خون کی پیاسی شاہراہ اور ہماری بے حسی کا جشن – منظور بلوچ

198

خون کی پیاسی شاہراہ اور ہماری بے حسی کا جشن

تحریر: منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کرونا وائرس نے ثابت کردیا کہ زندہ قومیں ایسے مشکل بحرانات سے کس طرح نمٹتے ہیں۔۔۔ ٹریلین ڈالرز اور معیشتوں کی بربادی سے زیادہ اہم وہ ایک جان ہے، جو اس ملک کا شہری ہے۔

لیکن ہم آج اس گلوبل ویلیج میں ایک الگ تھلگ جزیرہ لگتے ہیں۔ جہاں جان کی کوئی اہمیت نہیں۔۔ حکمران بظاہر پارسا، با ریش ہیں، لیکن باطن میں بے حس، بے ضمیر، انسانیت کے شرف سے گرے ہیں۔ بظاہر وہ اللہ اور اس کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں، لیکن یہ اپنے رب کی جگہ دولت کی پوجا کرتے ہیں، انہوں نے اقتدار کو اپنا دین و ایمان بنا دیا ہے، یہ خدا کی وحدانیت کی بجائے کچھ طاقتور تنخواہ دار افسروں کے ہاں سر بسجود ہیں۔۔ وہ دولت کی پوجا کرکے شرک کے متبرک ہورہے ہیں۔

عام بلوچ کو شکایت اور رونے سے روکنے کے لیئے طارق جمیل جیسے افراد کو اسلامی عالم بنا رکھا ہے۔۔۔ لیکن کوئی عالم اسلام کی روح کے مطابق ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند نہیں کرتے۔

بلوچ چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں اور بلائیں، مشکلات کیا کم تھیں کہ شاہرائیں بھی قاتل بن گئیں۔ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ خون کی پیاسی شاہراہ ایک اور زندگی کے لہو کا جام نوش کرتا ہے۔

2020 کیا آیا کہ ہمارے ہیرے موتی ایک ایک کرکے انتخاب کرکے لے جا رہا ہے۔ درجان پرکانی کی نوجوان مرگ کے بعد اب تک بیس سے زائد اور شہزادے اسی شاہراہ کی نزر ہوگئے ہیں۔

حکمران جو اسلام کا نام لے کر ہمارے حاکم بن گئے، وہ کمال بے نیازی سے فرماتے ہیں کہ ریکوڈک کو بیچ کر پاکستان کے قرضے چکائیں گے، گویا بلوچستان نہیں ہوا، شیر مادر ہے، مال مفت دل بے رحم۔۔۔!

ہمارے منافق حکمران پاکستان کے مستقبل کو بلوچستان سے جوڑتے ہیں، اور یہ غلط بھی نہیں لیکن یہاں بلوچستان سے مراد قصاب بنگال ٹکا خان اور ضیاء الحق ڈاکٹرائن کے مطابق بلوچستان کی سرزمین اور سونے چاندی کے وسائل ہیں؛ لیکن اس میں بلوچ شامل نہیں۔ ایسا بلوچستان جہاں سب کچھ ہو اگر نہ ہو تو اس کے باسی بلوچ اس پر غور کیا جائے تو سلو بلوچ جینوسائڈ کے فارمولے پر کام ہورہا ہے۔ خونی شاہراہوں کا قتل عام اتنا بے معنی بھی نہیں۔۔

گو کہ پاکستان میں درست اعدادوشمار کا ملنا بہت مشکل ہے۔ لیکن سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ 15 افراد حادثات میں اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں ( کرونا وائرس سے کیا یہ کم تشویشناک ہے) اس پر یہ کہ ان میں سے سات مرنے والوں کا تعلق بلوچستان سے ہوتا ہے۔ آبادی پنجاب اور سندھ کی اتنی زیادہ ہے کہ وہاں ٹرانسپورٹیشن کا عمل 24 گھنٹے جاری رہتا ہے۔ لیکن وہاں حادثات کی شرح بلوچستان کے مقابلے میں کم ہے۔۔ لاہور میں موٹر سائیکل پر تین آدمی سفر نہیں کرسکتے؛ ہیلمٹ کے بغیر آپ موٹر سائیکل پر سفر بھی نہیں کرسکتے کیونکہ چالان ہوگا۔ لیکن یہاں 20/20 افراد ایک کوچ کے حادثے میں مارے جاتے ہیں؛ ان کا چالان تک نہیں ہوتا؛ اگلے روز ہی المحمود کوچ زناٹے بھرتا ہوا کوئیٹہ کراچی شاہراہ پر دوڑ رہا ہوتا ہے۔

بلوچستان میں کینسر، دیگر عوارض، قبائلی تنازعات، بم دھماکوں کو چھوڑ کر صرف حادثات میں سالانہ آٹھ ہزار افراد موت کے منہ میں دھکیل دیئے جاتے ہیں؛ یہ 20 ہزار افراد نہیں بلکہ بیس ہزار خاندان بھی ہیں۔ بقول قیصر بنگالی کہ بلوچستان کی آبادی اتنی قلیل ہے کہ صرف دس بارہ لاکھ خاندان ہیں۔ جس میں لاکھوں غیر ملکی اور آبادکار بھی ہیں۔ اس حساب سے دیکھیں تو اگلے پانچ سالوں میں ایک لاکھ خاندان متاثر ہونگے۔ صرف ان خونی حادثات اور ہماری بے حسی جاری رہتی ہے، تو آئندہ آنے والے بیس سالوں میں پانچ لاکھ خاندان اور اگلے پچاس سالوں میں پندرہ لاکھ خاندان متاثر ہونگے۔ بغیر کسی جنگ کے؛ بغیر کسی منصوبہ بندی کے ٹکا خان ڈاکٹرائن کام یاب ہو جائے گا۔

ہماری بقا خطرے میں ہے؛ ہزاروں سال کی بلوچ تہذیب جسے چاکر و گہرام، عبداللہ قہار اور نوری نصیر خان کی خون آشام جنگوں سے بھی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔۔ لیکن آج ہزاروں سال کی روایات کی امین بلوچ قوم کا مکمل صفایا اگلے پچاس سالوں میں ہو جائے گا۔

یہ طویل و عریض بلوچستان جس کو دیکھ کر اسلام آباد ہی نہیں، دنیا کی بڑی قوتوں کے منہ سے رالیں ٹپک رہی ہیں جو بڑی آسانی سے کسی بھی طاقت کی جھولی میں ہوگا۔۔ جو قوت بھی بلوچستان پر قابض ہوگا۔۔ وہ آنے والے دور کا سپر پاور ہوگا۔۔۔ چین اور امریکہ کے درمیان سردوگرم پھونکیں، کرونا وائرس کے بعد شنگھائی کا سائیں سائیں کرنا۔۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟ امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے تناؤ کے اسباب میں کیا کسی کو بلوچستان میں دکھتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔۔ کیا موت کے یہ سارے سامان اور اسباب، جس کی ایک جھلک کرونا وائرس کی صورت میں نظر آتی ہے کیا ہے۔۔؟

المیہ ہے کہ کوئی بلوچ، کسی صورت میں انفرادی یا اجتماعی اتنے اہم اور نزاعی مسئلے پر خاموش ہے۔ اتنی نالائق، ان پڑھ اور جاہل قسم کی سیاسی قیادت بلوچوں نے کبھی نہیں دیکھی۔۔۔ سیاسی پارٹیاں کیا ہیں؟ بلوچوں کے ساتھ ایک بے ہودہ مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔ رہ گئے نقال قسم کے دانش ور (جو دانش کی توہین ہے) وہ سرخ اور پیلے رنگوں پر پوری قوم کو کنفیوز کر رہے ہیں۔ ان کو اچھا موقع ملا ہے کہ بلوچ نیشنلزم میں کیڑے ڈھونڈتے رہیں، تانکہ صوبیدار صاحب خوش ہو اور اس کو سبز چائے کی پیالی آفر کرے۔۔۔

اگر ہم بچ گئے تو ہماری آنے والی نسلیں ہماری تحریریں اور قصے کرکے حیران ہونگے کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم جاہل تھے۔۔ بظاہر ہماری پوشاک جدید تھی۔ ہم جہازوں میں سفر بھی کرتے تھے۔۔۔ لیکن ہم جنگل کی تہذیب کے لوگ تھے۔۔ جس طرح جنگل کی تہذیب کا وحشی ذہن فطرت کو دیکھ کر خوف زدہ یا حیران رہ جاتا تھا، ہمارے آباء و اجداد بھی تو وحشی ذہن کے مالک تھے۔ ہماری آنے والی نسلیں یہی سوچیں گے۔۔۔ اور پھر ہمیں لعنت ملامت کی جائے گی۔

جس طرح وحشی ذہن طاقت کو دیکھ کر ڈر جاتا تھا اور اس کی پوجا شروع کر دیتا تھا۔ ہم آج بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں۔۔ ہماری آج کی اساطیر بھی قدیم انسان سے مختلف نہیں۔۔ وحشی ذہن کا ایک مسئلہ تھا، کھانا اور وہ بھی شکار کے ذریعے شکم بھرنا۔۔۔ ہم بھی تو یہی کر رہے ہیں۔۔ ہم نے طاقت وروں، حکمرانوں، چور اور ڈاکووں کو دیوی اور دیوتا کی جگہ دے رکھی ہے۔ ہم بھی کھانے اور پیسے کے انبار لگانے کے لیئے زندگی گزار رہے ہیں۔

جس طرح کہ قدیم تہذیبوں میں جب کبھی وحشی موت و زیست کے مسئلے میں پڑ جاتا تھا تو وہ کاہنوں اور جادوگروں کے پاس، جو اس زمانے کے چالاک یا ذہین لوگ تھے، ان کے پاس اپنے مسئلوں کے حل کے لیئے جاتے تو یہ چالاک لوگ انکی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے، انکی بے کسی سے بھی اپنی جیبیں بھرتے۔ یہ لوگ بہت بے ترس تھے۔ حل تو ان کے پاس بھی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ بھی تو وحشی ذہن تھے، فلسفہ اور سائنس ابھی وجود میں نہیں آئے تھے، تو یہ کاہن اور جادوگر لوگوں کو صبر کی تلقین کرتے کہ دیوتاوں کی خوشنودی اسی میں ہے۔

ہمارے پاس بھی ایسے کاہن اور جادوگر لوگ پارٹیوں میں موجود ہیں جو صرف چرب زبان ہیں۔ نئے دور کے دیوتاوں کے مٹھو ہیں۔ جیسے کہ ہمارے مسٹر نیروبی، نہ جانے کہاں سے اور کیسے دانشور بن گیا اور انکا اسٹائل ایسے ہے گویا وہ چاہ بابل کے روحانی کردار گوما بننے کی کوشس میں مصروف ہے۔ سائنس کی الف بے سے ہم واقف نہیں، فلسفے کی تعلیم سے ہمارے دور کا بھی واسطہ نہیں، کتاب دیکھ کر بلوچ راج کے سیاست دان، پروفیسر، استاد کا سر درد کرنے لگتا ہے اور یہی وحشی ذہن، پتہ نہیں کس خوش فہمی کا شکار ہوکر بلوچ قوم کو زبانوں کے نام پر تقسیم کرنے کے لیئے لاف زنی کی حد سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ اور نو آبادیاتی نظام کے لیئے ایک آلہ کار بن کر تمام بلوچ دانشوروں کو لائیو مناظرہ کا چیلنج کرتا ہے۔ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ، اسٹیفن ہاکنگ نے شاید ہمارے لیئے ہی کہا تھا کہ علم کو جاہلوں سے نہیں، ایک دو کتاب پڑھنے والوں سے خطرہ ہے۔

دو مسئلے بڑے اہم ہیں۔ ایک تو خونی شاہراہ اور اس کی خونی پیاس جو بڑھتی جارہی ہے۔ دوسرا مسئلہ بے حسی اور جہالت ہے۔۔۔۔ یہاں کا دانشور تو سب سے بڑا جاہل اور علم دشمن ہے۔ کاش یہ ریکارڈ محفوظ رہے اور ہماری آنے والی نسلیں ان سے ہماری جہالت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگائیں گے۔

سر دست مسئلہ خونی حادثات سے اپنے گھر کے جلتے چراغوں کو بچانا ہے۔
یہ تو طے ہے کہ اگلے پچاس سالوں تک یہ شاہراہ دو رویہ نہیں بن سکتا کیونکہ اس پر اندازے کے مطابق 80 ارب روپے خرچ ہونگے۔ جو بلوچستان کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ وسائل کی کمی کا رونا تو زوروشور سے جاری ہے اور جو بلوچ قانون سازی اور ہماری نمائندگی کے نام پر ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر رات دن ٹھیکوں اور کمیشن کے حساب کتاب میں لگے ہوئے ہیں ان کو ہرے نوٹوں کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔

گویا ہماری بلوچ سیاسی جماعتیں ایسے خاص گروپس ہیں جو مافیا سٹائل میں کام کرتے ہیں۔ یہ پورے گینگ ہیں، جن کی سربراہی “بھائی لوگ” کرتے ہیں۔ یہ بھائی لوگ دراصل ایک انڈین فلم کے ولن ظفر سپاری کا کام کر رہے ہیں، ان کا جھگڑا نظریاتی نہیں بلکہ نظر آتی لڑائی ہے جو دراصل حصہ داری کا جھگڑا ہے۔

یہ سارے ظفر سپاری بلوچ عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں حالانکہ ان کی اپنی گینگ (جسے وہ اپنی سیاسی پارٹی کا نام دیتے ہیں) کے لوگ بھی اس خونی سڑک کا رزق بن چکے ہیں لیکن وہ بھی تبلیغی جماعت کی طرح مصنوعی ہمدردی کے ساتھ صبر کی تلقین کرینگے کہ تقدیر کا لکھا یہی تھا۔ لیکن جناب سپاری صاحب آپ تو بائیں بازو اور سیکولرازم کے علمبردار ہیں لیکن آپ نے کچھ پڑھا ہوا ہو کچھ پڑھ کے ہضم کیا ہو تو آپ کو معلوم ہو کہ سیکولرازم کیا ہے۔

کیا اس امر کی ضرورت نہیں کہ ایک تحقیق کی جائے کہ بلوچ سیاسی لیڈر شپ، سینٹرل کمیٹی کے اراکین، “دانشوروں” اور بلوچ پی ایچ ڈی اور پروفیسر صاحبان سے حلفاً پوچھا جائے کہ آپ نے اپنی پوری لائف میں کل کتنی کتابیں پڑھی ہیں؟ یا پوری لائف میں کوئی ایک کتاب پڑھی ہو۔ یہی سوالات نقلی دانشوروں اور پی ایچ ڈی پروفیسر صاحبان سے کی جائے۔ یہ بھی پوچھا جائے کہ وہ اپنے ذہنی صحت و ارتقاء کے لیئے بطور خوراک اپنی آمدن کا کتنا حصہ اپنے جوتوں، گاڑی یا کلف کاٹن کی بجائے اپنے ذہنی بھوک کو مٹانے یا اپنے ذہن کے چراغ کو روشن کرنے کے لیئے اسکے تیل پر خرچ کرتے ہیں۔ پھر جو نتائج آجائیں گے تو کوئی بھی معقول آدمی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا۔

اس موضوع پر لکھنے کے لیئے خضدار کے نوجوان نجیب زہری میرے محرک ہیں۔

نجیب زہری روتا نہیں ہے، لیکن اندر سے زخمی ہے، گھاو اس کے دل پر لگے ہیں، اس کا دکھی من خراش خراش ہے۔ لیکن وہ اس عفریت سے مقابلے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ وہ ہر ایک باشعور انسان سے اس مسئلہ پر گفتگو اور اس کا حل چاہتا ہے۔ اس کی سوچ غلط نہیں، اس کے دل کے گھاو اب رستے ہوئے زخم بنتے جارہے ہیں۔

درجان گیا۔۔۔ اس کے بعد محبوب رودینی جیسا دلبر بھی مارا گیا۔۔۔ محبوب واقعی میں محبوب تھا۔۔۔ پیار و محبت کا استعارہ تھا۔۔ وہ مجلس اور گفتگو کے بغیر زندہ نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔ گریڈوں نے اسکا کبھی دماغ خراب نہیں کیا۔ تمام سردار اور نوابوں سے ذاتی تعلق کے باوجود اس پر نہیں اتھراتا تھا۔ ڈینگیں مارنا نہیں جانتا تھا۔ وہ کلاس کا آدمی تھا۔۔ اسکی گفتگو ایسی ہوتی جیسے وہ بات نہیں کررہا بلکہ اپنے دہن میں برفی اور گلاب جامن گھول کر اسکی مٹھاس بات چیت میں کرتا۔ اس پر لکھنا مجھ پر ایک طرح کا قرض بھی ہے کہ وہ میرے لیئے بڑا بھائی نہیں ایک محبوب دوست تھا۔۔۔۔ وہ بھی چلا گیا۔

پھر نہ جانے اور کتنے حادثے ہوئے۔۔۔ پھر کل پرسوں میرا ایک شیر نوجوان خضدار کا لال بھی خونی حادثے میں قتل کر دیا گیا۔۔۔ اس کی اٹھتی جوانی جو اپنے پورے شباب پر تھی۔

ابھی تو میرے شیر نوجوان جیسے بیٹے اور بھائی کے جشن کے دن تھے۔ اس کے چہرے سے صرف اور صرف پر غرور جوانی اور مردانہ وجاہت کے چھلکتے جام تھے۔۔۔۔ دل پکار اٹھا۔۔۔ اے موت تجھے موت آجائے۔ اس نوجوان کو دیکھ کر مجھے پھر چاہ بابل کے ہیرو مہرتاب کی یاد آئی۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اسی بابلی تہذیب کی حسینوں کی ملکہ۔۔ حسن کی دیوی بیدخت کا بھی خیال آیا لیکن بیدخت کا تو جہان ہی لٹ گیا کیونکہ مہرتاب کو ہماری بے حسی، جہالت، کرپشن نے بڑی بے دردی سے مارا۔۔ لیکن نہ کوئی مدعی ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف ایف آئی آر۔۔۔ مقتول مہرتاب کے کونٹ پر شیخ و واعظ صبر اور تقدیر کے بھاشن دے رہے ہیں۔ لیکن کوئی ایک انگلی بھی قاتل سسٹم کے خلاف اٹھتی ہوئی نظر نہیں آتی۔۔۔ تف ہے ایسے سماج پر۔
خونی شاہراہ کو دو رویہ بنانے کے لیئے اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی کیونکہ وسائل کم ہیں۔ تنخواہوں کے لیئے پیسے نہیں، لیکن مہرتاب کی اسی سرزمین سے روزانہ کھربوں روپے دیگر علاقوں اور ملکوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

ہمارے حق میں بولنے والے ہمارے سیاسی استادوں کو “گوما” کی طرح چپ سی لگ گئی ہے اب وہ بولتا نہیں سمندر کی لہروں کو گھورتا ہے۔ اہل بابل کا خیال ہے کہ اس کی خاک۔

نجیب جان۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے پورے دیار میں ہی صرف ایک زندہ شخص تم ہو کہ جس کا دل خراش خراش ہے۔ باقی تو چلتی پھرتی لاشیں ہیں جن کی صرف تدفین کا کام باقی ہے۔

مجھ سمیت ساری چلتی پھرتی لاشیں زندہ انسانوں کا رزق کھا رہے ہیں اور زمین کا وہ بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔

نجیب جان۔۔۔ مسئلہ تیرے دکھی من کے خراشوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیئے کہ دو عفریتوں سے مقابلہ ہے ایک تو خونی شاہراہ اور اس سے بڑا عفریت جہالت اور جہل کے وارث “دانشور” بنے بیٹھے ہیں۔ سیاسی جماعتیں “بھائی لوگوں” کی ہے۔ جو اپنے “بڑے بھائی” کو جواب دہ ہیں۔ اب بڑے بھائی کی مرضی وہ ظفر سپاری کو موقع دے، حاجی مستان کو۔۔۔۔ ان کے پیچھے چھوٹے موٹے مہرے ہیں جن سے گلی کوچوں میں عوام سے “ہفتہ” لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے اگر کوئی انکار کرے تو ان مہروں کو گولیاں بھی چلانے کی اجازت ہے۔

نجیب جان! بھگت سنگھ نے قوم کی بیداری کے لیئے جان دے دی۔ “بڑے بھائی” کا جو قاتل سسٹم ہے وہ ہر روز خون کا نزرانہ لیتا ہے لیکن مجال ہے کہ قوم میں بیداری کا جذبہ پیدا ہو۔

نجیب جان! تم اگر چاہو تو بیداری کی مہم منظم کر سکتے ہو۔ اس لیئے کہ میرے وطن پر بربادی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ “گوما” نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ اس ساری بربادی سے ہمیں “مہر تاب” ہی نکال سکتا ہے لیکن اس سے قبل کہ وہ شہر میں داخل ہو اس سے قبل اس کی ڈیڈ باڈی آجاتی ہے۔۔۔۔۔ اور حسینوں کی ملکہ، حسین دیویوں کی شہزادی “بیدخت” نوحہ کناں ہے۔۔۔۔ اس لیئے کہ ابھی ایک کونٹ اٹھا نہیں کہ نوجوانوں سے کہہ دیا جاتا ہے کہ مہمان آنے والے ہیں، کونٹ کا بندوبست کیا جائے۔۔

اور پارسا فقیہہ شہر ان تمام کونٹ، سوگ، خون، انسانوں کے ساتھ خوابوں کے روزان خون ہونے کے باوجود حکومت سازی میں بذریعہ سوشل میڈیا مصروف ہے۔۔۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔۔۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

SHARE
Previous articleلاچاری – مراد بلوچ
Next articleبلوچی دود ءُ ربیدگ ءِ روچ ءُ ما بلوچ – داد بلوچ شاشانی
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔