بلوچ خواتین کے مسائل کی جڑیں غلامی کی زندگی میں پیوست ہیں – دل مراد بلوچ

117

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری نے ”خواتین کا عالمی دن“ کے موقع پر کہا کہ ہر سال آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں بڑے جوش و خروش سے خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا بنیادی مقصد عورتوں کی تاریخی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا اور ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔ خواتین کے لئے الگ سے ایک دن مخصوص کرنا اور خواتین کی طرف مارچ یہ ثابت کرتا ہے کہ انسانیت کو برابری کے لئے کئی صدیاں درکار ہیں۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ممالک میں خواتین مارچ سمت اور منزل سے محروم ہے۔ اس کے نعرے اور مقاصد میں محکوم قوموں کے خواتین کے لئے کوئی پیغام اور ہمدردی نہیں ہے۔ اگر مارچ کے منتظمین کا اصل ہدف بلاامتیاز خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد ہوتی تووہ سب سے پہلے ریاستی بربریت کے شکار بلوچ خواتین کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتیں لیکن ہمیں اس مارچ میں بلوچ خواتین کے لئے نہ کوئی نعرہ نظر آتا ہے اور نہ ہمدردی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم میں عورت کو تاریخی طورپر صنفی تفریق کا کبھی سامنا نہیں رہا ہے۔ بلوچ سماج میں مرد اور خواتین ایک ہی مقام رکھتے ہیں۔ آج کہیں ایسے مسائل موجود ہیں تو وہ مسلط غلامی اور غلامی کے قباحتوں کے نتائج ہیں۔ ان کی جڑیں پاکستان کے نوآبادتی نظام میں پیوست ہیں۔ آج ہم عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر بلوچ معاشرے کی طرف نظر دوڑائیں کہ بلوچ معاشرے میں عورت کو کیا مقام حاصل ہے۔ بلوچ معاشرے میں عورت مختلف طبقات کا حصہ ہے۔ اس میں قبائلی رسم و رواج بھی ہیں لیکن وہاں عورتیں قید نہیں ہیں۔ وہ مرد حضرات کے شانہ بشانہ ہوتی ہیں۔ مرد حضرات کی غیر موجودگی میں اپنے گھروں میں وہی مہمان نوازی اور دوسری روایات برقرار رکھتے ہیں جو ایک مرد کرتا ہے۔ تاریخ میں بلوچ خواتین نے سماجی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ مردوں کے شانہ بشانہ جنگیں بھی لڑی ہیں۔ اپنے ہمسائے اقوام کے بہ نسبت خواتین کا احترام، وقار اور برابری کے میدان میں بلوچ قوم کئی درجہ بہتر اور آگے ہے۔

دل مراد بلوچ نے کہا کہ یہ بلوچ کا مثبت، تعمیری اورصنفی تفریق سے بالاتر سماجی رویہ کا نتیجہ ہے کہ ماضی کی طرح آج بھی بلوچ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ بلوچ قومی تحریک میں حصہ ادا کررہی ہیں۔ پاکستان کے موجودہ عورت مارچ کے موقف اور ریاستی بیانئے میں لفظی اختلاف کے علاوہ بنیادی طور پر زیادہ فرق نہیں کیونکہ اس میں ریاستی مظالم اور جنگی جرائم کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ حالانکہ بلوچ، سندھی، پختون، مہاجر اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے خواتین ریاستی مظالم کے خلاف سڑکوں پہ احتجاج کررہی ہیں۔ ہمارے بلوچ سماج میں عورتیں اس ریاستی بربریت کے خلاف لازوال داستان رقم کررہی ہیں۔ اگر آج کے دانشور ریاستی طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہے، مگرمستقبل کا بلوچ خواتین، خواتین کی  جرات اور بہادری کو ضرور تاریخ کا حصہ بنائے گا۔ آج سینکڑوں، ہزاروں کی تعداد بلوچ زالبول میدان میں ہیں۔ ایسے سینکڑوں خواتین پاکستانی بربریت کا نشانہ بن کر قتل کئے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کریڈٹ بلوچ خواتین کو جاتا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین پدرسری نظام کے خلاف مظالم اور عدم مساوات کے لئے جدوجہد کررہی ہیں لیکن بلوچ خواتین ریاستی زندانوں میں اپنے مردوں کی آزادی کے لئے تاریخ ساز جدوجہد کررہے ہیں۔ دنیا میں خواتین کی بنیادی ضروریات زندگی اور برابری کے بارے میں بحث و مباحثے ہو رہے ہیں۔ لیکن مقبوضہ بلوچستان میں اس بنیاد پر مرد و خواتین میں موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ تمام بنیادی ضروریات جیسے صاف پانی، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کی مناسب سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ صنفی تفریق نہیں بلکہ قومی غلامی ہے۔ وسائل سے مالا مال خطے کے لوگ بنیادی سہولیات کے لئے ترس رہے ہیں۔ ایک طرف دولت مند خطے کے مالک حیوانوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں ہر روز بلوچ خواتین کو  تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اغوا کیا جاتا ہے اور قتل کیا جاتا ہے۔ یہ غلامی اور استحصال کا نتیجہ ہے کہ سونے، گیس، کوئلہ اور تیل جیسے قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود بلوچستان کا شمار دنیا کے انتہائی غریب اور پسماندہ ترین خطوں میں ہوتا ہے۔

بی این ایم کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری  نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام تعلیم کسی بھی قوم کے لئے ترقی کا باعث نہیں ہوتا ہے۔ ایک جانب اس نوآبادیاتی تعلیم کے ذرائع انتہائی محدود ہیں تو پاکستان بلوچ خواتین کو اس سے بھی محروم کرنے کے لئے انتہائی گھناؤنی اور نفرت انگیز اقدام کا ارتکاب کررہا ہے۔ بلوچستان کی واحد یونیورسٹی میں ایک چھاؤنی سے زیادہ فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ ریاست نے حال ہی میں خواتین کو بلیک میل کرنے اور تعلیم سے دور رکھنے کیلئے غسل خانوں میں خفیہ کیمرے نصب کئے۔ شدید احتجاج کے باوجود نہ ان کے ذمہ داران کو سزا دی گئی اور نہ ہی ان کا تعین کیا گیا۔ بلوچستان میں خواتین مردوں یعنی اپنے شوہر، باپ اور بھائیوں کی رہائی کیلئے سڑکوں پر ہیں۔ بانک سمی بلوچ، بانک فرزانہ مجید اور دوسری خواتین نے ماما قدیر کے ہمراہ کوئٹہ سے اسلام آباد براستہ کراچی ڈھائی ہزار سے زائد کلومیٹر کی پیدل لانگ مارچ کی۔ بدقسمتی سے اقوام متحدہ کے وعدوں کے باوجود عالمی برادری نے مقبوضہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی شرمناک صورتحال کی تحقیقات یا ان میں بہتری لانے کے لئے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا۔ یہ بات طے ہے کہ قومی غلامی سے نجات کے بغیر بلوچ خواتین کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بڑھتے ہی رہیں گے۔