ہم کیوں خاموش ہیں؟ – داد جان بلوچ

88

ہم کیوں خاموش ہیں؟

تحریر: داد جان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بولان میڈیکل کالج کی نجکاری کے خلاف بلوچ طالب علموں کے پر امن احتجاج پر دھاوا اور انکی گرفتاری بلوچستان بالخصوص بلوچ طالب علموں کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ بلوچستان کے بلوچ طالب علم گذشتہ ساتھ دہائیوں سے اس ظلم و بربریت کے سائے میں پلے بڑھے ہیں۔ دو ہزار نو کے بعد بلوچ سیاست کی شعوری جدوجہد نے غیر فطری ریاست کی موت کا اعلان کیا جس سے حواس باختہ ہو کر ریاست نے سرچ اینڈ ڈسٹرائے پالیسی کا آغاز کرکے بلوچ قوم کے سافٹ پاور طالب علموں، ڈاکٹرز، استادوں، پروفیسرز، وکلا، اور سیاسی کارکنوں کی اغوا نما گرفتاری اور مسخ شدہ لاش پھینکنے کا آغاز کیا۔

اغوا نما گرفتاری اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی سے ایک نیا جذبہ ابھر آیا جس سے بلوچ سیاست مدہم ہونے کے بجائے مذید پختگی حاصل کرتی چلی گئی۔ ایک طرف بلوچ سیاست سے جڑے بلوچ جہد کاروں کی سیاسی جدوجہد اور دوسری طرف بلوچ جنگجووں کی دلیرانہ کاروائیوں نے ریاست اور اسکے اداروں کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں تو غنودگی کے عالم میں خواتین اور بچوں کی اغوا نما گرفتاری کا آغاز کیا گیا حالانکہ عالمی قوانین دنیا کی کسی فوج کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ جنگ میں خواتین اور بچوں کو حبس بے جا میں رکھے لیکن عالمی قوانین سے نابلد یہ بے شرموں کی ٹولی ان قوانین کا احترام کرنے کے بجائے انہیں مسلسل روندتی جارہی ہے۔

آج بولان میڈیکل کالج میں پیش آنے والا واقعہ جس میں بلوچ طالبات کو پولیس گرفتار کرکے تھانے لے گئی اور شنید ہے کہ ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ ان واقعات میں روبوٹ پارلیمنٹرینز سمیت گورنر ملوث ہے جنکی ڈوری بیرونی عناصر کے ہاتھ میں ہے، جو گذشتہ ستر سالوں سے بلوچ طالب علموں سے انکے جینے اور پڑھنے کا حق چھیننے کی کوششوں میں ہیں۔

شاید ریاست اس بات کا علم نہیں رکھتی کہ غلام قوم سے آپ ہر طرح کے حق چھین سکتے ہو لیکن موت کا حق ان سے کبھی چھین نہیں سکتے۔ اور جس قوم کے نوجوان بچے اور بچیاں اپنے حق کے لئے گرفتاری تشدد اور موت سے خوفزدہ نہیں ہوتے ان کا حق کوئی طاقتور ریاست بھی نہیں چھین سکتی جبکہ یہ غیر فطری ریاست ان طاقتوں کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتی اسکی کیا مجال کہ وہ بلوچ قوم کی آزادی سے پڑھنے کے حق کو چھین سکے۔

بحثیت ایک قوم ہمارے لئے یہ اچھنبے کی بات نہیں کہ ریاست پاکستان ہمارے طالب علموں کو گرفتار کررہی ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ بلوچ قوم کے نام پہ سیاست کرنے والے نام نہاد قوم پرست اور عوام کیوں خاموش ہے؟ کیوں ان سوشلسٹوں اور فیمنسٹوں کو سانپ سونگھ گیا ہے جو معمولی سے معمولی واقعات پہ لال لال کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے؟

آج یہ ریاست بلوچ بچیوں کو بھی اپنے حق کے لئے احتجاج کا حق نہیں دی سکتی تو اس سے بہتری کی امید رکھنا محض وقت کا ضیاع ہے اس کے لئے پوری بلوچ قوم کو یکجا ہو کر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ریاست اور اسکے اداروں کو یہ ہمت نہ ہو کہ وہ بلوچ خواتین اور بچیوں کو گرفتار کرکے حبس بے جا میں رکھے۔

آج بلوچستان میں روڈ حادثات میں ہزاروں افراد کی اموات ہوں یا کینسر اور دیگر موذی امراض سے بلوچ فرزندوں کی ہلاکت ہو یا ریاستی فوجی آپریشن کے ذریعے بلوچ نسل کشی ہو یا ویکسین پلانے کے نام پہ نسل کشی ہو۔ منشیات فروشوں کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کی ذہنی صلاحیت کو زنگ آلود کرنا ہو یا مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں بلوچ نوجوانوں کی ذہنی ٹارگٹ کلنگ ہو ان میں براہ راست ریاست ملوث ہے کیونکہ یہ ادارے بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے پوری طرح سرگرم عمل ہیں اور انکے خلاف جدوجہد ہی ہماری آزادی کے لئے اولین قدم ہوگا اور خاموشی ہماری موت کا برملا اعلان ہے۔

آج ہمیں یکجا ہونا ہوگا اور اس خاموشی کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنا ہوگا وہ خاموشی جس نے دشمن کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ جب چاہیں ہمارے نوجوانوں کو لاپتہ کردیں اور جب چاہیں بلوچ طالبات کو گرفتار کریں۔

آج ہمیں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کا مدد گار بننا چاہئیے۔ آج خاموشی نہیں بلکہ شعوری جذبے کی ضرورت ہے جسکے شور سے ریاست کی در و دیواریں ہل جائیں۔

آج بلوچستان کی سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لیں تو جارج برنارڈ شاہ کا یہ قوم پوری منظر نامے کی عکاسی کے لئے کافی ہوگا۔

جارج برنارڈ شاہ کہتے ہیں کہ دو فیصد لوگ سوچتے ہیں تین فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ وہ سوچتے ہیں جبکہ پچانوے فیصد لوگ مر کر بھی نہیں سوچیں گے۔ آج بلوچستان کے دو فیصد لوگ جو سوچتے اور عمل کررہے ہیں جبکہ تین فیصد لوگ جو عمل کے بجائے باتوں کے شیر ہے جو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ریاستی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہیں جبکہ پچانوے فیصد عوام خوف کے غلبے میں رہنے کی وجہ سے خاموش ہیں جنہیں سوچنے کا عمل بھی خوفزدہ کردیتا ہے۔

بلوچستان میں انٹیلکچول بحران نہیں بلکہ خوف کا غلبہ ہے جس نے نہ صرف ڈر اور خوف کے ماحول کو جنم دیا ہے بلکہ منافقت کو بھی ہوا دی ہے اور اس تمام صورتحال کی ذمہ دار ریاست نہیں بلکہ ہماری خاموشی ہے۔

آج تمام بلوچ طالب علموں اور خاص کر آزادی پسندوں کو سوچنا ہوگا کہ عوام کی خاموشی کو شعوری شور میں کیسے تبدیل کرنا ہے۔اگر ہم نے اس خاموشی کا علاج دریافت نہیں کیا تو آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔