حُصولِ آزادی کی خاطر – جویریہ بلوچ

99

حُصولِ آزادی کی خاطر

تحریر: جویریہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اپنے سرزمین سے عشق اور اس کے آزادی کے حصول کی خاطر اپنے جان کی قربانی دینا، ایک سچے عاشق کی نشانی ہے۔”عشق میں ہر طرح کی قربانی دینی پڑتی ہے، چاہے وہ قربانی چھوٹی ہو یا بڑی، جانی ہو یا مالی لیکن اس سے دریغ نہیں کیا جاسکتا لیکن جب یہی عشق اپنے سرزمین سے ہو تو اس کا کوئی جواب نہیں کیونکہ یہ عشق لاجواب ہوتا ہے”

اسی طرح اس سرزمین کے عاشقوں نے بھی ہمیشہ اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر اس کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ہر دور کے فرعون نے اپنی طاقت کے زور پر حکمرانی کرنے کی کوشش کی ہے اور ہمیشہ سے مظلوم ہی کو اپنے شکنجے میں لاکر اپنے طاقت کا زور آزمایا ہے، مگر فرعون کے تختے کو الٹنے کے لئے ہر دور میں ایک موسیٰ کا ہونا بھی ضروری ہے جو فرعون جیسے حکمرانوں کی حاکمیت کا خاتمہ کرسکے۔

دنیا کے جن ممالک میں آزادی تحریکوں نے حصولِ آزادی کے خاطر جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرکے دنیا میں سر اٹھایا ہے اور ہر ظلم و ستم کے سامنے ڈٹ کر نہ صرف آمریت بلکہ فوجی آمریت کا بھی خاتمہ ہُوا ہے۔ جب روس جیسے سُپر پاور سے حصولِ آزادی کے خواہشمندوں نے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کی آزادی بھی اب زیادہ دور نہیں۔ جہاں ہر باشعور فرد کی زندگی ایک عجیب کشمکش سے دوچار ہے۔

آئرلینڈ جیسا چھوٹا جزیرہ جو کہ انگلستان سے اپنے آزادی کا حق منوا سکتا ہے تو بلوچستان پاکستان سے کیوں نہیں؟ جبکہ بلوچ کو ایک طاقتور قوم تصور کیا جاتا ہے۔ برطانیہ نے آئرلینڈ کے باشندوں پر اپنا ہر طرح کا زور آزمایا انکی عبادت گاہوں کو منہدم کیا گیا جبکہ انکی زمینیں،جاگیریں سب کچھ ضبط کرلیا گیا۔ جگہ جگہ خون کی ندیاں اور قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ آئرلینڈ والوں نے تو وقتی طور پر انگریزوں کے حکم کی تابعداری کی مگر انکے دل میں جو نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی اس میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ ہر طرح سے انکی حق تلفی ہوتی گئی۔یہاں تک کہ آئرلینڈ کے زرخیز زمینوں کو اسکاٹ لینڈ کے باشندوں میں تقسیم کیا گیا جسکی وجہ سے انکا انتقامی جذبہ شدت پکڑ چکا تھا آئرستانی برہم بھی تھے مگر انہوں نے برابر آزادی کا سوال اٹھانا نہیں چھوڑا تھا۔ حتیٰ کہ آئرش عوام کی فوج میں جبراً بھرتیاں بھی کی گئیں۔ جس سے آئرلینڈ کے حالات مزید کشیدگی کا شکار ہونے لگے مگر انہوں نے ہار تسلیم نہیں کی یہاں تک کے برطانیہ کے وزیراعظم لارڈ جارج نے آئرلینڈ کی آزادی کا اعلان کردیا۔

اسی طرح سامراج نے سرزمین بلوچستان میں بھی اپنے ہر طرح کے منصوبے اور ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔ جن کی چُنگل میں وہ بلوچوں کو لانے کیلئے کئی طرح کے چالیں چلائے جا چکی ہیں۔ جنکا مقصد صرف اور صرف بلوچ قوم کو نیست و نابود کرکے ظلم و جبر سے اور اپنے حکومتی ہتھکنڈوں سے بلوچستان میں اپنا راج قائم کرنا ہے۔ لیکن بلوچستان کے قومی آزادی کی تحریکیں ان سب کا منہ توڑ جواب ہیں۔ جس طرح ایک انسان اور مسلمان خنزیر کے گوشت سے نفرت کرتا ہے اور اس کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتا اسی طرح بلوچستان میں رہنے والا ہر بلوچ اس ریاست سے اتنا ہی نفرت کرتا ہے۔

گُل زمین بلوچستان کے آزادی کے حصول کی خاطر جن جوانوں نے اپنا لہو بہا دیا ہے ان میں شہید وحید بلوچ اور شہید سلمان بلوچ بھی شامل ہیں جنہوں نے بلوچستان کے آزادی کی خاطر اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ 29 فروری 2012 کو بزدل دشمن نے ان پر حملہ کر کے انھیں شہید کردیا مگر بزدل دشمن اس بات سے ناواقف ہے شاید کہ سرزمین کے خاطر بہنے والا لہو کبھی رائیگاں نہیں جاتا بلکہ یہ لہو انقلاب کی صورت اختیار کرلیتی ہے جس کی منزل آزادی ہے۔حصولِ آزادی کی خاطر اگر مزید لہو درکار رہا تو وہ بھی دینے سے گریز نہیں کریں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔