کلچر کے نام پر ہماری تہذیب و ثقافت کا استحصال ہورہا ہے – بی ایس او آزاد

80

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے چئیرمین سہراب بلوچ نے اپنے جارہ کردہ بیان میں کہا کہ چند ریاستی گماشتے اپنے ذاتی مفادات اور نام و نمود کے لیے مظلوم بلوچ قوم کی تمام تر کرب ، مصیبت اور پریشانیوں کو پس پشت ڈال کر” دو  مارچ ” کو بلوچ کلچر ڈے مناکر یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم پاکستان میں خوش و خرم اور انتہائی خوشحالی کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔

یہ عناصر”دو مارچ ” کو بلوچ کلچر کے نام پر جس طرح بلوچ تہذیب و ثقافت کا استحصال کررہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کے یہ ہمنوا بلوچ قوم کی تاریخ،تہذیب و ثقافت کو مسخ کرکے ریاستی ترجمانی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ثقافت کے نام پر بلوچ قوم کو لسانی بنیادوں پہ تقسیم کرنے والے قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔
اپنے بیان میں چئیرمین نے شہید سکندر اور شہید جنید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہیدوں کو آج ہی کے دن ریاستی آلہ کاروں نے کلچر ڈے منانے کی پاداش میں شہید کردیا۔ آج ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزند ریاستی فورسز اور ایجنسیوں نے اغوا کرکے عقوبت خانوں میں ڈال دئیے ہیں اور اغوا و لاپتہ کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ بلوچ وطن کے چھپے چھپے پر ریاست کی جابرانہ آپریشن جاری ہے ۔بلوچ اس وقت حالت جنگ میں ہے بلوچ وطن کے فرزند و جہدکار نامساعد و کھٹن حالات میں اپنے وطن اور اپنی قوم کی آزادی کے لیے ان تھک جدوجہد میں شب و روز مصروف عمل ہے تاکہ بلوچ قوم اپنی مادرگلزمین کو آزاد کرکے اپنی تاریخ و روایات، زبان و ثقافت کو حقیقی معنوں میں محفوظ و مضبوط کرکے ترقی و کامرانی کی منزل کو حاصل کرسکیں ۔

چئیرمین نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ بلوچ قوم کی ثقافت ہزار سال پہ میحط ہے اور ہمیں اپنی تاریخ،روایات،زبان و ثقافت پر فخر ہے۔بلوچ قوم کو ایسے کلچر ڈے کی ضرورت نہیں جہاں کلچر کے نام پہ بلوچ قوم کی تاریخ اور روایات کو مسخ کرکے پیش کیا جائے۔
بلوچ قوم کے دانشور،صحافی، استاد،پروفیسرز اور طالب علم اپنے اداروں کے اندر ایک ڈسکشن کا ماحول جنم دینے کی کوشش کریں کہ آج بلوچ زبان و ادب کی پستی کی وجوہات کیا ہے؟؟ بلوچ قوم کیسے اپنے ثقافت و تاریخ کو زندہ رکھ سکتی ہیں؟؟ بلوچ زبان و ادب کو ترقی دینے میں طالب علموں کا کیا کردار ہونا چاہئیے؟؟

چئیرمین نے آخر میں بلوچ قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مفاد پرست عناصر سے خود کو دور رکھیں کیونکہ یہ عناصر ریاست کے ہمنواء اور ریاستی بیانئیے کی تشہیر کے لئے عوام میں پھوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔