرتکب ہوا ہے 70 کروڑ کا عوامی فنڈ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں کہ حکومت میں بیٹھے چند افراد اس کو اپنی کرپشن کی نظر کردیں ۔

بیان میں کہا گیا کہ کرپٹ اور اقرباپرور حکمرانوں کو غریب و بے روزگاروں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی ہرگز اجازت نہیں دینگے پارٹی ہر سطح پر غریبوں اور بے روزگاروں کے لیے منظور شدہ فنڈز سے تقسیم ہونے والے راشن کو حکمران جماعت کے معتبرین میں ہرگز تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دینگے، ضلعی افسران راشن کی تقسیم کو صاف و شفاف بنانے میں اپنا فریضہ ادا کریں،بلوچستان کے غیر شفاف حکمرانوں سے شفافیت کی امید نہیں ضلعی انتظامیہ مقامی خیراتی اداروں کے تعاون و مدد سے غریب و ناداروں کے لیے منظور شدہ فنڈز سے معیاری اور کھانے کے قابل راشن لے کر اس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں ۔