بھارت: دہلی میں پرتشدد مظاہرے جاری، 28 افراد جانبحق، 200 سے زائد زخمی

74
بھارت میں شہریت قانون کے خلاف شروع ہونے والے پر تشدد واقعات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے جبکہ مرنے والوں میں انٹیلی جنس افسر بھی شامل ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں زخمیوں کی تعداد 200 سے زائد ہو گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ فسادات میں  مسلمانوں کو شناخت کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

واضح رہے کہ نئی دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس اور بی جے پی کارکنوں نے اس وقت حملہ کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سرکاری دورے پر بھارت پہنچے۔

نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج پر بی جے پی کارکنوں کے حملوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور شہر کے شمال مشرقی علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ہلاکتیں 28 ہو گئی ہیں۔ نئی دہلی میں مسلمانوں کی املاک کے ساتھ ساتھ درگاہ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا جانے کی واقعات پیش آئیں  ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے چاند باغ میں ایک انٹیلی جنس افسر کی لاش ملی ہے، ہلاک ہونے والا انٹیلی جنس بیورو میں سکیورٹی اسسٹنٹ کے عہدے پر فائز تھا۔ آئی بی افسر کی نعش نالے سے ملی ہے۔

اس سے قبل نئی دہلی ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران دہلی پولیس پر سخت سرزنش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی نا اہلی کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔

نئی دہلی ہائیکورٹ نے یہ ریمارکس شہری کی طرف سے بی جے پی کے  رہنما انو راگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل شرما کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کے دوران دیئے۔

نئی دہلی ہائیکورٹ کا پولیس حکام کو کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی، پولیس تماشا دیکھ رہی ہے ایف آئی آر درج نہیں کرینگے تو کارروائی کیے بڑھے گی۔

واضح رہے کہ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں شروع ہونے والے فسادات کے پیچھے بی جے پی کے رہنما انو راگ ٹھاکر ہیں جنہوں نے اشتعال انگیز بیانات دیئے تھے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں فسادات کے حوالے سے بھارت کی سپریم کورٹ نے پولیس کو کہا کہ اگر آپ کارروائی کرتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

عدالت عظمیٰ کے جج نے  ریمارکس ایڈووکیٹ امیت شاہ کی جانب متنازع شہریت قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں مظاہرہ کرنے والوں کو دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت میں دیے۔

جسٹس جوزف نے کہا کہ پولیس میں پیشہ ورانہ مہارت کا فقدان سب سے بڑی وجہ ہے، اگر آپ اشتعال انگیز بیانات دینے کے بعد لوگوں کو بھاگنے نہ دیتے تو یہ سب نہ ہوتا، اگر آپ قانون کے تقاضے کے مطابق کارروائی کرتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

دریں اثناء دوسری جانب بھارتی دارالحکومت میں فوج کی تعینات کردیا گیا۔

اپوزیشن جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نئی دہلی فسادات پر کہا ہے کہ یہ سب کچھ پری پلان (منصوبہ بندی) کے تحت ہو رہا ہے، وزیر داخلہ نے گزشتہ روز ایکشن کیوں نہیں لایا جب مسلمانوں پر تشدد ہو رہا تھا، وزیراعلیٰ نئی دہلی کیجروال کی خاموشی بھی بہت سارے سوال اٹھا رہی ہے۔

مزید برآں بی جے پی رہنماؤں نے فسادات کے پیچھے بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کانگریس فسادات پر سیاست کر رہی ہے، 1984ء کے سکھ فسادات میں کانگریس کی جماعت اقتدار میں تھی۔ اور اس وقت کے وزیراعظم اندرا گاندھی نے فسادات کرنے والوں کی حمایت کی تھی۔

نئی دہلی کی صورتحال پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی بنائی گئی ایک ویڈیو میں مسلمان نوجوان سرفراز علی نے ہندو انتہا پسندوں کے تشدد کے بارے میں بتایا۔

زخمی حالت میں نوجوان نے ایمبولینس میں بیان دیا کہ وہ اور اس کے والد ساتھ تھے کہ کچھ لوگوں نے ان سے نام پوچھے، انہیں گھیر لیا اور پھر نعرے لگانے کو کہا۔ اسے اور اس کے والد کو ہندو انتہا پسندوں نے ’جے شری رام‘ نعرے لگانے پر مجبور کیا جس کے بعد نوجوان سے شناختی کارڈ مانگا گیا۔

بی بی سی کی ویڈیو میں دکھائی گئی ایمبولینس بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کا شیشہ ٹوٹا ہوا ہے۔ ایمبولینس میں موجود ریسکیو اہلکار کا کہنا تھا کہ مریض کو طبی امداد کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں موجود لوگوں نے گاڑی پر ڈنڈے سے حملہ کیا۔ جس گاڑی پر حملہ کیا گیا وہ سرکاری ہے، اس میں ہندو مسلمان سب کو علاج کے لیے لے جایا جاتا ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ نئی دہلی میں ہندو آبادی والے علاقوں میں جے شری رام کے نعرے لگائے جارہے تھے جبکہ کوئی بھی کچھ بتانے کو تیار نہیں تھا۔ ویڈیو میں بات کرنے والے علاقے کے مسلمانوں کا کہنا تھا کہ ہر جگہ ڈر کا ماحول ہے اور ہر کوئی خوفزدہ ہے، انتظامیہ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ ہمارا ارادہ توڑ پھوڑ کا نہیں کیونکہ ہندوستان ہمارا بھی ہے اور دوسرے لوگوں کا بھی ہے۔

نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال زخمیوں کی عیادت کے لیے جی ٹی بی ہسپتال پہنچے۔ اور کہا کہ دہلی میں پچھلے دو دنوں میں ہونے والے تشدد سے پورا ملک پریشان ہے۔

بی بی سی کے مطابق راجیو نگر کی رہائشی کمیٹی کے جنرل سکریٹری اسلام الدین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں پر تشدد حالات کا موازنہ 1984 کے سکھ فسادات سے کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 11 دسمبر کو بھارتی پارلیمنٹ سے شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی جبکہ اس فہرست میں مسلمان شامل نہیں۔

اس قانون کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ہندو سخت گیر جماعت  شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا تھا کہ مرکز اس کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے نافذ کیے گئے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج تقریباً 2 ماہ سے جاری ہے، تاہم اس میں شدت گذشتہ دنوں اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر بھارت کے دورے پر پہنچے۔