ساجدی صاحب! ہمیں جیتے جی معاف کرنا – منظور بلوچ

348

ساجدی صاحب! ہمیں جیتے جی معاف کرنا

تحریر: منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

میں جانتا ہوں کہ موجودہ بلوچ معاشرے میں کسی شخصیت پر لکھنا، پینڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہے۔ ہر شخصیت اپنے چاہنے اور نہ چاہنے والوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایسے میں کسی ایسی شخصیت کے بارے میں لکھنا جو زندہ بھی ہو، متنازعہ بھی ہو، بہت مشکل ہے۔

ہم آئیڈیالوجی کی تلاش میں اتنے دور نکل گئے کہ ہمارے خیالوں میں، سوچوں میں، گفتگو میں، خواہشوں میں ”مثالی انسان“ رچ بس گیا۔ جو نہ صرف ایک ”مثالی انسان“ ہو۔ ساتھ ہی وہ ایک مثالی بلوچ بھی ہو۔

یہ تصورات میں ہوسکتا ہے لیکن عملاً نہیں۔ بقول جاوید اختر (انڈین رائٹر) جب جسم کے کسی بھی حصے کو وائرس یا کوئی بیماری لگتی ہے اس سے پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔

اسی طرح بلوچستان میں منصوبے کے تحت پوری سوچ بچار، اس کا نقشہ بنا کر ایک نئی سوسائٹی کی تشکیل کی گئی، جو ظاہر میں تو بلوچ سوسائٹی ہے۔ لیکن عملاً وہ بلوچ سوسائٹی کی ضد ہے۔ جو ایسا کرنا چاہتے تھے، جن کے پاس طاقت تھی، ان کے پاس دولت کے عوض بکتی حکمت بھی تھی، انہوں نے بلوچوں کی مزاحمت کو پہلے دن سے ایک ناسور کی شکل میں دیکھا۔ اس سے نفرت کی اور اس کو مٹانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی اور ان کوششوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ گوکہ ہر منصوبہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوتا، اس لیے یہاں بھی یہ منصوبہ مکمل طور پر تو کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ لیکن بلوچ سوسائٹی ایک منقسم سوسائٹی بن کر معلق ہوگئی۔

اب اس بلوچ سوسائٹی میں رسول بخش رئیسانی کی ضرورت نہیں۔ اگر ضرورت ہے تو اس انگوٹھا چھاپ میر صاحب کی۔جو طاقتور حکمرانوں کے معمولی افسروں کی چمچہ گری کو بھی اپنے لیے فخر کا باعث سمجھتا ہے اور چار باڈی گارڈز ساتھ لیے گھماتا ہے۔ اس کی بڑی گاڑی ہے لیکن کردار نہیں ہے، سوچنے میں صفر ہے، بولنے میں گونگا ہے، پڑھنے سے قاصر ہے، کتاب کو وہ ایک فضول اور فرسودہ وقت کی نشانی سمجھتا ہے۔

یہاں میں ”مثالی انسان“ کی بجائے اپنے معاشرے کے ان گنے چُنے افراد کی بات کروں گا جو لائق تھے، ذہین تھے، اب بھی ہیں، لیکن ہم نے نہ ان کی قدر جانی نہ کبھی ان کو اہمیت دی۔ کیونکہ ہم سمگلنگ کرنے والوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔
عطا شاد کے ساتھ جو کچھ ہم نے کیا، کیا وہ قرین انصاف تھا؟ اس کو کسی اور نے نہیں، ہم نے مارا۔۔۔ کیونکہ وہ ہم سے مختلف تھا۔۔ ۔ذہین تھا۔۔۔ اشعار کہتا تھا۔ جس پر دنیا واہ واہ کرتی تھی، سر دھنتی اور آہستہ آہستہ بلوچ قوم کا حوالہ عطا شاد ہی بن رہا تھا۔ لیکن ہم بھلا ایسے کیونکر ہونے دیتے۔ ہم نے وہی کیا جو بونے کرتے ہیں، پھر ہم اپنے قابل لوگوں کو کم ذات نہ جانے کیا کیا القابات بخش دیتے ہیں اور ذہین آدمی اس منافق معاشرے میں دونوں طرح سے مارا جاتا ہے۔ کردار کے حوالے سے اور ناقدری کی وجہ سے بھی۔

ہم جن مشکلات کا شکار ہیں کیا ان کا کوئی تصور کرسکتا ہے؟
میرے ذاتی خیال میں بلوچ اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور دو رائے پر کھڑا ہے۔ مسائل اور چیلنجز کی یلغار ہے اس کا سب کچھ خطرے میں ہے، شناخت، تہذیب، روایات، زبان، ادب، لوک خزانہ کچھ بھی بچا ہوا نظر نہیں آتا۔

سی پیک کے نام پر جو بڑی سرمایہ کاری بلوچستان کے ذریعے سے ہونے والی ہے اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ موجودہ حالات، کرونا وائرس، امریکہ چائنا کولڈ وار۔ ان مسائل پر کس نے بات کی ہے؟ کس نے کوئی راہ سجھائی ہے؟

دوسری جانب کینسر سے سالانہ بارہ ہزار اموات ہو رہی ہیں جبکہ آٹھ ہزار افراد سالانہ خونی شاہراوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ معمولی معمولی بیماریوں سے لوگوں کی اموات کا تو صحیح اعداد و شمار بھی معلوم نہیں۔ غربت، جہالت، ناخواندگی سب کچھ تو اسی سوسائٹی کے پلے پڑا ہے۔ موت و زیست کا معاملہ ہے لیکن وہ لوگ جو اس قوم کے خیر خواہ، ہمدرد اور لیڈر بنے ہوئے ہیں وہ پیسہ بنانے کے سواہ کچھ اور سوچنے کو ہی تیار نہیں۔

ایسے میں اس قوم کو اگر ضرورت ہے تو دانشور کی۔ ان دانشوروں کی نہیں، جو کتاب پڑھے بغیر گریڈوں کے نام پر یا سرکار کی چمچہ گری کرکے، علامہ اقبال انڈسٹری میں کارکن بنکر، کوئی لال پیلا جھنڈا لیکر انٹ شنٹ مارتا ہے۔

اس قوم کو ہر ایک بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے سے مسئلے کے لیے انہی میدانوں کے دانشوروں کی ضرورت ہے لیکن جب پڑھے لکھے کا انجام ڈاکٹر رسول بخش رئیسانی جیسا ہوگا، عطا شاد جیسا ہوگا، غلام نبی راہی جیسا ہوگا، وہاں ہمیں علمی انحطاط، نام نہاد لیڈروں کے اوٹ پٹانگ باتیں، سیاسی کارکنوں میں ٹھیکیداری کے جھگڑے، بے روزگاری اور جرائم کی دوستی، نشے کا بڑھتا ہوا رجحان سب کچھ تباہ کرکے رکھ دے گا۔

ان مسائل پر گفتگو، کوئی راستہ نکالنے کیلئے ہمیں اربوں روپے کے وسائل کی ضرورت نہیں صرف ایک کام، وہ یہ کہ اپنے ذہین لوگوں کی قدر کریں۔ ان سے استفادہ حاصل کریں، ان کو اپنے مشوروں میں شامل کریں۔

ایسا بھی نہیں کہ بلوچ قوم میں قحط الرجال ہے اگر آپ صورت خان مری کو (یہاں مری مراد ان سب سے ہے جو بلوچ قوم کے نام پر رہبری کر رہے ہیں) کو افورڈ نہیں کرسکتے تو کچھ اور لوگ ابھی باقی ہیں جن کی دانش سے فائدہ اٹھا کر بلوچ بند گلی سے نکلنے کی راہ ڈھونڈ سکتے ہیں۔

میں یہ بھی مانتا ہوں کہ قوموں کے لیڈر کبھی کھبار ان پڑھ بھی ہو سکتے ہیں۔ اکبر بادشاہ کی صورت میں لیکن اس شخص نے عالمانہ مجالس بپا کرکے اپنی علمی پیاس بجھائی۔

اس میں شک نہیں کہ موجودہ بلوچ سیاست میں نواب خیر بخش مری کے بعد پڑھے لکھے لیڈر موجود ہی نہیں۔ اس بحران میں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تو انور ساجدی صاحب تو ہیں۔

اخبار کے حوالے سے، ان کے کیریئر کے حوالے سے، تضادات بھی ہونگے، ان کی صحافتی زندگی متنازعہ بھی ہوگی۔لیکن اس بحران میں جو شخص ہماری رہنمائی کے قابل ہے، جو ہم سب سے ہے، میرے خیال میں وہ صرف انور ساجدی ہیں۔ وہ ایک ذہین آدمی، لکھنے والے قلم کے مالک بھی ہیں۔ وہ بلوچستا ن کی سیاست، ثقافت، روایات، اقتصادیات، تاریخ ہر معاملے کو بڑی ذہانت سے دیکھتے ہیں، جانچتے ہیں، عام گفتگو میں گپ شپ کی طرح بات کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔
ان کے پاس اپنے علم اور دانش کو بگھارنے کیلئے موٹے علمی اصطلاحات، ناموزوں الفاظ نہیں ہیں۔ اور نہ ہی وہ کسی پروٹوکول کے عادی ہیں، اگر انہیں آپ پہلی صف میں نہ بٹھا سکیں تو بھی کوئی بات نہیں۔ وہ آپ کے ساتھ چینکی ہوٹل میں گھنٹوں ایک مخصوص موضوع پر ربط کے ساتھ، مقصد اور اس کی فلاسفی تک باتیں کر سکتے ہیں۔ اس کے کالموں کے بعض عنوانات اور جملے محاورہ بن چکے ہیں۔ جن پر کوئی محقق ہی بہتر انداز میں کام کرسکتا ہے۔

ان کا یہ جملہ میں نے کئی مواقع پر استعمال کیا ہے کہ ’’پاکستان کو اس طرح چلایا گیا ہے کہ کوئی اپنے چینکی ہوٹل کو بھی اس طرح نہیں چلاتا ہے۔“ ان کا یہ کہنا، لکھنا کمال اور برمحل ہے کہ ”بلوچستان میں سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ این جی اوز ہیں۔“ ان کا یہ کہنا کہ ”بلوچستا ن کا معاملہ اب سیاسی نہیں قومی (وجود) ہے۔‘‘ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ایک مثالی انسان ہیں یا ان کا صحافتی کردار قابل رشک ہے یا ان سے فاش سیاسی، صحافتی غلطیاں نہیں ہوئیں۔ لیکن میں ان کے علم، ہنر، دانش کی بات کرتا ہوں کہ اس سے ہم نے کتنا استفادہ کیا۔ ایسے اشخاص کو اب سوسائٹی سے کچھ نہیں، تکریم کی ضرورت ہے۔

اگر بلوچ کی سیاست کے جتنے قائد ہونے کے دعوے دار ہیں وہ اگر خود چل کر ساجدی صاحب کے پاس آئیں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ اپنے وقت میں سے کچھ حصہ نکال کر ہمارے کارکنوں، ہمارے رہنماوں، ہماری سینٹرل کمیٹی کو کچھ بتائیں، کچھ سکھائیں، اس کے ساتھ ساتھ لیڈر صاحبان ان کو اپنے اتالیق مقرر کریں تو اس سے ان کی عزت گھٹے گی نہیں بلکہ بڑھے گی اور جو بھی بلوچ رہنمائی ک دعویدار اگر وہ اس معمولی سی بات کو بھی سمجھنے کی توفیق نہیں رکھتا تو وہ بلوچستان کی سیاست کیا خاک کرے گا۔ بلوچستان کی سیاست اور بلوچ بقا کی جدوجہد پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ کانٹوں کا ہار ہے اور اسی کانٹوں کے ہار نے نواب خیر بخش مری کو بلوچ قوم کی رہبری کا حق ادا کرنے میں معاونت کی۔۔

ہمارے سیاسی لیڈروں میں معلوم نہیں کہ اتنا وژن بھی ہے کہ وہ ساجدی صاحب کے علم و دانش کو مانیں، ان کے پاس خود آئیں اور ان کے مشورے سے ہی ایک بلوچ بیانیہ تشکیل دیا جائے۔ لیکن ساجدی صاحب میں جتنا جانتا ہوں ایسا نہیں ہوگا۔ ہمارے اہل علم، اہل سیاست کو آپ کے دانش سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم آپ کے قلم سے زیادہ آپ کی کردار کی بات کریں گے، آپ کے سیاسی گناہوں کو کبھی معاف نہیں کرینگے، نہ کریں۔۔۔

اہل سیاست ہو، اہل صحافت یا اہل ادب ان کی زندگی کے تمام گوشوں پر بات ہونی چاہیے۔ لیکن اس سے قبل آپ ان کے مقام کو تو سمجھیں، ان کے کردارکے ساتھ ساتھ ان کی دانش بھی نظر میں رکھیں۔ ان کی قلم کی طاقت کا راز پوچھیں، آپ بیٹھیں، سیکھیں، اس وقت صرف چند لوگ ہیں جو ماڈرن بلوچ سیاست کی الف، ب سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ سردار عطاء اللہ مینگل، صورت خان مری، انور ساجدی یا کاظم مینگل۔ یہ ایک زندہ تاریخ کے زندہ کردار ہیں۔ ان کی گفتگو، ان کی تحریر، ان کی گواہی کے بغیر بلوچ کے موجودہ سیاسی تاریخ کے ابہام دور نہیں ہو سکتے۔

لیکن ساجدی صاحب معاف کرنا ہماری عادت ہے کہ ہم اپنے اچھوں کو خود مار دیتے ہیں۔  ”اصلی سرکار“ کی بنائی ہوئی بلوچ سوسائٹی نے اپنی یہ روایت بہرحال نہیں بھولی کہ جب بھی برادر کشی کی جنگ ہو تو اپنے ہی بھائی کی آنکھیں نکال دو۔

ہم نے بہت قیمتی لوگ گنوائے۔ ہماری زندہ تاریخ کے کتنے اوراق کتنے سینوں میں زندہ دفن ہو کر رہ گئے؟ کتنے ہی قابل لوگوں کو ہم نے برباد کیا؟ جیتے جی ان کی قدر نہیں کرسکے۔ میں جانتا ہوں ساجدی صاحب آپ بلوچ سماج کو درپیش بحرانات کو سمجھنے اور ان سے نکلنے کی حکمت اور بصیرت رکھتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ منافق لوگ آج بھی مثالی انسان کی تلاش میں ہیں۔ جو شاید آسمانوں سے اتر کر کسی چمتکار کے ذریعے چٹکی بجا کر، الہ دین کا چراغ رگڑ کر بغیر کسی تکلیف کے بلوچوں کی تمام تکالیف کو دور کر دے۔

لیکن ساجدی صاحب کیا کریں کہ ہم آپ کی قدر دانی نہیں کر سکے۔ جیتے جی آپ کے علم و دانش سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

ہو سکتا ہے کہ ان چند سطروں کے بعد آپ کا کردار زیر بحث ہو۔ اور آپ کو ہم ذہنی اذیتیں پہنچانے کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے۔ ساجدی صاحب ہمیں جیتے جی معاف کریں کیونکہ دوسرے کی آنکھ میں شہتیر تو ڈھونڈ سکتے ہیں لیکن ہماری نگاہ آپ کی دانش، فہم، فراست تک نہیں پہنچ پاتی۔ خدا نہ کرے کہ ہم آپ کو کھو دیں اور پھر مگر مچھ کے آنسو بہاتے رہیں۔جس طرح سے ہمارے دوسرے لائق، ذہین، تخلیقی شخصیات ضائع ہو گئیں بالکل اسی طرح ہم آپ کو بھی ضائع کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے کیونکہ ہماری بستی کی یہ روایت کچلی نہیں جاسکی اصلی سرکار بھی یہی چاہتی ہے لیکن بلوچ سوسائٹی اپنے دھڑ کے ساتھ تو رہے لیکن اس دھڑ کے اوپر کوئی سر نہ ہو۔ کٹے ہوئے سر کے ساتھ ہم آج بھی اپنے ذہین شخصیات کو کاٹھ کباڑ سمجھ کر ٹھکانے لگاتے رہیں جس طرح ہم نے نورا مینگل سے لے کر عطا شاد اور عطا شاد سے لے کر رسول بخش رئیسانی اور غلام نبی راہی کے ساتھ کیا۔

ہو سکتا ہے آپ یہ سب پڑھ کر اپنا روایتی قہقہہ لگائیں اورکہیں چھوڑو یار۔۔۔۔۔۔۔۔!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

SHARE
Previous articleاوتھل: ٹریفک حادثے میں لسبیلہ یونیورسٹی کا طالب علم جانبحق
Next articleسیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا پاکستان متعلق بیان غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ خلیل بلوچ
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔