ہم تو مجرم ہیں ہی صاحب! – منظور بلوچ

120

ہم تو مجرم ہیں ہی صاحب!

تحریر: منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ دنوں براہوئی زبان و ادب سے متعلق فیس بک پر ایک کمنٹ پڑھ کر کچھ لکھنے کا خیال پیدا ہوا کہ ہم نے کس کس طرح سے اپنی (Talent)کو مارا، کیسے کیسے صلاحیت دشمنی کے مظاہرے کیئے؟ جو جس کمال کا حقدار تھا، اسے ذلیل و خوار کیا گیا۔ کیا لوگوں کو تخلیقی صلاحیت ہونے کی وجہ سے ہم عملاً گروہ بناکر اسپر پل نہیں پڑے؟

ہمارے فن کار بیچارے یا تو محمد بشیر بن گئے یا پرویز بلوچ کی صورت اختیار کرگئے۔ اس کے مجرم کیا ہم نہیں ہیں؟ کیا ہم نے زبان و ادب کی خدمت پر اجارہ داریاں قائم نہیں کیں؟ کیا قبضہ گیریت کی ہم سوچ سے باہر نکل آئے ہیں؟ کیا ٹی وی، ریڈیو او براہوئی زبان و ادب سے متعلق دیگر اداروں نے ’’تخلیق دشمنی‘‘ کرتے ہوئے اپنی ہی قوم اپنی ہی زبان کے ستر سال ضائع نہیں کیئے؟

یہ اور اس طرح کے بہت سارے سوال اسی کمنٹ کی صورت میں ذہن میں آئے، جنکے لکھنے والے اپنے اے ڈی بلوچ صاحب تھے ۔جنکی وجہ شہرت پی ٹی وی کے ڈرامہ رائیٹر کی ہے ۔ انہوں نے اپنی رائے میں یونیورسٹی کو ڈگریاں بانٹنے کا ذمے دار قرار دیا انہوں نے بین السطور براہوئی ڈیپارٹمنٹ کو بھی ہدف تنقید بنایا۔

مجھے ان کی تنقید سے خوشی ہوئی کہ چلو چالیس سال بعد ہی صحیح انہوں نے لب کشائی تو کی؛ کسی فورم پر آکر اپنے ’’تنقیدی خیالات‘‘ کا اظہار توکیا۔

میں یہاں بلوچستان یونیورسٹی یا براہوئی ڈیپارٹمنٹ کا ہرگز دفاع نہیں کروں گا اس لیئے کہ نہ یہ میرا کام ہے، نہ میری ذمہ داری!

میں صرف ٹی وی، ریڈیو کے کردار کے حوالے سے ضرور کچھ کہنا چاہوں گا کہ قوم اور اس کی زبان کے ٹیلنٹ کو کس طرح برباد کیا گیا اور کیسے چار پانچ عشرے اپنی ہی زبان کے تباہ کئے گئے( وہ بھی چند نالائقوں کو نوازنے کے لیئے؛ گروہ بندی کے لیئے اور بت بنانے کے لیئے)۔ یہ حساب کتاب کبھی تو ہوگا؟ کیونکہ علمی، ادبی دنیا کے اپنے میلانات ہوتے ہیں۔ اگر غالب پر اس حوالے سے تنقید پوری ایک کتاب کی صورت میں آسکتی ہے کہ وہ دلی کی تباہی پر خاموش کیوں رہے؟ انہوں نے نو نوآبادیاتی نظام کی مخالفت میں کچھ کیوں نہیں کہا۔ تو اے میرے دوست ہم تو ہما شما ہیں۔

ہمارا کیا شمار۔۔۔ کیا قطار۔۔۔۔۔

غالب اردو زبان کی تہذیب و تمدن کا سب سے روشن استعارہ ہے۔ ہندوستان میں اگر ذہین اشخاص کی بات کی جائے تو منٹو اور غالب کے سواء اور بھی ہونگے؛ لیکن غالب ایک ذہین انسان تھے؛ وہ تخلیق کار تھے۔ یہاں ان کا موازنہ یا ذکر کچھ زیبا نہیں؛ لیکن ایک مثال کی خاطر۔۔۔۔

کیا ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے باصلاحیت، تخلیقی اذھان کو تباہ نہیں کیا گیا؟ کیا کوئی اس بات کی تردید کرسکتا ہے؟ کیا پی ٹی وی میں بدنام زمانہ اصطلاح ففٹی ففٹی کی گونج اب تک باقی نہیں ہے؟ کیا کوئی فن کار اپنے فن کا معاوضہ رشوت کے طور پر دے سکتا ہے؟ کیا ایک فن کار’’یہ‘‘ کام بھی کرسکتا ہے کہ پروڈیوسر اورفن کار کے درمیان رشوت کے لین دین کی خاطر ’پل‘ کا کردار ادا کرتا ر ہے۔ کیا یہ سب کراہت آمیز نہیں۔ کیا ایسی باتوں سے گھن نہیں آتی؟

پی ٹی وی میں فن کاروں کو عملاً بھکاری اور “پنٹر ؛ ( پنٹر ٹی وی کی ایک ہستی کے لیئے اصطلاح جو چپڑاسی اور خاکروب سے لے کر بحیثیت فنکار چھوٹے موٹےبھرتی کے کردار؛ کبھی میوزیشن کبھی ؛ کبھی گیت گار بھی ہو سکتا تھا۔۔ یعنی ٹی وی موٹر گیراج کا چھوٹو)بنا دیا گیا، جو ایک وقت میں پروڈیوسر صاحب کی میزصاف کرتا ہے۔ پیالیاں دھوتا ہے۔ پھر کینٹین سے چائے لاتا ہے۔ اس کے بعد وہ کسی گانے یا ڈرامہ میں کوئی کردار ادار کررہا ہوتا ہے۔

کیا ضرورت مند آرٹسٹ پی ٹی وی کے جیتے جی جناح روڈ پر اپنے فن کا مظاہرہ کرکے بھیک نہیں مانگتے تھے۔؟ کیا یہ ہماری منافقت نہیں کہ یٰسین بسمل چائےلانے کا کام بھی کرتا ہے اور بعد از مرگ وہ براہوئی کے اہم شعراء میں شامل بھی ہوتا ہے۔
کیا باہر کسی سنٹر سے آنے والے ایک جنرل منیجر نے ایک میٹنگ میں یہ نہیں کہا تھا کہ آپ لوگوں کے مُنہ کو لہو کی چاٹ لگ گئی ہے؟

یہ لہو کس کا تھا؟

اگر یہ بات غلط ہے، تو ففٹی ففٹی کے عروج کے زمانے میں جباریار جیسا شاعر اپنے علاج کے لئے مجبور کیوں تھا۔ وہ اپنے روزمرہ کی گولیاں بھی خرید نہیں سکتا تھا۔ اس کو پروگرام یا رائلٹی یا کسی بھی باعزت صورت میں سپورٹ کیوں نہیں کیا گیا۔ ایک شاندار آدمی؛ ایک دلدار اور خوددار آدمی؛ باصلاحیت اور حقدار ہونے کے باوجود؛ ٹی وی ففٹی ففٹی لوٹ سیل کے زمانے میں کسمپرسی میں سسک سسک کر مر گیا۔ اور ہم نے مگر مچھ کے آنسو بہائے۔ کیا کبھی کسی نےاس منافقت پر احتجاج کیا، یہ اس امر کی تحقیق کی کہ ہمارے فن کار عید محمد علی جنہوں نے چار عشروں تک اس زبان کے خدمت کی۔ جو براہوئی زبان کے حرف چند ایک سریلے گائیکوں میں سے ایک ہے، کوکس طرح ٹی وی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔؟

کس طرح ہمارے ایک فن کار کو ’’بھکاری فن کاروں‘‘ کے ذریعے باقاعدہ زدوکوب کرکے لٹھ ماری کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئےاس جیتے جی جاگتی آواز کو براہوئی زبان کی ’’خدمت‘‘ کے نام پر خاموش کرادیا گیا۔

کیا مراد پارکوئی ہمارے ہاتھوں مارے نہیں گئے۔ زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے ففٹی ففٹی کے نام پر ’’نیمہ پہ نیمہ نا‘‘ دانہ پہ دانہ کہ طرز پر نہیں بنائی تھی؟

’’دانہ پہ دانہ‘‘ کس کی تخلیق تھی؟ کس نے سرقہ بازی کی؟ کس نے یہ گیت چرایا؟ کس نے اس گیت کو اپنے ذاتی منفعت کے لئے استعمال کیا۔ کس نےہمارے اس تہذیبی ورثے کے گیت ’’دانہ پہ دانہ‘‘ تک کو نہیں بخشا۔ اس میں آمروں تک کی مدح سرائی کی گئی۔ تف ہے ایسی قصیدہ خوانی پر۔۔۔۔

کیا ان تہذیب تخلیق دشمنی پر کبھی بات کی گئی۔؟ کیا میرے محترم دوست! آپ واقعی ان باتوں کو نہیں جانتے؟ اگر نہیں جانتے تو اپنے دل میں جھانک کر اپنےہم زاد سے پوچھنا کہ ہم نے اپنی زبان، موسیقی، ڈرامہ کو کس کس طرح برباد کیا؟ اس کی بربادی کسی غیر کے ہاتھوں نہیں بلکہ ہمارے ہاتھوں ہوئی۔

کیا ایوب خان جیسے آمر کے زمانے میں قدرت اللہ شہاب جیسے ’’رتن‘‘ نے ادیبوں کو نکیل ڈالنے کے لئے، ان کے لئے چارہ پیش کرنے کے لئے رائٹرز گلڈ اوراکادمی ادبیات جیسے ادارے نہیں بنائے؟ ایک سچے فن کار جس کی محبت اپنی مٹی، اپنی زبان اپنے لوگوں سے ہوتی ہے، کیا وہ ایسے اظہار رائے کے آزادی دشمن اداروں کو پانی ڈال کر یہ سب کچھ کرسکتا ہے۔۔ بربادی کو دیکھتے ہوئے صرف پی آر کی خاطر چپ کا روزہ رکھ سکتا ہے؟

دوستی یا تعلق ذات، برادری اپنی جگہ؛ لیکن فن کی دنیا میں یہ سب کچھ یہ ساری دلداریاں نہیں چلتیں۔۔۔۔۔

کیا ہم جس استاد ارباب خان کھوسہ پر ناز کرتے ہیں۔وہ بلوچستان کا واحد بلوچ خان صاحب تھے(موسیقی میں خان صاحب کی اصطلاح کلاسیکل موسیقی میں عبور رکھنے والوں کے لئے استعمال ہوتی ہے)

انھیں ٹی وی سے دور رکھنے کے لئے بی گریڈ میں نہیں رکھا گیا؟ یہ کل ہی کی تو بات ہے ان کے شاگرد اور ان سے سبق چراکر ٹی وی میں نام نہاد موسیقاروں ؛سر اور لے سے ناواقف ٹیکھیداروں نے اے ون گریڈ کا کانٹریکٹ حاصل نہیں کیا؟
کیا ہم نے اس خان صاحب کو چپڑاسی نہیں بنایا، جسے میڈم نورجہان تک نام لیکر جانتی تھی۔ وہ بے چارے پرانے ٹی وی سینٹر کی عمارت میں سردیوں میں اسٹوو میں لکڑیاں ڈال کر ہمارے ’’ڈمی خان صاحبان‘‘ کی راحت کا سامان فراہم کرتا تھا۔

سنسرشپ کا عالم یہ تھا کہ اگر براہوئی شاعری میں دھوئیں یا شراب کا ذکر آتا تو کہرام مچ جاتا، ریکارڈنگ روک دی جاتی، ضیاء الحق کے اسلامائزیشن، میں کوئی اگرکسر رہ گئی تھی اسے پورا ہمارے ہی بلوچستان کے فن کاروں نے کیا۔

کیا کبھی کسی کو پی ٹی وی کوئٹہ سنٹر کی راہداری میں یہ الفاظ گونجتے ہوئے محسوس ہوئے کہ ’’ایوب کھوسہ‘‘ سے بھی ففٹی ففٹی کی ڈیمانڈ کی گئی تھی۔ اس کےعلاوہ انہی راہداریوں اور پروڈیوسر کے کمروں میں تخلیق، تخلیق کار کی موت کے لئے کیا کیا سامان تیار کئے گئے؟ کس طرح ہماری قوم کی زبانوں کا حشر نشر کیاگیا؟ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔( جانے کتنے روپ میں ہے قاتل)۔۔۔۔

براہوئی ڈرامہ لکھنے والوں میں سے اکثر کو براہوئی زبان پر عبور تو کجا، براہوئی آتی بھی نہیں ہے۔۔؟ کتنے چربے کئے گئے، امتیاز علی تاج کے مشہور زمانہ ڈرامہ’’آرام و سکون‘‘ کو اسی نام کے ساتھ ایک صاحب نے ہو بہو نقل کرکے پیش کیا۔ کیا ایک ڈرامہ رائٹر نے دوست محمد گشکوری کے لئے لکھی گئی اپنی ہی سیریل کو چوری کرکے معاذ اللہ جمالدینی کو نہیں دی۔ کس طرح بلوچی اور سندھی ہارمونیم کے لطیفے مشہور ہوئے۔

بلوچی ہارمونیم کا مطالبہ کرنے والے ہمارے ’عالم، فاضل پروڈیوسر جو بعد میں جی ایم بنے، ان کی قربت کا شرف کس کس کو حاصل رہا۔۔؟ اور اس قربت کےکیا فائدہ تھے؟ اور اسی قربت نے کئی گل بھی کھلائے ہونگے۔

جو لوگ زبان کی خدمت کا دعوی کرتے ہیں، وہ جھوٹ بولتے ہیں، اس لئے کہ زبان نے ان کی خدمت کی۔ ان کو نام دیا، عہدہ دیا، فنڈز دیئے، بنگلے دیئے۔

براہوئی زبان کا المیہ تو یہ ہے کہ ہمارے جن ’’جاہل، انپڑھ، آباو اجداد” نے ہمیں جو زبان و وراثت میں دی، جو خام شکل جس میں بھی خوبصورت تھی (اسلئے کہ مادری زبان ہر ذی روح کو پیاری ہوتی ہے) ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ہمارا ’’تخلیق کار‘‘، ’’فن کار‘‘ اس کی تراش خراش کرتا ۔اسے خوبصورت الفاظ،محاورات کی آگ سے گزار کر کندن بناتا۔ لیکن ہوا برعکس ہم نے اس بنی بنائی زبان کو بھی بد صورت، بدنما بنا دیا۔ اپنے بھاری بھر کم الفاظ سے، اپنی نام نہاد ترجمہ نما ( جہالت کے شاہکار نمونوں کی صورت میں) اصطلاحات سے (گویا براہوئی زبان علمی زبان کا درجہ حاصل کرچکی ہے) اس کا حلیہ بگاڑ دیا۔

ہم جو خود کو نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں، کبھی کسی خلقی علاقے میں جاکر کسی شوہان یا بزغر یا مالدار سے بات کی ہے۔ اگر کی توتو ہماری دانش وری پانی پانیہوجائے گی۔ اس لئے کہ اول تو ہماری زبان اجنبی ہوگی اس کے لیئے؛ دوم یہ کہ ہم اپنے محاورات کو بھی الٹا استعمال کرتے ہیں، جس پر وہ خوب ہنسے گا۔ پھر مہمان سمجھ کر نظر انداز کردے گا۔ میرے دوست (مخاطب سینئروں سے) آپ ان باتوں پر گفتگو کیوں نہیں کرتے؟ کیا آپ آج بھی یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ ’’الے کنے کاوہ مش آ۔۔۔ داڑے کنے گرمی اشا‘‘ کا پس منظر کیا تھا؟ اس کو سب سے پہلے کس نے گایا؟ ریڈیو پر آج سے کئی عشرے پہلے کس غیرمعروف فن کار کی آواز میں یہ ریکارڈ کیا گیا۔ ؟اور آج اسے کیش کون کررہا ہے؟ (کاپی رائٹ کو یہاں کون جانتا ہے۔۔۔ براہوئی ادب و موسیقی میں سرقےبازی پر ابھی تک بات شروع نہیں ہی نہیں ہوئی ہے) ہوسکتا ہے کہ کل یہ گیت بھی، کسی کی ذاتی تخلیق بن جائے۔

آخر یہ مذاق زبان کے ساتھ کب تک چلے گا؟ کیا ہم سمجھتے ہیں کہ پوری قوم احمق اور بے وقوف ہے۔

ٹی وی ہو یا ریڈیو یا دیگر ادارے، اگر ان کی اصل تاریخ لکھی جائے۔۔۔ تو ہماری بھی اصل صورت واضح ہوگی۔ ایسے بہت سے قصے اور مثالیں موجود ہیں؛ یہتو صرف ذائقہ کے چکھنے کی چند مثالیں تھیں۔

اے ڈی بلوچ صاحب! میں اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے تمام جرائم کو تسلیم کرتا ہوں ۔ زندگی نے مہلت دی تو ان جرائم کو چھپانے کے بجائے ایک کتاب لکھ کر اپنے آنے والی نسلوں کو پیش کروں گا۔ وہ بھی اس سوچ کے ساتھ وہ مجھے معاف کریں یا نہ کریں۔۔ میرے حقیقی جواز کو بھی مسترد کردیں یا نہ کریں۔

آئیے ہم سب جس کو زبان کی خدمت کا یارا ہے اپنے جیتے جی اعتراف جرم کریں اور بلوچ قوم اور براہوئی زبان سے معافی مانگیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

SHARE
Previous articleکراچی: بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج جاری
Next articleافغانستان میں امریکہ و طالبان کے جنگی جرائم کی تحقیقات ہونا چاہیے- آئی سی سی
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔