امریکی دفتر خارجہ کی رپورٹ اور بلوچستان – ٹی بی پی اداریہ

467

امریکی دفتر خارجہ کی رپورٹ اور بلوچستان

ٹی بی پی اداریہ

امریکی دفتر خارجہ کی پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر سالانہ رپورٹ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرق بعید پر سالانہ رپورٹ کے برعکس بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتا ہے۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بلوچستان کی صورتحال اور دو دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھول چکی ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ یا محکمہ خارجہ، خصوصی طور پر امریکہ کی خارجہ پالیسی مرتب کرنے اور چلانے کا ذمہ دار ہے۔ مذکورہ محکمہ ہر سال اقوام متحدہ کے تمام ممالک کی صورتحال پر جدا جدا تفصیلی تحقیقی دستاویز کا اجراء کرتا ہے، اور امریکی کانگریس کے سامنے پیش کرتا ہے۔

پاکستان پر جاری 2019 کی رپورٹ، انسانی حقوق کی پامالیوں پر تفصیلی روشنی ڈالتا ہے۔ مذکورہ دستاویز میں پاکستان کے بہت سے مسائل پر بات کی گئی ہے، تاہم اس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا خصوصی طور پر بھی ذکر ملتا ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے سات حصے ہیں، اور متعدد ذیلی حصے ہیں۔ جبری گمشدگیوں کے ذیلی حصے میں یہ دستاویز بلوچستان سے تعلق رکھنے والی بلوچ خاتون حانی گل بلوچ اور انکی منگیتر محمد نسیم بلوچ کا ذکر کرتا ہے، جنہیں پاکستانی خفیہ اداروں نے کراچی سے اغواء کیا تھا۔ کچھ عرصے بعد حانی گل کو رہا کردیا گیا تھا تاہم انکی منگیتر تاحال لاپتہ ہے۔

رپورٹ کے سیکشن ” سیاسی قیدی” میں خصوصی طور پر بلوچستان کی صورتحال کا ذکر ملتا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار جبری طور پر گمشدہ کیئے گئے بلوچ سیاسی کارکنان کو ” لاپتہ افراد ” کے بجائے ” سیاسی قیدی ” کہا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سنہ 2009 میں ایک عام معافی کا اعلان کیا تھا، لیکن اسکے باوجود بلوچ سیاسی کارکنوں، رہنماؤں اور شہریوں کے غیر قانونی حراست اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ رپورٹ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انکے معلومات کے مطابق بلوچستان میں لوگوں کو لاپتہ کرنے میں مزید تیزی آگئی ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو ریفرنس کے طور پر پیش کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے، مذکورہ انسانی حقوق کی تنظیم ان حکومتی دعوؤں کی تردید کرتی ہے کہ 200 کے قریب جبری طور پر لاپتہ کیئے گئے بلوچوں کو رہا کیا گیا ہے، بلکہ جنوری تا جون 2019 تک محض 100 افراد کو رہا کیا گیا ہے، جبکہ اس سے کئی گنا زیادہ کو لاپتہ کیا جاچکا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں پولیس اور آرمی کے نفری میں اضافہ کیا گیا ہے اور آپریشن معمول بن چکے ہیں۔

دوسرے اہم مسئلہ جن کا رپورٹ میں ذکر ملتا ہے اور جن کی سخت مذمت کی گئی ہے، وہ بلوچستان میں پولیو ورکرز کا قتل، اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنیں، جس میں خاص طور پر ان ویب سائٹس کی بندش کا ذکر ہے، جو بلوچستان کی آزادی کی وکالت کرتے ہیں۔ اس بات کی بھی مذمت کی گئی ہے حکومت بہت سے غیر سرکاری اداروں کو بلوچستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی اور انہیں این او سی جاری نہیں کررہی۔

اس رپورٹ میں بلوچستان کی قوم پرست سیاسی پارٹیوں اور طلباء تنظیموں کو خفیہ اداروں کی جانب سے نشانہ بنانے اور حراساں کرنے کا بھی ذکر ہے۔ رپورٹ کے اختتام میں بلوچستان میں کوئٹہ کے ہزارہ برادری کو محصور کرنے کا بھی ذکر ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کی رپورٹ بلوچستان کے کوئلہ کانوں میں جبری مزدوری اور بچوں سے مزدوری لینے کا بھی ذکر کرتا ہے۔ گوکہ مذکورہ رپورٹ میں بلوچستان خاص طور پر اندرون بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے اصل اعدادوشمار رسائی نا ہونے کی وجہ سے شامل نہیں ہیں، لیکن ایک معتبر ادارے کی جانب سے بلوچستان کی انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دینا ایک خوش آئیند قدم ہے۔