بلوچستان کو کلچر ڈے نہیں ثقافتی انقلاب کی ضرورت ہے، انور ساجدی – ذوالفقار علی زلفی

216

“بلوچستان کو کلچر ڈے نہیں ثقافتی انقلاب کی ضرورت ہے “انور ساجدی

تحریر: ذوالفقار علی زلفی

دی بلوچستان پوسٹ

محترم انور ساجدی صاحب کا شمار بلوچستان کے اہم دانش وروں میں ہوتا ہے ـ ان کی بات ہر سطح پر سنجیدگی سے سنی جاتی ہے ـ ان کی ایک تحریر سوشل میڈیا پر کافی شیئر کی جارہی ہے جس میں انہوں نے بلوچستان میں ثقافتی انقلاب برپا کرنے کی بات کی ہے ـ

ساجدی صاحب کی تحریر پر تضاد اور مبہم ہے ـ اس تحریر نے کسی گتھی کو کیا سلجھانا تھا یہ خود الجبرا کا سوال بن گئی ہے ـ

وہ لکھتے ہیں بلوچستان کے پڑھے لکھے افراد مل کر ایک میثاق مرتب کریں جو ثقافتی انقلاب کی بنیاد بنے ـ اس مشورے کے فوراً بعد وہ اعلان کرتے ہیں بلوچستان کو اس وقت سیاست کی ضرورت نہیں ہے ـ اب معاملہ یہ ہے میثاق مرتب کرکے کسی بھی قسم کا انقلاب برپا کرنا ایک سیاسی عمل ہے ـ جب سیاست کی ضرورت ہی نہیں ہے تو دیگر چیزوں کی طلب کیسے پیدا ہوگی؟ ـ حتی کہ پڑھے لکھے افراد کا یکجا ہونا یا انہیں یکجا کرنا بھی ایک سیاسی عمل ہے جسے ساجدی صاحب غیر ضروری گردان رہے ہیں ـ

دانشور صاحب نے پوری تحریر میں ایک جگہ بھی وضاحت نہیں کی کہ ان کی دانست میں ثقافت اور اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں ـ البتہ وہ ڈھول کی تاپ پر رقص کی یہ کہہ کر ممانعت کرچکے ہیں کہ بلوچ قوم سوگ میں ہے اور ماتم منا رہی ہے ـ گویا ان کے نزدیک نہ سوگ و ماتم ثقافت سے متعلق ہیں اور نہ ہی رقص و موسیقی ـ

اسی طرح انہوں نے یہ سوال بھی تشنہ چھوڑ دیا کہ ثقافتی انقلاب سے ان کی کیا مراد ہے ـ ثقافتی انقلاب کی اصطلاح کو انہوں نے یہ لکھ کر مزید پیچیدہ بنا دیا کہ اس وقت بلوچستان میں ایک ثقافتی انقلاب برپا ہوچکا ہے ـ ان کے مطابق یہ ثقافتی انقلاب جابر حاکموں کا پیدا کردہ ہے، اس انقلاب کے نتیجے میں پورا سماجی ڈھانچہ غیر سیاسی ہوچکا ہے ـ تضاد ملاحظہ فرمائیے اسی تحریر میں وہ خود لکھ چکے ہیں سیاست کی ضرورت نہیں ہے اور پھر کہتے ہیں جابروں نے سماج کو غیر سیاسی بنا دیا ہے ـ

اس وقت پاکستان کی جغرافیائی حدود میں بلوچستان وہ واحد خطہ ہے جو عرصے سے اصلی حکمرانوں کے خلاف مزاحمت کررہا ہے ـ مزاحمت کی بھاری قیمت چکانے ، بعض دوست نما دشمنوں کی جانب سے مایوسی پھیلانے ، نسل پرستی، تنگ نظری، فاشزم سمیت ہر قسم کی گندی گندی گالیاں سننے کے باوجود مزاحمت کا تسلسل برقرار ہے ـ اس سماج کو جامد قرار دے کر چند پارلیمانی مسخروں ، ابن الوقت سرداروں اور موقع پرست متوسط طبقے کو بلوچستان کا حقیقی چہرہ مان کر مبہم ثقافتی انقلاب کا درس دینا عجیب بھی ہے اور ہر قسم کے معنوں میں غریب بھی ـ

کلچر ڈے ایک عوامی دن ہے ـ اس دن پر تواتر سے غیر عوامی قوتیں قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں ـ ضرورت قبضے کی اس کوشش کو ناکام بنانا ہے ـ پورا سال تفریح منانے والے افراد بلوچ یومِ ثقافت پر یہ یاد دلانے پہنچ جاتے ہیں کہ بلوچ سوگ میں ہیں سو خوشی حرام ہے ـ اس انقلاب اور مزاحمت پر لعنت جو رقص و موسیقی سے عاری ہو ـ


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔