کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا، بی ایم سی طلباء اور ملازمین گرفتار

210

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تحریک بحالی بی ایم سی نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا، دھرنے میں میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات سمیت بی ایم سی ملازمین نے شرکت کی۔

بلوچستان اسمبلی کے سامنے کئی گھنٹوں تک جاری دھرنے کے شرکا کو پولیس نے گرفتار کرلیا جن میں طلباء اور ملازمین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔

ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ گرفتار طلباء اور ملازمین کو بجلی گھر تھانہ کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے جبکہ تھانے میں بھی مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

خیال رہے گذشتہ روز بھی گورنر ہاؤس چوک پر احتجاجی دھرنہ دیا گیا جس میں میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات، ورکرز ایسوسی ایشن اپیکا نے شمولیت کی۔ طلباء تنظیموں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزشن، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بلوچ ڈاکٹر فورم اور ایم ٹی اے کے رہنماوں و کارکنان بھی شامل تھے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بی ایم سی طلباء کے سکالرشپس میں کٹوتی اور بندش حوالے سے تحفظات دور کیئے جائے، فیسوں میں بے تحاشہ اضافے اور طلباء کے خلاف ٹرمینیشن آرڈر کینسل کیئے جائیں اور میڈیکل سیٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم کو بند کرنے سمیت ایکٹ 2017 میں ترمیم کرکے بی ایم سی کو یونیورسٹی سے علیحدہ کیا جائے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آج ہونے والی گرفتاریوں کے حوالے سے تاحال کچھ نہیں بتایا گیا ہے دوسری جانب سے خواتین مظاہرین دیگر  طلباء کے ساتھ احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔