وزیراعظم عمران خان کا معاشی پیکیج لولی پاپ کے علاوہ کچھ نہیں – جان محمد بلیدی

29
فائل فوٹو

نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہا کہ وزیراعظم کا معاشی پیکیج لولی پاپ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ وائرس کے تدارک کیلئے وفاقی حکومت نہ خود کچھ کرتی ہے اور نہ صوبوں کو کرنے دیتی ہے۔

نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت جان لیوا کرونا وائرس کے خلاف نہ خود کچھ کرنا چاہتے ہیں اور نہ صوبوں کو کام کرنے دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کا پیکیج عوام کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے علاوہ کچھ نہیں، وفاقی حکومت کرونا کے خلاف موثراقدامات اٹھانے میں نہ صرف ناکام ہوگئی  ہے بلکہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے غریبوں اور ناداروں کی حالت زار کا بہانہ بنا کر ملک کو ایک مہلک وبا میں دھکیلنے کا سامان کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ وفاق پاکستان کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عوام کی فلاح و بہبود اور جان لیوا وبائی وائرس سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری اور سخت اقدامات سے گریز نہ کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کا غیر سنجیدہ رویہ ملک کے عوام کے تحفظ میں سب سے بڑی رکاوٹ نظر آرہی ہے۔ غریبوں اور بے روزگاروں کے لیے اعلان کردہ پیکیج پر عمل درآمد نہیں ہونے والا ہے یہ گذشتہ کی طرح صرف ایک سیاسی نعرہ بازی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، رہی بات تیل کی قیمتوں میں کمی کا تو اب بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی سامنے آہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے 30 روپے فی لیٹر تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔

بیان میں سندھ و بلوچستان سمیت تمام صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وفاق کی غیر ذمہ دارانہ رویے کو دیکھتے ہوئے کرونا وائرس کے خلاف مزید موثر اور سخت اقدامات اٹھائیں اور عوام کی زندگیاں بچانے اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کرفیو جیسے اقدامات سے بھی گریز نہ کریں، دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ ہمارے عوام نے لاک ڈاون کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے اس لیے عوام کے تحفظ کیلئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران بارڈر ابھی تک مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا ہے۔ ایران کے راستے لوگوں کے آمد کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے جو پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاو کا سب سے بڑا سبب ہے اس لیے ایران بارڈر کو فوری طور پر مکمل سیل کیا جائے۔