ملتان میں بلوچ و پشتون طلبا پہ تشدد قابل مذمت ہے- ایس ایس ایف

58

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے ترجمان شاہجہان بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جامعہ زکریا ملتان میں بلوچ و پشتون طلبا پر غنڈہ  سیاسی تنظیم کی طرف سے مسلسل فائرنگ اور حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

جامعہ زکریا ملتان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے بلوچسستان اور سابقہ فاٹا کے طلبا کوٹے پر زیر تعلیم ہیں جو آئے روز کسی نہ کسی تنظیم کی تشدد کا شکار بنتے ہیں۔

منگل کے روز جامعہ زکریا ملتان کے بس کو روک کر بلوچ پشتون طلبا پہ فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں چار طلبا زخمی ہوئے جن میں بلوچ اور پشتون طلبا شامل ہیں۔

اس سے کچھ روز قبل بھی پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی طرف سے بلوچ ، پشتون طلبا پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں زاہد خان نامی طالب علم گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچ ، پشتون طلبا کے ساتھ یہ تعصبانہ رویہ شروع دن سے لیکر اب تک جاری ہے ، پنجاب پولیس اور جامعہ انتظامیہ خاموش تماشا دیکھ رہے ہیں۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا اسٹوڈنٹ ونگ ہے جو آئے روز جامعہ میں ایسے واقعات اپنے سیاست کو چمکانے کے لئے کرتا ہے کیونکہ انہیں پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اسٹوڈنٹس ونگ کی طرف سے بھی بلوچ طلبا پر ملتان شہر میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں پانچ بلوچ طالب علم بشمول جماعت ہشتم کا ایک طالب علم بھی شامل تھا۔

ماضی میں بھی پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی طرف سے بلوچ طلبا پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کی ویڈیو وائیرل ہوئی تھی جس میں باقاعدہ غنڈہ گرد عناصر بھٹو زندہ باد کے نعرے بھی لگارہے تھے۔

یہ اپنی نوعیت پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل زکریہ یونیورسٹی سمیت پنجاب کے دیگر یونیورسٹیوں میں بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء پر تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس سے قبل لاہور پنجاپ یونیورسٹی میں مذہبی پارٹی کے طلباء ونگ کی جانب سے بلوچ کونسل کے رہنماؤں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا.

ترجمان نے کہا کہ بلوچ ، پشتون طلبہ کے لئے تعلیمی دروازے بند کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب پولیس، پنجاب صوبائی حکومت، وفاق اور حکومت بلوچستان سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ، پشتون طلبا کو محفوظ تعلیمی ماحول مہیا کرنے میں مدد کرے اور مجرموں کے خلاف کاروائی کرکے تعلیمی اداروں کو ایسے شرپسند عناصر سے آذاد کریں .