قلات کے پہاڑوں کا شہزادہ – چاکر بلوچ

115

قلات کے پہاڑوں کا شہزادہ

تحریر: چاکر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہمیشہ زمستان کی یخ ہوائیں، بلوچ قوم پر ناگوار گذری ہیں، چاہے وہ شہید نوابزادہ بالاچ مری کی شہادت کی شکل میں ہو یا شہید حق نواز، دلجان شہید، سنگت امیر المک قلندرانی یا استاد اسلم بلوچ اور اُس کے ساتھیوں کی شہادت ہو، یہ نہ صرف بلوچ قومی تحریک کے لیئے ایک ناقابل تلافی نقصان رہا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات پورے بلوچ قوم کے لیئے ثابت ہوئے ہیں۔

ایسے عظیم مخلص اور ایماندار شخصیات کی وفاداری اور دن رات کے کوششوں، مخلصی، محنت اور لگن سے تحریک اس مقام پہ پہنچنا ہے، ایسے مخلص ساتھیوں کی کمی ان کے درس، تعلیمات، حوصلہ افزائی کی کمی ہر جگہ زندگی کے ہر موڑ اور مشکل وقت میں محسوس ہوتا رہے گا کیوںکہ شاید اگر آج ہمارے درمیان ایسے نڈر اور بہادر ہستی ہمارے درمیان نہیں ہوتے، آج ہمارے حوصلے بھی خطا ہوتے یا ہم مایوسی کا شکار ہوتے، خیال اس بات کا بھی ہے آج ہمارے شہداء کی قربانی ہمارے لیئے ایک چراغ کے مانند ہے، جن کی قربانیوں نے ہمیں سخت سے سخت فیصلے کرنے اور لینے پر مجبور کیا ہے۔

کہتے ہیں دنیا میں وہی عظیم شخص ہوتے ہیں، جنکی زندگی اور خدمات دوسرے لوگوں کے لئے قربان ہوتی ہے، جنکو بزدلی و بہادری کے درمیان فرق کا علم ہوتا ہے، جنہیں ظالمیت ومظلومیت کا احساس ہوتا ہے، جنہیں آزادی و غلامی کا شعور ہوتا ہے، جو محبت و نفرت کے اصولوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔ اور ایسے عظیم شخصیات کی پیدائش سالوں یا صدیوں میں ہوتی ہوگی۔ وہ ماں کتنی خوش قسمت ہوگی، جسکی کوکھ سے ایسا فرزند جنم لے رہا ہو۔ وہ خاندان، وہ دوست و احباب سے خدا کس قدرخوش ہوگا، جنکے نصیب میں ایسے شخصیات کی سنگتی عطا کی ہوگی اور اس سر زمین کی اس وقت کیا کیفیت ہوگی، جس پر بیشمار بے حسوں کے بعد ایک ایسی شخصیت نے قدم رکھا ہوگا۔

انسان اگر ذہنی طور پر کسی کام یا کسی مقصد کے لیے تیار ہو تو اس کے حوصلے ہمیشہ ہمیشہ بلند رہتے ہیں، کوئی بھی فرد اس کے حوصلوں کو پست نہیں کرسکتا، خوف کا وجود اس کے اردگرد بالکل بھی نہیں ہوتا اور وہ شعور کی اس انتہاء پر ہوتا ہے، جہاں خوف کا دور دور تک نام و نشان تک نہیں ہوتا۔

شہید حق نواز بلوچ سے ملاقات اتفاق تھا، یہاں یہ ایک معجزہ تھا، اس سوال کے جواب تک شاید آج تک میں پہنچ نہیں پایا۔ اتنے کم وقت میں اتنا قربت، بھروسہ، یقین اور گھل مل جانا، شاید زندگی میں میرے قریب کوئی ایسا شخص نہیں آیا ہو۔ آج بھی ماضی کے یادوں کو لے کر بیٹھ کر سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں، جس وقت شہید حق نواز کے بہادری کے قصے سامنے آتے ہیں تو کھبی کبھی یہ خیال بھی کافی متاثر کرتا ہے کہ ایک کم عمر نوجوان کے بہادری کے داستان کیا یہ ہمارے لیے چھوڑ کر گئے ہیں، کیا کہیں یہ کوئی خواب تو نہیں، جو بچپن میں ہماری مائیں ہمیں لوری سناتے وقت بہادروں کے بہادری کے داستان سناتے تھے، کیا نوشکی یا بلوچستان میں آج بھی مائیں لوری کے وقت اپنے بچوں کو شہید حق نواز اور اُس کے سفر میں ہمراہ دوستوں کے بہادری کے داستان سناتے ہونگے۔

حق نواز ان باشعور دوستوں میں سے تھا، جس کی مچورٹی، سنجیدگی اس کے قد اور عمر سے بڑھ کر تھا، شہید کی منیجمنٹ اور کوالٹیز آف لیڈر شپ دشمن کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی اور دوستوں کو سنبھالنا مشکل وقت میں دشمن کے چالوں سے بیدار ہونا، کیمپ یعنی وتاخ میں دو سالوں کے اندر کافی چیزیں سیکھ چکا تھا، ہر کام میں آگے بڑھنے کی وجہ سے دوستوں نے وتاخ میں حق نواز کا نام پیار سے سٹو رکھا گیا تھا، کتنا خوبصورت منظر ہوگا جب حق نواز، امیر المک، شہید دلجان بلوچ یہ کہپ رہے ہونگے کہ ہم جیت گئے، ہم قوم کے سامنے سرخرو ہونگے، ہم نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہے، اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں۔

حق نواز جیسے بہادر سپوت نخلستان سے پھیلتی مہک کی مانند ہوتے ہیں، جن کی خوشبو آزادی کی ہواؤں میں تحلیل ہوکر یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ مقصد وہ مقام کس قدر بلند ہیں، جس کے لیئے مسکرا کر ہزاروں حق نواز فنا ہوگئے، جس کے لیے کئی ساتھیوں نے یہ راہ چنا جس پر چل کر وہ دشمن کے شکست کا سامان بنے.

حق نواز سمیت اُن تمام دوست جو اس راہ حق کے لیے اپنے جانوں کا نذرانہ دیئے ہیں، ان سب کی قربانی ہمارے سوچ کو مزید مظبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی درس دیتے ہیں کہ ہمیں آج اپنی سرزمین کے بقا کے لیے اٹھنا ہوگا، ہمیں اپنی ذاتی خواہشات اور زندگی سے نکل کر ایک اجتماعی سوچ کا مالک بننا ہوگا اور ہمیں اپنے اندر یہ تمام صلاحیتوں پر کام کرنا ہوگا، جو دشمن کو مزید نقصان اٹھانے پر مجبور کرے۔

آج بحیثیت ایک جہد کار ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہمیں شہداء کے نقش قدم پر ہمگام ہوکر، ان کے فلسفے کو زندہ رکھتے ہوئے ان دوستوں کے مشن کو پایا تکمیل تک پہنچانا ہے اور اس عزم کا اعادہ بھی کرنا ہوگا کہ ہمیں شہداء کے سامنے سرخرو ہونا ہے کیوںکہ آج نہ صرف شہداء کے امیدوں کو پورا کرنا ہوگا بلکہ اپنے سرزمین مادر وطن بلوچستان کے لیے آخری سانس اور آخری گولی تک لڑنا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔