منشیات کیونکر بلوچستان میں؟ – زہرہ جہاں

83
تصویر: حامد دوست فوٹو گرافی

منشیات کیونکر بلوچستان میں؟

تحریر: زہرہ جہاں

دی بلوچستان پوسٹ

سب سے پہلے, حال ہی میں ریاستی ظلم کا شکار ہونے والے نوجوان شہید سمیع مینگل کے اعزاز میں محترم اھوگ گل (مرحوم) و استاد مرید بلوچ کے دو اشعار:
مہ جیڑیتے ما زمینے درچکانی سبزہ گا پا
وہد گوازینتے چرس و بنگ ہا گوڑا بگوشتے
(اھوگ گل)

خل چرس و شرابے بھنگ کن سر آتے نی ہل
دسکان باڑو جنگ تننگ مشغلہ نا خاچ دسکا
(مرید بلوچ)

کچھ دن پہلے خضدار سے کچھ نوجوان شال کی طرف منشیات کے خلاف جہاد کرنے پیدل چل پڑے. انھیں خوب داد و پذیرائی ملی. جہاں جہاں سے گذرتے گئے نوجوان انھیں کندھا دیتے گۓ. ان کو یہ حوصلہ دیتے گۓ کہ یہ جنگ ہم سب کی ہے. اس کے خلاف سب کو ایک ہونا ہی پڑیگا. دنیا کے ساتھ ہم پلہ ہونے کے لیۓ ہمیں اسے ختم کرنا ہی پڑیگا. نوجوان نسل کی بقا کی خاطر اسے جڑ سے اکھاڑنی ہی پڑیگی.

غالباً یہ نوجوان قلات و مستونگ کے بیچ میں تھے کہ خبر آئی کہ نوشکی میں ایک نوجوان, سمیع مینگل, نے منشیات کے خلاف جنگ میں جان کی قربانی دی ہے. مجھے فخر ہوا اور افسوس بھی ہوئی, باقیوں کو دلی صدمہ پہنچا. نوجوان آگ بگولا ہوۓ. احتحاج شروع ہوۓ. سمیع کے نام سے بینرز آگۓ. انصاف کے طلب میں عام عوام کے ساتھ خاص عوام بھی شامل ہوگئے. سیاسی و موروثی جماعتوں کی طرف سے سیاست چمکانے کا سلسلہ شروع ہوا. ایک نہیں چار چار ایم پی ایز کی فاتحہ خوانی پہ شرکت ہوئی. بلوچستان میں خون کی ہولی شروع کرانے والے سالوں سے سوۓ اور بکے جماعت کے لوگوں نے بھی پریس کانفرنس کی. ایسے میں پولیس نے بھی غم میں شریک ہونے کا شرف حاصل کیا.
لیکن…لیکن!

کسی نے یہ نہیں سوچا کہ چار اضلاع کے سربراہ کمشنر رخشان ڈویژین ,جس کے سامنے سمیع مینگل نے منشیات فروشوں کے خلاف آواز اٹھایا تھا, اس نے کیونکر کوئی بروقت ایکشن نہیں لیا؟

کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہر ریاستی ڈھول پہ چاپ کرنے والے ریاستی سیاسی جماعتوں نے کیونکر سمیع کے عرض کو سن کر ان سنی کردی؟
کسی یہ نہیں سوچا کہ وہ سردار جو ہر پاکستانی مخصوص دن پہ ٹولے کے ساتھ بازار میں پیدل مارچ کرتے ہیں, کشمیر کے لیۓ چیخیں مارتے ہیں, فراڈی کرکٹرز کو دستار پہناتے ہیں اور مودی کے سر پہ 10 کروڑ کا انعام رکھتے ہیں تو کیونکر سمیع کے موت پر انھیں سانپ سونگھ گیا؟

کسی نے یہ نہیں سوچھا کہ جو سردار قوم کی بیٹیوں کو بجاۓ انکا حق دینے کہ اسے گھر میں چھپ کے بیٹھنے یعنی ظلم سہنے کا تلقین و نصیحت کرتا ہے. گھر سے باہر اپنے شرعی, اصولی, قانونی و بنیادی حقوق مانگنے سے روکتا ہے وہ کیونکر منشیات فروشی کو ختم نہیں کرتا ہے.وہ کیونکر اس ناسور سے نہیں روکتا ہے معاشرے کو؟

نوشکی ایک چھوٹا سا علاقہ ہے. سب کو سب کا پتہ ہے. سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود کیونکر کسی نے آواز نہیں اٹھایا اس کے خلاف؟ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہر کام میں ٹانگ اڑانے والے ایف سی کیمپ کے باہر احتحاج کے باوجود کیونکر اس معاملے میں انہوں نے ہاتھ نہیں ڈالا؟

کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دنیا کی لمبر 1 ایجنسی و فوج جس سے کوہی بچ نہیں سکتا یہ منشیات فروش کیسے اور کیونکر بچ نکلے؟ احتحاج کرنا, اپنے حق کے لیۓ آواز اٹھانا ہر طرح کے فورم پہ اچھی بات ہے بلکہ بہت ہی اچھی بات ہے لیکن یہ مسئلوں کا حل نہیں ہے اور یہ ہو بھی نہیں سکتا. یہ سب تو ستر سالوں سے ہوتا آرہا ہے. استحصالی و استعماری و قبضہ گیر قؤتیں تو ایسے ہی کرتے ہیں۔ اپنے استحصالیت و قبضہ گیریت کو طول دینے کے لیۓ. یہی تو استعماری ریاست کی خوبی ہے کہ وہ حالات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیۓ ہر طرح سے اس زمین کے باتیوں کو مارتا ہے. کبھی گولی تو کبھی سولی, کبھی منشیات تو کبھی کینسر ,کبھی روڈ تو کبھی سیلاب و قحط سالی اور کبھی خاندانی جنگ تو کبھی قبائلی جنگ میں. اور ہر طرح کی موت میں یہ باور کرانے کی کوشش کراتا ہے کہ یہ میں نے نہیں خدا نے کیا ہے. یہ بھروسہ دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں لیکن خدا آپ کے ساتھ نہیں ہے. یہ قہر میرے طرف سے نہیں یہ تو خدا کی طرف سے ہے. یہ عذاب میں نے نہیں خدا نے نازل کی ہے. یہ موت میں نے نہیں بلکہ خدا نے پسند کی ہے آپ کے لیۓ.

اگر تھوڑا بہت اس معاملے پہ ہمارے نوجوان سنجیدگی, دل و دماغ کے دریچے کھول کے سوچے تو مجھے یقین ہے کہ معاملے کے اصل محرکات و وجوہات و انجام تک پہنچ جائینگے.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔