بلوچستان کے طلبہ کو تعلیم چاہیئے لاٹھی نہیں – عاطف بلوچ

39

بلوچستان کے طلبہ کو تعلیم چاہیئے لاٹھی نہیں

تحریر: عاطف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اکیسویں صدی میں جہاں ٹیکنالوجی اور سائنس بہت آگے جاچکی ہیں، انسانوں کے بہت سے خوابوں کو حقیقت بنادیا ہے، اس چھوٹے دنیا کو بہت ہی خوبصورت اور جدید بنا دیاہے۔ سائنس کی ترقی کا سب سے بڑا راز تعلیم ہے۔ تعلیم وہ ہتھیار ہے جس سے آپ دنیا کی کوئی بھی جنگ جیت سکتے ہیں، بڑے سے بڑے طاقت کو بھی توڑ سکتے ہیں، تعلیم اور شعور سے ہی جہالت کے اندھیروں کو مٹا سکتے ہیں. تعلیم انسان کو وہ شعور دیتاہے جس سے حق اور باطل کا فرق غلامانہ ذہنیت اور جاگیردارانہ نظام کو ختم کرسکتے ہیں، تعلیم کے ذریعے عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں معلومات دےسکتےہیں تاکہ وہ اپنے حقوق حاصل کرسکیں.

بدقسمتی سے بلوچستان کے عوام تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہوتے جارہے ہیں، دکھ کی بات یہ ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو تعلیم سے دور کرنے والے بھی بلوچستانی ہیں، قدرتی ذخائر سے مالامال بلوچستان جس سے پورا ملک چل سکتا ہے مگر افسوس یہاں کے وسائل سے یہاں کے عوام کو سہولت اور تعلیم تک نہیں دی جاسکتی، ظلم تو یہ ہے کہ مزید تعلیم کے راستے بند کئے جارہے ہیں۔

کبھی جامعہ بلوچستان میں بہت بڑا سکینڈل سامنے آتاہے، جس سے ننگ و ناموس پر وار کرنے کے ساتھ یہاں کے بچیوں کو تعلیم سے دور کرنے کے بڑی سازش کی جاتی ہے اور کبھی سکندر یونیورسٹی خضدار کو ضم کرنے جیسے ہتھکنڈوں سے بلوچستان کے عوام پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تعلیم بند کرنے کا سفر، مختلف تعلیمی اداروں سے ہوتے ہوئے بولان میڈیکل کالج پہنچ گیا۔ بولان میڈیکل کالج، جہاں سے ڈاکٹر بنتے ہیں، جو مسیحا بن کر لوگوں کو زندگی دینے کی کوشش کرتے ہیں، آج وہ تعلیمی ادارہ خطرے میں ہے، بولان میڈیکل کالج جسے پندرہ ماہ پہلے یونیورسٹی کا درجہ اس لیئےدیاگیا تاکہ تعلیم مزید بہتر ہو. مگر کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینا بہتر تعلیم دینا نہیں بلکہ تعلیم کے دروازے بند کرنے کا ایک اور سازش نکلا. سکالرشپ میں پچاس گنا کٹوتی کی گئی اکیڈمک اور ہاسٹل فیسوں کو چار سو سے چھ سو گناہ تک بڑھایاگیا، فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ، سیلف فائنانس پبلک سیکٹر کو پرائیویٹ سیکٹر میں تبدیل کرنا تاکہ یہاں کے غریب عوام تعلیم حاصل کرنا تو دور تعلیم کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں۔ ڈویژنل سیٹوں کو صوبائی میرٹ کے بناپر کرنا دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

اس تعلیم دشمن پالیسی کے خلاف تمام علم دوست افراد بی ایم سی کے اسٹوڈنٹس ڈاکٹرز ملازمین اور طلباء تنظیموں نے وی سی سمیت حکومتی اراکین، پارلیمانی اراکین، گورنر اور وزیر اعلیٰ جام کمال صاحب درخواست کی کہ اس سازش کے خلاف ایکشن لے بی ایم سی کو بحال کریں، طلباء سے تعلیم کا حق نہ چھینیں، ہمیں تعلیم حاصل کرنے دیں. حکومت نے تسلیم تو کرلیا کہ یہ پالیسی تعلیم کے حق میں نہیں ہے، یہاں تک کہ اس پالیسی کو ختم کرنے کا وعدہ بھی کیا مگر باقی وعدوں کی طرح بس یہ وعدہ بھی نا مکمل وعدہ رہا. طلباء نے جدوجہد جاری رکھتے ہوئے اپنے تعلیم کیلئے پر امن احتجاج کرنے لگے کسی بھی جمہوریہ ملک کے عوام کا جمہوری حق ہے، مگر پر امن احتجاج پر پولیس نے اپنے آقاؤں کے حکم سے طلبہ پر لاٹھی چارج کرکے انکے ساتھ وہ رویہ اختیار کیا، جو شاید اس ملک کے آئین توڑنے والوں کے ساتھ بھی نہ ہواہو.

بلوچ پشتون روایات میں جہاں قرآن کے بعد جس چیز کا درجہ ہے تو وہ عورت ہے مگر اس پولیس گردی میں عورتوں کو بھی بخشا نہیں گیا، انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جسے کوئی با غیرت معاشرہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد مستقبلِ کے معماروں و مسیحاؤں کو گھسیٹتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے اس طرح ڈالا جیسے وہ کوئی دہشت گرد ہو.

حکومت ترقی و تعلیم کی دعوے تو بہت کرتا ہے، مگر تعلیم کو صرف امیر زادوں کیلئے محدود کررہاہے، تعلیم مانگنے والوں کے ساتھ دہشتگردوں سے بھی بدتر سلوک کرتاہے، تعلیم کے بدلے لاٹھی اور ترقی کے نام پر زندانوں میں ڈال دیتا ہے، ترقی کے بجائے جاگیردارانہ اور سرداری نظام کو فروغ دےکر نچلے طبقے کو مزید پسماندگی کے طرف دھکیل رہاہے۔ تعلیم دشمن عناصر جتنی بھی کوشش کرلیں، کتنے بڑے ہتھکنڈے استعمال کرلیں، مگر میرے دیس کے زندہ طلباء سب مشکلات اور ہتھکنڈوں کا مقابلہ تو کرلینگے مگر تعلیم کے خلاف کسی بھی پالیسی کو کامیاب ہونے نہیں دینگے۔

میرے دیس کے طلباء توزندانوں کوبھی درسگاہ بنالیتے ہیں
بزدل ہے وہ لوگ جو ڈرتے ہیں زنجیروں کی جھنکار سے


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔