27 مارچ کو کالے انگریزوں نے بلوچستان پر اپنی بالادستی قائم کی – این ڈی پی

138
File Photo

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 27 مارچ، تیرا نومبر کے دن سے زیادہ مختلف نہیں ہے کیونکہ دونوں دنوں میں ایک مماصلت پائی جاتی ہے کہ تیرا نومبر کو سفید انگریزوں نے بلوچ سرزمین پر بزور شمشیر اپنا قبضہ جمالیا تھا اور 27 مارچ کو کالے گوروں نے اپنے پنجے گاڑ کر بلوچستان پر اپنی بالادستی قائم کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بنیادی طور انگریز ریاست قلات میں اپنے انتظامی امور کو چلا رہے تھے۔ اس وقت بلوچستان میں دو ایوان موجود تھے ایک دارلامراہ جس میں بلوچ سردار تھے اور دوسرا دارالعوام جس میں بلوچ عوام کے نمائندگان تھے۔ جب یہ بل دونوں ایوانوں میں پیش کیا گیا کہ ریاست بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرلیا جائے یا نہیں تو دونوں ایوانوں نے اس بل کو مکمل طور پر مسترد کردیا تھا لیکن جناح نے بلوچستان پر دباؤ ڈالنا شروع کیا اور اس وقت کے خان احمد یار خان نے دونوں ایوانوں کے فیصلے کو اپنے پاؤ تلے روندتے ہوئے جناح کے ساتھ 27 مارچ 1948 کو ایک معاہدہ کیا۔ وہ معاہدہ یہ تھا کہ ریاست قلات اپنا جھنڈا رکھ سکتا ہے، اپنا قومی فوج رکھ سکتا ہے اور اگر بلوچستان اپنی تجارتی سرگرمی کسی دوسرے ملک کے ساتھ کرنا چاہے تو وہ کرسکتا ہے اور وفاقی دارالحکومت کے پاس کرنسی، دفاع اور خارجہ پالیسی رہے گی باقی ساحل وسائل پر مکمل اختیار بلوچستان کو حاصل ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کو نہ 56 کے آئین میں شامل کیا گیا، نہ 62 اور 73 کے آئین میں اس معاہدہ کو آئین کا حصہ بنایا گیا اور دوسری صورت میں شہزادہ عبدالکریم نے مکمل طور پر اس معاہدے کے خلاف بغاوت کیا اور یہ بغاوت بابو نوروز، شیرو مری، علی محمد مینگل، سفر خان زہری، نواب اکبر خان بگٹی، غلام محمد بلوچ کی شہادت سے لیکر آج تک لاپتہ افراد اور بلوچ شہدا کے خون سے جاری ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ معزبی قوم کی نشانی یہی ہے کہ وہ معاہدوں کی پاسداری کرتی ہے جس طرح برطانیہ میں 1707 میں ایکٹ آف یونین کے ذریعے سے اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ میں ایک اتحاد قائم ہوا اور اس انضمامی عمل نے برطانیہ کو یونائیٹڈ کنگڈم بنایا اور بعد میں آئرلینڈ بھی اس معاہدے کا حصہ بن گیا اور وہ معاہدہ جو 1707 میں قائم ہوا تھا آج تک چلی آرہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ریاست قلات جو ایک آزاد و خودمختار ریاست ہوا کرتی تھی پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا گیا مگر پاکستان نے نہ صرف خان آف قلات کے ساتھ دھوکہ کیا گیا بلکہ پورے بلوچستان کو اپنے قبضے میں لے کر بلوچ ساحل وسائل، بلوچ ننگ و ناموس کو پامال کیا اور کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم ایک غیر مہذب نظام کا حصہ بن چکے ہیں جو نہ فلاحی ہے، نہ معاشی طور پر مقامی آبادی کے استحکام کا سبب بن رہی ہے بلکہ یہ ظلم و زیادتیوں اور استحصال پر مبنی ایک نظام ہے جو اپنے ہی بنائے گئے آئین پر عمل نہیں کررہا تو معاہدے کی پاسدرای کیسے کرے گی۔

ترجمان نے کہا کہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ 27 مارچ 1948 کو کیئے گئے معاہدے سے بلوچ قوم کو دھوکے میں رکھنے کی خاطر ایک پیس آف ڈاکیومنٹ پر جناح نے دستخط کیا لیکن اس کو عملی طور پر آج تک آئین کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ اس دھوکے کو شہزادہ عبدالکریم نے سمجھ لیا مگر خان احمد یار خان اس باریکی کو سمجھ نہ سکے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاسی جدوجہد کا محوریہی ہے کہ ہر ممکن طور پر بلوچ قومی شناخت کو بحال کرنے کا ہر ممکنہ راستہ اپنائے اور بلوچ قوم کو ایک فلاحی، قومی اور نظم و ضبط میں لاتے ہوئے اپنے جدوجہد کو جاری رکھے گا۔