کلچر ڈے نہیں ثقافتی انقلاب کی ضرورت ہے – انور ساجدی

469

کلچر ڈے نہیں ثقافتی انقلاب کی ضرورت ہے

تحریر : انور ساجدی 

دی بلوچستان پوسٹ

گھٹن اور غلامانہ ماحول میں سوچ و فکر کے دریچے بند ہوجاتے ہیں اور کسی کو سمجھائی نہیں دیتا کہ اس ماحول سے کیسے نکلنے یا اسے اپنے موافق بنانے کیلئے کیا حکمت اختیار کی جائے کسی معذرت کے بغیر اس حقیقت کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ اس وقت بلوچستان کے جو حالات ہیں انہوں نے جہاں پورے سماج کو ناگفتہ صورتحال سے دوچار کردیا ہے وہاں اس کے سب سے زیادہ اثرات سیاسی جماعتوں پر مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر سیاسی جماعتیں اپنی وقعت کھوکر غیر سیاسی تنظیموں کی شکل اختیار کرگئی ہیں اسی سبب بعض لوگ ان جماعتوں کو این جی اوز کا نام بھی دیتے ہیں اگر غور کیاجائے تو سارا دوش ان جماعتوں کا بھی نہیں ہے کیونکہ جدید کالونیئل نظام میں آہنی گرفت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ حدود وقیود سے باہر نکلیں اس سلسلے میں ڈھیر ساری مثالیں موجود ہیں جب نیشنل پارٹی کی بنیاد ڈالی گئی تو مولانا عبدالحمید بھاشانی کی شرکت کے بعد یہ ملک کی سب سے بڑی اور نمائندہ سیاسی جماعت بن گئی لیکن مقتدرہ نے اسکے خلاف غداری یا حب الوطنی کا کارڈ استعمال کیا اس زمانے میں بار بار الزام عائد کیاجاتا تھا کہ خان عبدالغفار خان آزاد پختونستان بنانے کی سازش کررہے ہیں حالانکہ یہ الزام سراسر غلط تھا قیام پاکستان کے بعد باچا خان نے ایسی کوئی بات نہیں کی البتہ اپنی وصیت میں انہوں نے یہ ضرور لکھا تھا کہ انہیں جلال آباد میں دفن کیا جائے کیونکہ وہ غلام سرزمین پر دفن ہونا پسند نہیں کریں گے انکی تدفین کے بعد اس واقعہ کو غداری سے تعبیر کیا گیا اور کہا گیا کہ غفار خان نے پاکستان میں دفن ہونا بھی پسند نہیں کیا اس طرح کی باتیں کرنے والے عناصر پختون اور بلوچ احساسات سے واقف نہیں ہیں گوکہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ آج افغانستان اور پاکستان دو الگ اور آزاد ریاستیں ہیں لیکن بادی النظر میں تاریخی لسانی اور ثقافتی طور پر دونوں طرف کے پختونوں کو کبھی جدا نہیں کیا جاسکتا بے شک ڈیورانڈ لائن بیچ میں حائل ہو۔

اسی طرح اگر بلوچ پاکستان ایران اور افغانستان میں منقسم ہیں لیکن وہ بلوچستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں باقی لوگوں کے نزدیک بلوچستان پاکستان کا ایک صوبہ ہے ایران میں بھی اسے صوبے کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ افغانستان میں اسکی حیثیت ایک ولایت کی ہے لیکن اس انتظامی تقسیم کے باوجود بلوچ خطہ کے لوگ اپنے آپ کو ایک وحدت کا حصہ سمجھتے ہیں اور صدیوں سے لسانی تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں منسلک چلے آرہے ہیں اس صورتحال کو باقی لوگ ایک اور تناظر میں دیکھتے ہیں۔

پرانی باتیں اور تاریخی حوالے اپنی جگہ اصل بات مستقبل کی ہے اگر بلوچ تشخص اور وحدت کو خطرات لاحق ہیں تو یہ کن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا دفاع کرے وہ بھی مشکل حالات میں کیونکہ یہاں پر تشخص کی بات کرنا وحدت پر زور دینا اور وسائل کے بارے میں کچھ کہنا غداری کے مترادف ہے کم از کم بلوچ سیاسی جماعتیں یہ نہیں جانتیں کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے انہیں خطرات کا ادراک ضرور ہے لیکن حالات انکی دسترس سے باہر ہیں۔

نئے حالات کاتقاضہ ہے کہ بلوچستان میں ایک کلچرل ریوولیشن برپا کیا جائے اس سے مراد بلوچ کلچر ڈے نہیں ہے جو چند سالوں سے اسپانسرڈ ہورہا ہے اور اس کا مقصد بلوچ قوم کی توہین اور تضحیک کرنا ہے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت بعض عناصر نوجوان مرد وزن کو بلوچی لباس پہنا کر انکی نمائش کا اہتمام کرتے ہیں جس کے بعد دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بلوچ افسردہ اور مایوس نہیں ہیں بلکہ وہ بہت خوش اور اپنے اچھے حالات پر محور رقصاں ہیں یہ عمل ایک مذاق ہے اور بلوچ احساسات اور مزاحمت سے توجہ ہٹانے کی ایک دانستہ کوشش ہے جو لوگ اس میں حصہ لے رہے ہیں انکی حیثیت کٹھ پتلی کی ہے جن کے دماغ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں اور انہیں قومی فکر دامن گیر نہیں ہے ڈھول باجے پر جولوگ ناچتے ہیں وہ ان سیاسی رہنماﺅں سے مختلف نہیں ہیں جو ہر بار الیکشن کے نام پر ہونے والے ڈرامے کا کردار بنتے ہیں اور حسب منشا استعمال ہوتے ہیں انکے پیش نظر یہاں کے عوام نہیں ہیں بلکہ وقتی سیاسی و مالی فوائد ہیں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک دائرہ سے باہر جانے کی جرات نہیں کرسکتے لیکن کسی میں جرات نہیں کہ وہ مخصوص ڈرامے کا پارٹ نہ بنیں۔

یہ بات سب پرعیاں ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق بری طرح سے پامال ہیں جو دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ہیں یہاں بلوچستان سے مراد مشرقی و مغربی بلوچستان دونوں ہیں مغربی بلوچستان کا تو اتنا براحال ہے کہ وہاں پر جانوروں کے زیادہ حقوق ہیں حتیٰ کہ وہاں پر انسانوں کو ڈھنگ سے پھانسی بھی نہیں دی جاتی بلکہ کرینوں پر لٹکا کر بعداز مرگ بھی انکی توہین کی جاتی ہے ایسا عمل تو انگریزوں نے1857ء کی جنگ آزادی کے بعد دہلی میں کیا تھا جب ہزاروں لوگوں کو درختوں پر لٹکا کر پھانسی دی تھی۔

مشرقی بلوچستان میں تو نازیوں کی طرح لوگوں کو غائب کیا جاتا ہے تاکہ لوگ زیادہ تکلیف محسوس کریں یہاں پر معاشرتی اور معاشی حالات جان بوجھ کر تنگ کئے گئے ہیں کھربوں روپے کا بجٹ ہے لیکن روزگار کے ذرائع پیدا نہیں کئے جاتے جس کی وجہ سے لوگ ایران سے تیل لاتے ہیں اور ہزار بار ذلیل ہوتے ہیں لیکن اس کاروبار کا منافع بھی آقاﺅں نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔

معاشرتی حالات بدترین ہیں روٹی کی بجائے منشیات عام مل جاتی ہیں اپنے ہی ملک میں آزادانہ نقل و حمل ممنوع ہے ہر جگہ شناختی کارڈ چیک کرکے جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اس طرح مجموعی طور پر یہ بنیادی انسانی حقوق کا ایک مضبوط کیس بنتا ہے، کیونکہ اہل بلوچستان کے ساتھ انسان تو کیا جانوروں سے بھی بدترین سلوک کیا جاتا ہے بدقسمتی سے یہاں کی سیاسی جماعتوں نے ایک ہوکر کبھی انسانی حقوق کا مسئلہ زوردار طریقے سے نہیں اٹھایا سب نے اپنی الگ الگ دکانیں سجائی ہیں اور سیاست کے نام پر پیٹ پالنے کا کام کررہی ہیں بے شک اس ریاست میں آہنی گرفت کسی جماعت یا تنظیم کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی لیکن اس گرفت کے باوجود راستے نکالے جانے چاہئیں ضرورت ایک ایسے سوشل ورک فورس کی ہے جو ڈیٹا اکٹھا کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے اعداد و شمار جمع کرے گوکہ ہیومن رائٹس والے اپنی رپورٹ بناتے ہیں لیکن اس رپورٹ کو لیکر کوئی آواز نہیں اٹھایا جاتا اگر زیادہ اٹھائے تو ناموافق حالات پیدا کردیئے جاتے ہیں غالباً پی ٹی ایم کے ساتھ سلوک دیکھ کر لوگ زیادہ خوفزدہ ہیں حتیٰ کہ محمود خان اچکزئی بھی کبھی کبھار کوئی بیان دے کر خانہ پری کررہے ہیں ان کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے بنیادی انسانی حقوق کو بھی لسانی خانوں میں بانٹ رکھا ہے انہیں ہزارہ صوبہ پشتون وسائل کیخلاف سازش دکھائی دیتا ہے لیکن ریکوڈک اور گوادر کے وسائل کی لوٹ مار پر وہ خاموش ہیں وہ دریائے آمو تک معاملات کا ذکر کرتے ہیں لیکن اپنے پہلو میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

حالات بہت ہی نامساعد ہیں ساری نظریں بلوچستان کے وسائل پر ہیں سب زبانوں کو خاموش کردیا گیا ہے تاکہ ان وسائل کے حصے بخرے پر کوئی آواز نہ اٹھائے حالانکہ وسائل لے جانے ہیں تو غریب اور بے بس مالکان سے کم از کم بیٹھ کر بات تو کریں لیکن خوف طاری کرکے اپنے گماشتوں کے ذریعے سودا طے کیا جارہا ہے ان گماشتوں کی کیا حیثیت ہے یہ تو آنکھیں بند کرکے انگوٹھا لگانے والے لوگ ہیں لہٰذا بلوچستان کے لکھے پڑھے نوجوانوں کو چاہے وہ سیاسی پارٹیوں کے کارکن ہوں دانشور ہوں یا سماج کے فعال اراکین ہوں انہیں مل کر ایک نیا میثاق طے کرنا چاہئے یہی ایک ثقافتی انقلاب کی بنیاد بنے گی اس وقت سیاست کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سیاست آزاد لوگ کرتے ہیں۔فی زمانہ کوئی سیاست نہیں ہے مخصوص انتخابات میں حسب ضرورت سیٹیں الاٹ کی جاتی ہیں تاکہ دنیا دیکھے سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔

یاد رکھنے کی بات ہے کہ جبر وصبر کا ایک ثقافتی انقلاب زور آور طاقتوں نے برپا کیا ہے انہوں نے قلندر کے چوہوں کا ایک ٹولہ پیدا کیا ہے جنہوں نے سیاست کے نام پر پورے سماج کو غیرسیاسی ڈھانچے میں ڈال دیا ہے یہ لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں انکو اپنی پرتعیش ذاتی زندگی کی پرواہ ہے جو انہیں میسر کردی گئی ہے ان کی بلا سے کہ انکے وطن کے ساتھ کیا ہوتا ہے لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ساحل کے ساتھ کیا ہوتا ہے وسائل کے ساتھ کیا ہوتا ہے مثال کے طور پر ساحل کے ساتھ جو بدسلوکی ہورہی ہے وہ ماحول کی تباہی ہے آب و ہوا کی تباہی سمندر کی تباہی ہے اور سمندری حیات کی بربادی ہے یہ بذات خود ایک المیہ ہے اگر اپنے وسائل کا ایک تھوڑا ساحصہ خیرات کے طور پر دیا جاتا ہے وہ بھی اس مخصوص طبقہ کو تو یہ بھی لاکھوں انسانوں کے ساتھ زیادتی ہے یہ تو معلوم ہے کہ بلوچستان میں جو پرانے دانشور تھے وہ از کار رفتہ ہوچکے ہیں انکی جگہ ضرور نوجوان آئے ہونگے جو زیادہ صلاحیتوں کے حامل ہونگے ان لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ کس طرح انسانی حقوق اور ثقافتی سطح پر اذہان میں کوئی تبدیلی لاسکتے ہیں، آنکھیں بند کرکے خود کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینے سے یہی بہتر ہے کہ سوچا جائے، غوروفکر کیا جائے تاکہ بند دریچے کھل سکیں گھٹن کا ماحول ختم ہوجائے اور ساحل سے کوئی بادصبا چلے کوئی تازہ جھونکا آئے۔

جن لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جو قوم سوگ میں ہے ماتم میں ہے اس کا کیا کلچرڈے منایاجائیگا یہ لوگ تو ڈھول کی تاپ پر رقص کرنے والے معصوم لوگ ہیں انکے اس معصومانہ عمل کو بھی بیچ بازار میں فروخت کردیاجاتا ہے کیونکہ اس نظام کا یہی خاصہ ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔