غداری کے مقدمے: رائے عامہ کو دبانے کا ایک حربہ – ٹی بی پی اداریہ

119

غداری کے مقدمے: رائے عامہ کو دبانے کا ایک حربہ
ٹی بی پی اداریہ

گذشتہ ماہ 27 جنوری کو پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد سے عوامی ورکرز پارٹی اور پشتون تحفظ مومنٹ کے 23 ارکان کو حراست میں لیا گیا۔ وہ پشتون تحفظ مومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کے گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

پاکستان کے ایک ممتاز جریدے نے اس بارے میں لکھا کہ گرفتار شدگان اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھے، جو برطانیہ اور پاکستان کے نمایاں جامعات جیسے کے “لمز” سے فارغ التحصیل تھے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے، جس شخص کیلئے وہ احتجاج کررہے تھے، اور تمام احتجاجیوں پر غداری کے مقدمات دائر کیئے گئے ہیں۔ ایک اور حالیہ واقعے میں تین سو طالب علموں پر بھی غداری کے مقدمات دائر کیئے گئے ہیں، وہ گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان کے شہر لاہور میں طلباء حقوق کیلئے احتجاج کررہے تھے۔

پاکستانی آئین کا سیکشن 124 الف غداری اور حکومت کے خلاف بے اطمینانی پھیلانے کے متعلق ہے۔ کالونیل دور کے اس قانون کو تاج برطانیہ نے اس لیئے متعارف کیا تھا، تاکہ انکے قبضے اور حکومت کے خلاف کوئی بھی آواز بلند نا ہوسکے، بادی النظر یہ قانون پاکستانی عسکری حکام کے اسی طرح کام آرہا ہے، جس طرح ایک صدی پہلے ہندوستان پر اپنے قبضے کو دوام بخشنے کیلئے تاج برطانیہ کے کام آیا تھا۔

فرق نہیں پڑتا کہ یہ قانون کتنا سفاکانہ ہے، اور یہ کتنی اہمیت کا حامل ہے کہ دنیا کالونیل دور کے کالے قوانین کا دنیا سے صفایا کرے، لیکن پاکستان میں فوجی حکام کیلئے یہ قانون ایک ایسا پسندیدہ حربہ ہے جسکے ذریعے بآسانی رائے عامہ کو دبایا جاسکتاہے، اور اپنے نا پسندیدہ لوگوں، گروہوں، یا بلوچ جیسی پوری قوموں کے خلاف اسکا آزادانہ استعمال کیا جاتا ہے۔

بلوچستان میں یہ حربے دہائیوں سے بروئے کار لائے جارہے ہیں، ایک ایسا خطہ جسے 2014 میں الجزیرہ نے میڈیا کیلئے ایک “روزنِ سیاہ” کا نام دیا تھا۔ جہاں بیانیئے کی تخلیق، صرف فوجی حکام اور پاکستان کے قومی میڈیا کے باہمی اشتراک سے روبہ عمل ہوتا ہے۔ غداری کے وہی الزامات اور مقدمے اس بیانیئے کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد بلوچستان میں جاری تحریک کے مقاصد اور مسائل کو توڑ مروڑ کر ایک دھندلائے ہوئے صورت میں پیش کرنا، اور خاص طور پر غداری کے الزامات کو بنیاد بناکر پنجاب کو بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کھڑا کرنا ہے۔ اس پالیسی کا مظہر سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بھی دیکھا جاچکا ہے۔

اہلِ پنجاب، بلوچستان کے بابت ہمیشہ پاکستان کے عسکری اسٹبلشمنٹ کے بیانیئے پر ایمان رکھتی آئی ہے۔ اب جبکہ پاکستان کے اپنے دارالحکومت اور پنجاب کے اندر جس طرح آسانی سے غداری کے الزامات لگائے اور مقدمے دائر کیئے جارہے ہیں، تو اب یہ بات واضح ہوجانی چاہیئے کہ اسٹبلشمنٹ کسی عمل کو غداری قرار دے رہا ہوتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مذکورہ لوگ کسی ” دشمن ریاست” سے پیسے لیکر اسکے ایجنٹ ہیں، بلکہ اسکا یہ مطلب ہوتا ہے کہ مذکورہ لوگ یا گروہ ان نا انصافیوں اور مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کررہے ہیں، جو ان پر، انکے لوگوں پر یا ان اکے زمین پر ڈھائے جارہے ہیں۔ اور جاری تحریک خالصتاً جائز، خودرو اور عوامی ہے۔

احتجاج کرکے بے اطمینانی اور عدم اعتماد کا اظہار عالمی قوانین کے عین مطابق ہے، اور پوری دنیا میں آزادی اظہارِ رائے کے حق کے قانون کے دائرے میں آتا ہے۔