زامران – بیبگر بلوچ

302

زامران

تحریر: بیبگر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کسی زمانے میں زامران بلوچستان کے لوگوں کیلئے ایک مظبوط قلعے کے مانند تھا، بلوچستان کے جس شہر یا کوچے سے کوئی بھی شخص خود کو کسی بھی وجہ سے غیر محفوظ سمجھتا تھا تو وه زامران کے سنگلاخ پہاڑوں میں داخل ہونے کے بعد خود کو مکمل طور پر محفوظ پاتا۔

یہ بات تو مشہور ہے کہ زامران اپنی پہاڑوں کی وجہ سے ایک مورچہ (سنگر) جانا جاتا تھا۔ یہ وہی چٹانیں تھیں کہ شاہ و شہنشاہ اور دیگر قابض یا جابر قوت زامران کی طرف جانے سے بھی گھبراتے، اگر کوئی مکاری کی نیت سے داخل ہوتا تو وه ہمیشہ کیلئے وہاں کے گمنام پہاڑوں میں دفن ہوتا۔

زامران میں بسنے والے لوگ بلوچی روایات کے مطابق مہمان نواز، نہایت مہربان و بہادر لوگ ہیں۔ وه اپنے مہمانوں کی اور امانتی اشیاء کی حفاظت کیلئے اپنی قیمتی جانوں کا بھی نذرانہ پیش کرتے۔ اس زمانے میں تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہر پیش آنے والے ظلم و جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے۔

آج بلوچ مسلح تحریک میں زامران کے وه شہداء بھی شامل ہیں جو مادرِ وطن کی دفاع میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے ہیں، کئی نوجوان مسلح تحریک سے منسلک بلوچستان کے پہاڑوں میں قبضہ گیر دشمن کیخلاف لڑ رہے ہیں۔

لیکن وقت گذرنے کے ساتھ زامران کے بد نصیب عوام نے ایسے محفوظ سنگری پہاڑوں کو چھوڑ کر شہر و دیہاتوں میں ہجرت کرکے وہیں آباد ہوئے۔ زامران کے نیم آبادی کے ہجرت کرنے کی وجہ سے زامران کے زیادہ تر علاقے ویران پڑ گئے اور پھر وہاں ہر کوئی آتا جاتا رہا۔

قریب چند سال قبل بلیده میں موجود ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کی سربراہی میں حافظ صلاحدین سلفی، ملا سلیم، شیر جان شمبے زئی، ملا عامر اور ان کے دیگر قریب رشتہ دار اور ساتھیوں کو ریاستی اداروں کے جانب سے یہ ٹاسک دیا گیا کہ وه زامران کے سنٹر یعنی بیچ والے علاقے میں کاروبار کے بہانے ان مظبوط و محفوظ چٹانوں کو اپنے قبضے میں لیکر چاروں جانب ریاستی فورسز کیلئے راستہ بنائیں۔ چونکہ دیگر لوگوں اور ٹھیکیداروں کیلئے یہ کام ناممکن تھا۔ اس دھرتی کے ٹھیکیدار کوئی اور نہیں اسی زامران میں پیدا ہونے والے ریاستی سوداگر جو زاتی عیش و عشرت اور قابض آقا کو خوش رکھنے کیلئے اپنے آباء و اجداد کے خوبصورت چٹانوں کو بلڈوز کرکے روڈ میں تبدیل کردیا۔ بلا آخر یہ ریاستی گماشتہ گروه اپنے کام کو سر انجام دینے میں کامیاب ہوگئے۔

بات یہاں تک ختم نہیں ہوئی بلکہ ڈیزل کے کاروبار کی آڑ میں یہ گروه اور قابض فورسز خوب پیسے کمائی کرنے لگے۔ وقت گزرتے گزرتے بلا آخر ریاست کیلئے زامران کے سب علاقوں کے راستے کھل گئے، تمام بلند و بالا چٹانیں مسمار ہوگئے۔ قابض فوج زامران کو چیرنے میں کامیاب ہوگیا۔ کئی فوجی آپریشنز ہوئے جو تاحال وقتا فوقتاً جاری و ساری ہیں۔ ان نام نہاد آپریشنز میں فورسز کے ہاتھوں آزادی پسندوں سمیت سویلینز شہید و اغواء کرکے غائب کردیئے گئے ہیں۔

اس کاروبار کی آڑ میں قابض فورسز اور ریاستی گماشتے کم و بیش پیسوں و دیگر ان کے اندرونی معاملوں کی وجہ سے ناراضگی کے سبب عوام کے سامنے واضح ہوگئے ہیں۔ لیکن بلوچ سرزمین پر ان کی من مانی دیر تک نہیں چلے گی۔

زامران کے پہاڑوں کو مسمار کرنے کے بعد ریاست اور ضمیر فروشوں کا اہم ٹاسک تو پورا ہوگیا۔ ہوشیاری و چالبازی کرتے ہوئے ریاست نے اپنی کاروبار کی جگہیں ضمیر فروشوں کے حوالے کردیئے۔ آج بھی وہاں لوگوں سے بھتہ وصولی کیلئے پورا کیمپ جالگی میں مقیم ہے۔

ملا عامر اور انکے مذہبی شدت پسند آج بھی پاکستانی فوج سمیت عوام سے بھتہ وصول کرنے میں ملوث ہے۔ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں کہ ان کے نوجوان آجکل بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے خلاف فوج کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑے ہیں اور اسی دوران مظفر آباد سے ٹریننگ شده ملا مجیب بھی منظر عام پر آگیا ہے۔ یہ گروه تو وہی ہے لیکن اس کے شکل میں کئی بار تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ کبھی مظفرآباد سے لوگوں کو یہاں لاتے تو کبھی کسی دوسرے کو ۔ حالیہ معلومات کے مطابق ریاستی فورسز نے مظفر آباد سے براہ راست ایک پورے نیٹورک کو زامران میں پناه گاہیں مہیا کی ہے تا کہ وه آزادی پسند قوتوں کو نشانہ بنائیں جس کی کھلے عام ثبوت گذشتہ مہینے بلوچ مسلح تنظیم پر حملہ تھا، جس سے بلوچ مزاحمتکاروں کے پانچ ساتھی شہید ہوئے تھے۔

انہی لوگوں کی ذمہ پاکستانی خفیہ اداروں اور فورسز نے کئی ٹاسک دیے ہوئے ہیں۔ بلوچ آزادی پسند جماعتیں مذہبی شدت پسند گروہوں سے ہوشیار رہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔