پاکستانی نظام تعلیم غلامانہ ذہنیت پیدا کرتاہے – چیئرمین خلیل بلوچ

115

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے کوئٹہ میں بلوچ طلباء پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نوآبادیاتی تعلیم سے بھی محرومی کا حربہ اور جبرکا تسلسل قرار دیا۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی نظام تعلیم انسانی صفات سے محروم کرتا ہے۔ بلوچ، بلوچیت اور بلوچستان سے بیگانہ کرتاہے، یہ نظام غلامانہ ذہنیت پیدا کرتاہے، غلام نظام کو چلانے کے لئے کَل پُرزے پیدا کرتاہے لیکن یہ بلوچ قوم پرستی کا طاقتور جذبہ ہے کہ اسی نظام میں بھی بلوچیت سے سرشار آواز ابھرتے ہیں، بلوچی مڑاہ کے ساتھ میدان حق و باطل کا رخ کرتے ہیں، نظام کے اندر رہ کر بھی قابض کو اس کا مکروہ چہرہ دکھاتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ بلوچ فرزندوں کو اس نوآبادیاتی نظام تعلیم سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ سینکڑوں اسکول و کالجوں پر آرمی کا مکمل قبضہ ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی نازی کیمپ کا منظر پیش کرتاہے۔ اس کے باوجود پاکستان خائف ہے کہ اس مکروہ نظام میں بلوچ طلبا کو تعلیم کی اجازت دی گئی تو یہ بھی اس کا موت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یہی خوف اور قبضہ گیریت کا غرور ہمیں مختلف صورتوں میں نظر آتا ہے۔ چیئرمین ذاکر مجید، چیئرمین زاہد بلوچ،شبیر بلوچ سمیت ہزاروں طلبا زندانوں میں بند اذیت سہہ رہے ہیں۔ بے شمار شہید کئے جاچکے ہیں۔ بلوچ طلباء اپنے بنیادی حق کے لئے بدترین تشدد اور تذلیل سہہ رہے ہیں۔ ستم کی انتہاء ہے کہ ایک امیر وطن کے طلباء نوآبادیاتی تعلیم کے حصول کے لئے بھی روزانہ کی بنیاد پر قابض کی سنگینوں کا سامنا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے باتھ رومز میں خفیہ کیمروں کی تنصیب سے لے کر طلبا پر تشدد قابض کی بلوچ سے نفرت اور قبضہ گیریت کا وہ بدنما چہرہ ہے جس سے بلوچ کی لہو ٹپک رہاہے۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا بلوچ بیٹی ماہ رنگ بلوچ اور دوسرے طلبا کے ساتھ یارمحمد جیسے کاسہ لیسوں کی ہرزہ سرائی دشمن کے لئے مزید یقین دہانی کا ذریعہ ہے کہ وہ قبضہ گیریت کی بقا اور بلوچ کی تذلیل کے لئے کسی بھی حد تک گرسکتے ہیں۔ ایسے کاسہ لیس گزشتہ ستر سالوں سے یہی کچھ کررہے ہیں۔ لیکن سماجی اور قومی ارتقاء نے انہیں پاکستانی فوجی بیرکوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیاہے۔ یہ یار محمد جیسوں کے لئے موت کا پیغام ہے کہ بلوچ نوجوان انہیں گریبان سے پکڑ کر ان کی اصلیت پوری دنیاکے سامنے عیاں کرتے ہیں۔

چیئرمین خلیل بلو چ نے کہا بلوچ نیشنل موومنٹ طلبا کی اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتاہے اور انہیں مزید استقلال اور منظم ہوکر جدوجہد کی تلقین کرتاہے۔ طلبا کسی بھی قوم کے مستقل کا بہترین معمار ہوتے ہیں۔ انہیں قابض سے خائف ہونے کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ وہ دن دورنہیں جب ظلم، تذلیل اور جبر کے کالے بادل چھٹ جائیں گے اور بلو چ سرزمین پر آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔