گوادر کی ترقی کے لئے نوجوان خود کو عملی میدان میں تیار کریں – بی ایس او

113

 بی ایس او کے مرکزی چیئرمین نذیر بلوچ نے کہا  گوادر کی ترقی میں شامل ہونے کیلئے نوجوان خود کو عملی میدان میں تیار کریں قلم کی طاقت سے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے کی جدوجہد پر بی ایس او یقین رکھتی ہے، نوجوان قوم کے سرمایہ ہیں، کسی بھی معاشرے میں تبدیلی لانے والے طلباء و نوجوان ہیں، جمہوری و سیاسی انداز سے اپنے طلباء کی حقوق کا دفاع کررہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تنظیمی دورے کے موقع پر تربت یونیورسٹی گوادر کیمپس، سید ہاشمی ڈگری کالج گوادر اور مختلف لائبریریوں میں اساتذہ و طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر بی ایس او کے مرکزی رہنماء  خالد بلوچ، مرکزی کمیٹی کے رکن ملک اقبال بلوچ، گوادر زون کے جنرل سیکریٹری نصیر نگوری، سابق صدر بالاچ قادر، تربت زون کے رکن حامد الیاس، منیربلوچ و دیگر ان کے ہمراہ تھے۔

چئیرمین بی ایس او نے تربت یونیورسٹی گوادر کیمپس کے ڈپٹی کیمپس کورڈینیٹر حفیظ مبارک، سید ہاشمی ڈگری کالج کے پرنسپل محمد عظیم بلوچ و دیگر اساتذہ و طلباء سے ملاقات کی جبکہ بیچ لائبریری گوادر، جیوز لائبریری  اور گوادر پورٹ کا بھی دورہ کیا۔

ان کا کہنا تھا موجودہ دور تعلیم و شعور کا ہے، گوادر میں رہنے والے طلباء یہاں کی ترقی کے اصل وارث ہیں، بلوچستان بھر میں تعلیم کے مسائل یکساں ہیں، گوادر ڈگری کالج میں اساتذہ و اسٹاف کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گوادر کی واحد ڈگری کالج ہونے کے باجود یہاں تعلیمی سہولیات میسر نہیں ہیں جبکہ حکمران بلند وبانگ دعوے کرتے نہیں تکتے۔

انہوں نے مذید کہا کہ نوجوان مختلف خودساختہ رکاوٹوں اور ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرکے آنے والے کل کیلئے خود کو تیار کریں، زندہ قومیں تمام تر محرومیوں کے باوجود ہار نہیں مانتے بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں  بلوچ نوجوانوں سے ستر سال کے دوران ہونے والی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ادراک کرنا ہوگا، اس ضمن میں جتنے بھی غلطیاں ہوئیں اب ان کو دہرانے کی گنجائش نہیں،ہم ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں جس کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے پاس قلم ہی بہترین ہتھیار ہے، نوجوانوں کو مسقتل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، بی ایس او طلباء کی حقوق کا تنظیم ہے،ہم شعوری و علمی جدوجہد کے ذریعے اپنی بقاء کا جنگ لڑرہے ہیں، گوادر کی جیواسٹریٹیجک حیثیت غیر معمولی ہے، یہاں کے نوجوان ہی اس خطے کے محافظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبعلم تعلیمی محرومیوں کے باوجود اپنی کیرئیر کو جاری رکھیں۔