میرا رہبر استاد بارگ بلوچ – راہی بلوچ

84

میرا رہبر استاد بارگ بلوچ

تحریر: راہی بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ماہِ فروری بہاران کی آمد میں پرندے درختوں کی دوبارہ نوجوان ہونے کی خوشی میں غزلیں گنگناررہی تھی، اس موسم دل فریباں نے مجھ جیسے مدہوش نوجوان کو جو وطن کی حقیقی سیاست سے دور کسی دوغلے سیاسی جماعت کے پالیسیوں پر اندھا تقلید کیا ہوا تھا اور نظریات کو نوکِ قلم کے ذریعے اشعار اور غزلوں کی زد کرکے خود کو اور اپنے جیسے دیگر نوجوانوں کو گمراہی کی طرف دھکیل رہے تھے۔

واقعی! زندگی کیسی کروٹ بدل لیتی ہے، پتہ ہی نہیں چلتا اسی طرح میرا ضمیر، سوچ، فکر اور وطن دوستی کا فلسفہ ایک گمنام غار کی اندھیروں میں قید تھا۔ جسکا میں خود بھی متلاشی نہیں تھا یا شاید میرے اندر کے اُس ڈر اور خوف جو روزانہ میرے جیسے کئی نوجوانوں کی بوری بند لاشیں دشت، توتک، بولان، مند یا وطنِ بلوچستان کے دوسرے علاقوں کو اپنا خون دیکر آزادی کی للکار کو زبان عام کردینے والے تھے، جس نے مجھے خاموش تماشائی بنایا ہوا تھا یا آرام دہ زندگی نے کبھی قومی جدوجہد کو سمجھنے کا موقع نہیں دیا۔

ایسے گمنامیوں کی وادی میں گم میرے جیسا بدمست کب نظریاتی سمندروں کی کشتی میں سوار ہوا معلوم ہی نہیں ہوا یا شاید وہ ملاح ہی کا فنِ کمال تھا، جس نے مجھے ان نظریاتی لہروں کا نظر کردیا اور مجھے میدان جنگ میں کمربستہ ہونے کیلئے تیار کیا اور اب میں اپنے نظریات کو قلم کی نوک سے رخ دینے کا فیصلہ کرنے والا ہی تھا مگر اس ملاح نے وطن کی فضاوں میں اپنے خون سے خوشبو بکھیر دیا۔

شہید نورالحق بلوچ عرف بارگ میرے استاد، میرا رہنما، میرے نظریاتی ساتھی تھے ، فروری وہ مہینہ ہے جس نے میرے استاد کو مجھ سے جسمانی طور پر جدا کردیا، مگر اس رہنما کی مجھ سے پیار بھری باتیں، وہ محبتیں اور نظریاتی بحث و مباحثہ جو مجھے زلفوں کی اسیری سے نکال کر وطن سے محبت کرنے پر مجبور کردیا اور میرے اندر کی وجودیت خود مجھ سے سوال کرنے پر مجبور ہوگیا کہ اس وطن کے ان قربانی بھری داستانوں میں تم کہاں کھڑے ہو؟

شہید سامراجیت کی خلاف اس جنگ میں نہ صرف مورچے اور بندوق سے بخوبی واقف تھے بلکہ تنظیم سازی، جنگی طریقے، دشمن کے مورچوں میں ہلچل مچانا، اور ریاستی دہشت گردوں اور ان کے خفیہ کارندوں پر خوف طاری کرنا اور عوام کو یقین دلانا کہ بلوچ قوم کی یہ فوج ہمہ وقت اپنے ہم وطنوں کے دکھ و درد سے واقفیت رکھتے ہیں اور ان کے احساس کو محسوس کرنا بارگ جان کے وطن دوستی اور جنگی سپاہی ہونے کی لازوالیت کو بیان کرتا ہے.

بارگ جان قومی جدوجہد کے مسلح محاذ کے تکلیفوں، دکھوں، اور کھٹن راستوں سے بخوبی آگاہ تھا، مگر وہ اپنی حسین چہرے اور عشق وطن میں ان سب تکالیف اور مصائب کو چھپا کر قومی مستقبل کے سوچ کو پروان چڑھانے میں کمربستہ تھا اور شاید یہی وجہ ہے جو بارگ جان کو دیگر نوجوانوں سے ممتاز کرتا ہے، جو چائے کی چسکی اور سگریٹ کی کش سے مسرور لینے کی کوشش کر کے خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔

بارگ جان جیسے نظریاتی دوست جو بہ یک وقت کئی محاذوں کو اپنے وسیع حکمت عملیوں سے سنبھالے ہوئے تھے، اس طرح ان کا جدا ہونا کسی بڑے سانحے سے کم نہیں ہے، مگر بارگ جان نے اپنے حصے کا کام بخوبی سرانجام دیا، جس میں نہ صرف بی ایس او جیسی متحرک تنظیم کو خاران میں بحال کیا بلکہ بلوچستان اور سندھ کے محاذ پر بھی بی ایس او کی فعالیت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے حیدرآباد زون کو فعال کردیا.

بارگ جان کی جنگیں محاذ پر بہادری، ہر مشن کیلئے صف اول میں کھڑا ہونا، ان کی کتب بینی، اقوام عالم سے باخبری سمیت اس خطے کی صورتحال اور بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کو جاننا شہید کو نمایاں کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ کیلئے راج کر رہے ہیں، ہم اس سے بات کئے بغیر رہ نہیں سکتے تھے، مگر آج وہ ہم سے جسمانی طور بہت دور چلے گئے، اب ہمیں شہید کی مشن کو آگے لے جانا ہے، ہمیں عزم کرنا ہے کہ ان کی محنتوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، اب قوم میں شعور آ چکا ہے کہ ہمارے حقیقی مسائل کیا ہیں اور کیسے ان سے نمٹنا ہے۔

بارگ جان کی 19 فروری 2018 میں شہادت نے شدید کرب میں مبتلا کردیا تھا، بارگ جان کی ہر بات فلسفیانہ انداز میں ہوتا تھا۔ جو میرے دل میں ہے اب اس فلسفے کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا جو بارگ جان اپنی محبتوں سے پیدا کرکے میرے اندر نظریات کی تناور درخت لگادی ہے جو اب ہمیشہ شہید کی بات کو یاد کرکے روزبروز سبز اور پھل دار ہوتی جارہی ہے۔

بلوچ قومی آزادی کی دفاع میں دشمن کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنے والے اور آخری گولی اپنے جسم میں خود پیوست کرنے والے بارگ بلوچ اور دلجان بلوچ ہیں

آج کے یوم میں شہید دلجان اور شہید بارگ جان کی تراسانی کے محاذ پر دشمن سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے اور دشمن کے مورچوں پر ہمیشہ کرب تاری کرنے سے ہم جیسے لوگوں کی دلوں میں جو پاکستانی بربریت کا شکار ہوئے ہیں شہداء کی عزت اور مقام کو ہمیشہ زندہ کردینے والا ہے۔

شہداء کی آج یوم شہادت پر قوم ان کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔