کورونا اب بدقسمت بلوچستان میں – عاطف رودینی

42

کورونا اب بدقسمت بلوچستان میں

تحریر: عاطف رودینی

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کے قدرتی وسائل، معدنیات جغرافیائی اہمیت اور خوبصورتی سب کو پسند ہے۔ ہر کوئی انہیں حاصل کرنے کی خواہش دل میں زندہ رکھتا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال و امیر خطہ ہونے کے باوجود، یہاں کے باسی بدتر حالات گذار رہے ہیں۔ غذائی قلت سے اموات، بے روزگاری سے تنگ افراد کی خود کشی، ٹارگٹ کلنگ، دھماکے، کینسر جیسے بیماریوں کے اثرات، قاتل شاہراہوں پر ہونے والے حادثات اور بہت سے واقعات میں روزانہ سیکنڑوں لاشیں اٹھاتے ہیں۔ قدرتی وسائل سیندک، ریکوڈک یہاں کی قدرتی گیس سونا، چاندی، کرومائیٹ، کوئلہ سے حکومت اربوں ڈالر تو کما رہی ہے مگر ان واقعات کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ واقعات میں کمی تو نہیں البتہ تیزی ضرور نظر آ رہی ہے۔ جہاں بلوچستان کے وسائل کو حاصل کرنے کے لیئے دوڑیں لگتی ہیں، تو وہاں ان واقعات پر کوئی اقدام اٹھانا تو دور کوئی دیکھنے و سننے تک تیار نہیں۔ آج تک پچھلے کئی حکومتوں میں صوبائی ہو یا وفاقی، بلوچستان کیلئے بہتر پالیسی تیار نہیں کرسکی، جس سے حقیقی معنوں میں بلوچستان کے مسئلے حل ہوسکیں۔ بلوچستان اس وقت بہت سے مسائل کا شکار ہے، پچھلے حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔

بلوچستان کے بے شمار وسائل کے ساتھ مسائل بھی بے شمار ہیں، مگر اس وقت بلوچستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کیلئے سب سے بڑا اور اہم خطرہ کرونا وائرس کا ہے، کرونا وائرس چند عرصہ پہلے چین کے شہر ووہان میں سامنے آیا۔ شروع شروع میں کچھ لوگ اسے اللّٰہ کا عذاب کا نام دے رہے تھے تو کچھ لوگ اسے بائیولوجیکل وار ثابت کرنے کی کوشش میں تھے۔ اس وائرس نے بہت کم وقت میں پورے چائنا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کئی ہزاروں لوگوں کو اپنے زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا، یہ وائرس صرف چائنا تک محدود نہیں رہا، پھیلتا گیا۔ اس وقت یہ وائرس 146 ممالک و چھ براعظموں تک پھیل گیا ہے۔ لاکھوں افراد اس سے متاثر ہو گئے ہیں۔ اسکا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا ہے۔ یہ وائرس مزید پھیلتا جارہا ہے، چائنہ کے بعد وائرس نے ایران، اٹلی، برطانیہ اور بہت سے ممالک کو بری طرح متاثر کیا۔ افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے یہ وائرس بلوچستان تک پہنچ گیا بلوچستان میں پہلا کیس چند دن پہلے سامنے آیا تھا مگر اب اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اچانک اور تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے، پورے ملک میں اس وقت سو سے بھی زائد کیسز سامنے آگئے ہیں۔

ایران اور افغانستان کے بارڈر بلوچستان سے ملتے ہیں، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو چاہیئے تھا کہ کرونا کو ملک میں پھیلنے سے روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھاتا۔ مگر بدقسمتی سے صرف تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے علاوہ صرف باتوں اور دعووں تک محدود رہے۔ البتہ بلوچستان کے عوام کو صوبائی حکومت کی کارکردگی اور فیصلوں پر بہت تشویش ہے۔ چمن بارڈر اور تفتان بارڈر پر سہولیات نا ہونے کے برابر ہیں۔ کرونا کو روکنے کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے خیمہ بستی بنایا گیا۔ جس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف کا کرونا کے خاتمے کے لیے امدادی فنڈز کا اعلان کرنے کے بعد حکومت نے زائرین جن میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں، سب کو کوئٹہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کا یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے، کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں اس فیصلے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کیا گیا، عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں نے بھی اس پر تحفظات پیش کیں۔ بارڈر سے سینکڑوں کلومیٹر دور کوئٹہ کے ہسپتالوں میں زائرین کو رکھنا بلوچستان بھر کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہاں کے ہسپتالوں میں زکام جیسے بیماریوں کے علاج کے بھی دوائی نہیں، کرونا وائرس کو چیک کرنے والے بھی کٹس بھی ختم ہو گئی ہیں۔ بڑے ڈیلرز ماسک کو بھی ذخیرہ کرکے بلیک میں پیسہ کمانے کا سوچ رہے ہیں۔ کیا حکومت کا یہ فیصلہ بھی بڑے ڈیلز کے طرح آئی ایم ایف کے فنڈز سے پیسے کمانا تو نہیں؟

پولیو جیسی بیماری جو پوری دنیا سے بہت پہلے ختم ہو چکا ہے، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور حکومت کی کوششوں کے باوجود بھی بلوچستان ابھی تک پولیو پر کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ تو پھر کرونا جسکا علاج بھی ابھی تک نہیں اسکو کنٹرول کیسے کریگا؟ پچھلے حکومتوں نے تو کوئی بہتر پالیسی نہیں دی، موجودہ حکومت کی یہ پالیسی بہتر نہیں بلکہ بدتر ثابت ہونے میں شاہد پہلے نمبر پر ہوگا۔ وفاقی حکومت تو بلوچستان کے ہر مسئلے کو نظر انداز کررہا ہے، وزیراعظم صاحب کی بلوچستان سے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم نے بلوچستان کا دورہ ہی صرف ایک بار کیا ہے۔ اب بھی اگر وفاقی اور صوبائی حکومت سنجیدہ نہیں ہوتی، بلوچستان میں کرونا کی روک تھام کیلئے کوئی بہتر پالیسی نہیں بناتی تو اس کے نتائج بلوچستان سمیت پورے ملک کیلئے بھیانک ہونگے اور بلوچستان میں اٹھانے والے لاشوں میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔ روز کے دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، قاتل شاہراوں پر حادثات، مسخ شدہ اور کینسر سے مرنے والوں کے ساتھ کرونا سے مرنے والے ہزاروں لاشیں اٹھائیں گے..


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔