دوسری سالانہ نصیر آباد ادبی میلہ کا پہلا دن

64

دوسری سالانہ نصیرآباد ادبی میلہ ٹیپل کے یونیورسٹی کالج کیمپس میں شیڈول میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اپنی مقررہ وقت دس بجے سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ ابتدائی کلمات میلے کے روح رواں پناہ بلوچ نے ادا کیئے۔

ابتدائی سیشن کے مہمانوں ڈاکٹر صابر بدل خان، کامریڈ کلثوم زیب، سرور جاوید، قیوم بیدار، افضل مراد اور کامریڈ صوفی عبدالخالق بلوچ تھے جبکہ پہلے مقرر قیوم بیدار تھے جنہوں نے اپنے گفتگو میں نصیرآباد کی علمی، ادبی اور صحافتی تاریخ پہ روشنی ڈالی۔

افضل مراد نے خطے، علمی ادبی و سیاسی شخصیات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ تیسرے مقرر کامریڈ صوفی عبدالخالق بلوچ نے نوجوانوں کو ترقی پسند ادب پڑھنے کا مشورہ دیا۔ تیسرے مقرر سرور جاوید کا کہنا تھا کہ لفظ رنگ آواز اور فنون لطیفہ کی سرحدیں نہیں ہوتی ہیں لیکن ان کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔ ہم بلوچ اپنی زمین سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ ہمیں اپنی آواز کو مزید بلند کرنا ہوگا۔

میلے میں خیبر پختونخواہ سے آئی ہوئی کامریڈ کلثوم زیب نے بلوچ قوم کے درد کو بیان کیا اور کہا کہ بلوچ حقیقی طور پر زندہ قوم ہیں۔

اٹلی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر صابر بدل خان نے بلوچ قوم و زبان پہ اپنا مقالہ پڑھا اور انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ بلوچ امیر حمزہ کے اولاد ہیں۔ بلوچ تو ہزاروں سال سے اس خطے میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ بلوچی اورل لٹریچر بہت امیر ہے۔

سیشن کے آخر میں عمر گل عسکر اور سلیم رند نے مہمانوں کو شیلڈز پیش کیئے۔

دوسرا سیشن نصیرآباد میں ادب کل اور آج بیاد یوسف عزیز مگسی تھا۔ میزبان آصف ابڑو تھے جبکہ مہمان ناطق ناڑیوال، استاد جوہر بنگلزئی اور رفیق مغیری تھے۔

دوسرے سیشن میں استاد جوہر بنگلزئی نے مچھ تا صحبت پور براہوئی ادب پہ بات کی۔ ناطق ناڑیوال نے سندھی اور سرائیکی پہ بات کی اور رفیق مغیری نے بلوچی کا تذکرہ کیا۔ سیشن کے آخر میں عبدالستار نے مہمانوں کو شیلڈز پیش کیئے۔

تیسرا سیشن نصیرآباد کا مثبت عکس بیاد نور بلوچ تھا۔ میزبان سلیم رند تھے اور مہمانوں میں ایڈوکیٹ راحب خان بلیدی، حمیدہ نور، فیض شیخ اور پناہ بلوچ شامل تھے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اپنی کیریئر اور علاقائی صورتحال پہ بات کی۔ سیشن کے آخر میں کامریڈ رفیق کھوسہ نے مہمانوں کو شیلڈز دیئے۔

اگلا سیشن نصیرآباد کا صحافتی سفر بنام شہید ارشاد مستوئی تھا۔ میزبان ولی زہری تھے اور مہمانوں میں سعید احمد نعمانی، آغا نیاز مگسی، ستار سیلانی اور کامریڈ گل مستوئی شامل تھے۔

مقررین نے اپنے صحافتی سفر اور صحافتی مسائل کا ذکر کیا۔ کامریڈ گل مستوئی نے شہید ارشاد کی زندگی پہ روشنی ڈالی۔ آخر میں وفا مراد نے مہمانوں کو شیلڈز دیئے۔

میلے میں آخر سیشن محفل موسیقی کی تھی جس میں نیاز بلیدی اور وہاب بگٹی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب کتاب دوست افراد کی بک سٹالز پہ سارا دن رش رہا اور انہوں نے کتاب دیکھے اور خریداری بھی کی۔