منتشر بلوچ قوت – میرین زہری

100

منتشر بلوچ قوت

تحریر: میرین زہری

دی بلوچستان پوسٹ

کسی بھی سماج میں نا انصافی ظلم بڑھ جائے تو وہاں مختلف شکلوں میں سماج کی بہتری کے لئے انقلابی جنم لیتے ہیں، وہ اسی سماج میں پرورش پاتے ہیں اور نا انصافیوں سے اثرانداز ہوکر اس کے خلاف جہد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر وہاں سیاسی، سماجی، قومی خواہ ہر قسم کے نظریات جنم لیتے ہیں اور ہر کوئی اس نا انصافی کے خلاف عمل پیرا ہوکر اس کے خلاف کمر بستہ ہوجاتا ہے –

تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہر دور میں جابر، قبضہ گیر، جاگیر داروں و ظالم حکمرانوں کی نا انصافیوں کے بعد انقلابی پیدا ہوئے ہیں، وہ روس میں زارحکومت کے جبر اور ظلم کے خلاف ظہور پانے والے کمیونسٹ تحریک ہو یا ویت نام میں قبضہ گیر کے خلاف آزادی کی جنگ یا پھر صدیوں سے جاری بلوچ قومی تحریک۔ لیکن ہر انقلاب کے لئے ضروری ہے کہ مجموعی طاقت، منتشر رہ کر کوئی بھی سماج ظلم اور نا انصافی کے خلاف لڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے-

اگر ہم منتشر تحریکوں کے بارے میں مطالعہ کریں تو ایک ہی مقصد کے لئے مختلف زاویئے سے اپنے بساط یا کمزور پوزیشن کے ساتھ جہد کرنے والوں کو منتشر کرنے میں دشمن کے نوآبادیاتی پالیسیوں کا کردار رہا ہے، جس کا مقصد اپنے خلاف اٹھنے والے طاقت کو ٹکڑوں میں بانٹ کر یا انہیں اقلیت میں تبدیل کرکے کمزور بنانا اور اپنا قبضہ و ظلم کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔

آج بلوچ قوم بھی اس منتشر طاقت کے ساتھ انگریزوں کے بعد پنجاب اسٹیبلشمنٹ سے قومی شناخت کی بحالی، بنیادی سہولیات اور زندگی جینے کی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں-

آج ہم منتشر طاقت کے ساتھ کبھی تعلیم، کبھی اسپتال، کبھی لاپتہ افراد کے لئے جہدو جہد کرتے ہیں، یہ جان کر بھی ہمارا مسئلہ قومی شناخت ہے، اس ریاست میں جہاں ہماری شناخت کو مسخ کرکے ہمیں ہماری سرزمین سے بے دخل کرکے، ہمارے سمندر، پہاڑ، زمین، صحرا غیروں کے حوالے کئے جارہے ہوں، وہاں اسکول فیسز، روڈ، کینسر اسپتال کے لئے کرائے کے وزیر اور کرائے کے سپاہیوں سے منہ ماری کرتے رہنے سے یا اپنے اصل مقصد سے غافل ہوکر منتشر اور کمزور طاقت کے ساتھ آئینی جدو جہد کا نعرہ لگا کر آئینی حقوق کا ناکام دکھاوا کرتے ہوئے کسی ذی شعور کے ہاں ہم فقط اپنے وقت ضائع کررہے ہیں۔ –

آج ہم درجنوں طلباء تنظیم قوم پرست پارٹیوں، سرداروں، لیڈروں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی اپنی آنکھیں موند کر اصل مقصد سے فرار ہوچکا ہے، جو نوآباد کار کا ہی کرم ہے کہ ہمیں چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا کر حقیقی مقاصد سے دور رکھ سکے اور جسے وہ بخوبی انجام دے رہا ہے، جس کا شکار ہوکر ہمارے کامریڈ اپنے اپنے مسجدوں تک محدود ہوکر عظیم چی گویرا، ہوگوشاویز، نیلسن منڈیلا، پشتون و کرد تحریک کا حوالہ دے کر اپنے قسمت پر افسوس کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ اگر ہم اس کمزور پوزیشن میں ہیں تو اسکی وجہ ہماری یہ منتشر طاقت ہے –

ایسے بٹ کر رہنے سے نا تم اس سماج میں بدلاو لاسکتے ہو نا اسکے خلاف کوئی کامیاب حکمت عملی سر انجام دے سکتے ہو تو ضرورت اس امر کی ہے کہ بنیادی مسئلے سے پیدا ہونے والے چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھنے سے بہتر ہے اس کے خلاف مشترکہ جہد کرکے اسکے جڑھ کو اکھاڑ پھینک دو، جب تم اپنے زمین پر اپنے ساحل وسائل زندگی کے مالک ہونگے تب تم کسی بھی نظریئے کی پاسداری کرنے کے لئے آزاد ہو نا کہ موجودہ وقت میں چھوٹے چھوٹے مسائل پر عظیم انقلابی بن کر تم بدلاو کے امید میں کامیاب ہوسکتے ہو-


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔