میرا جنت نظیر بلوچستان – ندیم گرگناڑی

61

میرا جنت نظیر بلوچستان

تحریر: ندیم گرگناڑی

دی بلوچستان پوسٹ

معدنیات ہوں، جنگلات، ریگستانی میدان ہوں یا بلند و بالا پہاڑ، حسین وادیاں ہوں یا آبشار، جھیلیں، گھاٹیاں ہوں یا سرمگیں دشتیں وادیوں میں چہچہاتے بلبل، تلاروں سے بہتے ہوئے چشمیں، پہاڑوں کی دامن میں کالی گدانیں، پگڈنڈیوں سے گذرتی اونٹوں کی قطار، بھیڑبکریوں کی بھاں و میئے میئے۔ یہ میرا بلوچستان ہے مگر کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچستان میرا بلوچستان نہیں میرے بلوچستان میں جوکچھ وسائل ہیں، وہی میرا دشمن۔ اور میں ان سب وسائل کی ملکیت کا دعویدارہوں، یہی بس میرا قصور ہے۔

گذشتہ دنوں ڈاکٹرخلیل احمد بہلول چھٹہ کے ساتھ خضدار سے کرخ جانا ہوا۔ ڈاکٹر خلیل احمد بہلول اپنے منصب سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے علاقے کے غریب اور لاچار لوگوں کی بلاغرض خدمت میں لگے ہوئے ہیں، ان کے لوگوں کی اکثریت کرخ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ پیر ابراہیم تک ایک سڑک آدھا پکا آدھا کچا بنا ہوا ہے، جبکہ پیر ابراہیم سے علاقہ ٹنگو اور دوسرا کوہ دامن کھیرتھر کو جاتا ہے، جہاں سے مشہور علاقہ ڈھاڈارو؛ کتے جی قبر؛ کتے کا قبر واقع ہے جس پر گذشتہ کئی سالوں سے سندھ حکومت اور بلوچستان حکومت کے مابین حدودات کا تنازعہ چلا آرہا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مقامی لوگ ان حدودات کے اوپر کئی دفعہ جھگڑے کرچکے ہیں۔ اور ان جھگڑوں میں بہلول چھٹہ کے تیرہ بندے، دوسرے فریق چانڈیہ نے مختلف جنگوں میں شہید کیئے ہیں۔ ان شہداء کی برسی ہرسال شہدائے ڈھاڈارو کے یاد میں منایا جاتا ہے۔ گذشتہ مردم شماری کے دوران ڈھاڈارو کتے جی قبر کو سندھ کے حدودات میں شامل کردیا گیا تھا۔ ڈاکٹرخلیل احمد بہلول نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں ملکیت اور حدودات کے لئے کیس درج کی اور اس کیس کو جیت لیا اس کے باوجود سندھ حکومت اب بھی ڈھاڈارو کتے جی قبر پر دعویدارہے ۔

ڈاکٹر خلیل احمد بہلول کا کہنا ہے کہ ہمارے اور حکومت بلوچستان کے پاس ان تمام حدودات کے ثبوت ہیں۔ لیکن پھر وہی بات سامنے آتی ہے کہ بلوچ سرزمین کی وسائل ہمارے دشمن بنے ہوئے ہیں، اس علاقے میں گیس اور دیگر معدنیات کے بہت بڑے ذخائر ہیں، اس لئے سندھ حکومت اس علاقے کو ہتھیانا چاہتی ہے، لیکن ہم اپنے حق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹینگے۔ پیر ابراہیم کی آبادی چار سو گھرانوں پر مشتمل ہے اور یہاں صرف ایک پرائمری اسکول ہے، مگر اسکول میں نہ سہولیات ہیں نہ ٹیچر اپنے فرض منصبی پر کاربند ہیں جبکہ صحت کی سہولیات کا دور دور تک کوئی نشان نہیں مل رہا۔ ان انسانی آبادیوں میں جب کوئی بیمار پڑتا ہے تو پہلے اسے دم دوت علاقائی دوا دارو۔ یا دیگر ٹوٹکوں سے علاج کیا جاتا ہے، اگر مرض بڑھ جائے تو لکڑی کے پاٹ پر اسے میلوں دور کچا سڑک پر کسی گاڑی کے آسرے میں قریبی شہر ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا ہے، اس وقت تک مریض بھی آخری اسٹیج پرآخری ہچکیاں لے رہا ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ جب سہولیات نہ ہونے اور اپنے مریضوں کے بارے میں روتے ہوئے اپنے دکھڑا سناتے ہیں تو میرا بھی کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے اور میں بھی اپنے آنسو روکنے میں ناکام ہوجاتا ہوں۔ کسی ماں کسی بیٹی کا سسک سسک کر دم توڑنے کی داستان سنائی جارہی ہو تو پتھر دل بھی موم بن جاتا ہے۔

لوگوں کو صحت کی کوئی سہولیات، درکنار پانی اس جوہڑ سے پیا جاتا ہے جہاں بھیڑ بکریاں اونٹ گائے کتے گدھے تمام چرند پرند انسان اسی ایک جوہڑ سے پانی پینے جاتے ہیں۔ یہاں پیر ابراہیم سے آگے کوہ دامن کھیرتھر ڈھاڈارو کتے جی قبر تک گذشتہ سال کے بارشوں کی وجہ سے تمام راستے ابتک بند ہیں، لوگ اونٹ، گدھے کی سواری کے ذریعے آتے جاتے ہیں دیگر کوئی سہولت نہیں ہے۔

ڈاکٹر خلیل احمد بہلول نے بتایا کہ میں گذشتہ سال بارشوں کے بعد ڈھاڈارو کے غریب لوگوں کے لئے پاکستان ڈزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی بلوچستان والوں کے پاس گیا کہ ان غریبوں کی امداد کی جائے، لیکن انہوں نے مجھے مکمل انکارکردیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے علاقائی حوالے سے ڈھاڈارو کے غریب بچوں کے لئے اپنی مدد آپ ایک پرائمری اسکول کھولا ہے، ان بچوں کے لئے پہلے سال ہم نے ایک ٹیچر رکھا، اپنی جانب سے تنخواہ ادا کی جاتی ہے، جونہی تعداد بچوں کی بڑھتی جائیگی اس تعداد کے مطابق ہم ان کے لیئے ٹیچرز کا انتظام کرتے جائنگے۔ اس کے علاوہ ہم ان بچوں کو دوٹائم صبح شام کھانا بھی دیتے ہیں۔ یہ ہمارا کسی پر احسان نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا حقیر سا حصہ ان غریب بچوں کے پلے آئے اور ہم آخرت میں سرخرو ہوں۔

ڈاکٹر خلیل احمد کی ان جذبات کو دیکھ کر میرے آنکھوں میں آنسو آئے اور میں دل ہی دل میں اسے دعائیں دینے لگا کہ اے اللہ تیرے ہاں ابتک ایسے بندے ہیں جنہیں تونے عام لوگوں سے مخفی رکھا ہے اور ان سے خیر کا کام لے رہا ہے۔ اے اللہ ایسے نیک بندوں کو اس دنیا اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کردینا۔

حیرانگی اس بات کی ہے کہ دیگر تمام صوبوں میں بارڈر سیکورٹی فورس ہے، مگر بلوچستان کے سندھ سرحد کے کھیرتھر پٹی پرن ہ سندھ کی جانب سے فورسز تعینات ہیں اور نہ ہی بلوچستان حکومت نے کبھی اس ضمن میں زحمت گوارہ کی ہے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان میں جو بھی صوبائی حکومتیں وجود میں لائی جاتی ہیں، وہ کھٹ پتلی ہیں ان سے صرف تماشائی کا کام لیئے جاتے ہیں، انہیں بلوچستان کی سرزمین سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی سرزمین کی خود حفاظت کرتے آرہے ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچ سرزمین کی رکھوالی یہاں کے چرواہے، دہقان نے اپنے لہو سے کی ہے۔

سردار و نواب چرواھے دہقان کی خون سے اپنے گھروں کی آبیاری کرتے چلے آرہے ہیں۔ بلوچ سرزمین کی تمام سرحدی زمینوں کو قبضہ کرتے کرتے آج ایک پیالہ سا زمین ہمارے ہاتھ میں رہ گیا ہے اگر یہ زمین ہمارے ہاتھ سے چلی گئی تو ہماری حالت ریڈانڈین سے بھی بدتر ہونے میں کوئی دیرنہیں لگے گی۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ ڈھاڈارو کتے جی قبر کے حدودات کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ بلوچستان کے قبائلی سردار و نواب معتبرین سیاسی پارٹیاں اس مسئلے کے حل کے لئے بر وقت اقدام اٹھائیں، اگر اسی طرح خواب خرگوش میں رہ کر چپ کا روزہ رکھا گیا تو معدنیات سے بھرے اس زرخیز زمین سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔