بلوچستان: محرومی،استحصال، جبر اور راہ نجات – زلمی پاسون

59

بلوچستان: محرومی،استحصال، جبر اور راہ نجات

تحریر: زلمی پاسون

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ محرومی، پسماندگی، غربت، ناخواندگی، لاعلاجی اور بیروزگاری کے حوالے سے ملک بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔ 1947ء میں پاکستان بننے کے ایک سال بعد اس صوبے کے نصف حصے کو زبردستی اور فوجی قبضے کے ذریعے پاکستان کا حصہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد اس صوبے کی پسماندگی، محرومی اور غربت میں کمی ہونے کی بجائے مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آج پورے ملک میں پسماندگی کے ہر پیرامیٹر کے حوالے سے بلوچستان کا نمبر پہلا ہوتا ہے۔ گوکہ یہاں پر بے شمار معدنی وسائل، لمبی ساحلی پٹی، ایران اور افغانستان کے ساتھ کاروباری سرحدیں موجود ہیں، مگر اُن پر حق حکمرانی اور ملکیت ملک بھر کے مٹھی بھر سرمایہ داروں، رئیسوں، فوجی اشرافیہ اور صوبے کے چند دلال خاندانوں کی ہے، جس کی وجہ سے ان تمام تر قدرتی وسائل کا فائدہ صوبے اور ملک کے چند رئیس، سرمایہ دار خاندانوں اور فوجی اشرافیہ کو مل رہا ہے۔ مثال کے طور پر صوبے کے جو حصے قدرتی وسائل سے مالامال ہیں وہاں کے باشندے صوبے کے باقی حصوں سے بھی زیادہ پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں اور دو وقت کی روٹی، پینے کے صاف پانی، علاج، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات سے یکسر محروم ہیں۔ اس سلسلے میں ہم کوشش کرینگے کہ سرمائے اور محنت کے اس تضاد کو اس تحریر میں عوام کے سامنے رکھ سکیں۔

قدرتی وسائل

اس ضمن میں ہم اُن بڑے بڑے پراجیکٹس کے حوالے سے بحث کرینگے جوکہ زیرِ استعمال ہیں۔ ان پراجیکٹس سے صوبے کے مظلوم عوام کا کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے، اس کا احاطہ ہم بعد میں مختلف بنیادی ضروریات اور سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے کرینگے۔

تیل و گیس

پاکستان اینڈ گلف اکنامک فورم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اندر موجود متوقع 25.1 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر میں سے 19 ٹریلین کے قریب صرف بلوچستان کے اندر موجود ہیں۔ اسی طرح 300 ملین کیوبک بیرل تیل کا زیادہ حصہ بلوچستان کے اندر پایا جاتا ہے، کیونکہ بلوچستان کی جغرافیائی لوکیشن ایسے علاقے میں ہے جس کے آس پاس پڑوس میں ایران، افغانستان اور دیگر خلیجی ممالک موجود ہیں جوکہ مذکورہ ذخائر سے مالامال ہیں۔ سوئی گیس فیلڈ پاکستان کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں واقع ہونے کی وجہ سے ہی گیس کے اس بڑے ذخیرے کو سوئی گیس کا نام دیا گیا۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے دیگر علاقے، جن میں خاران، بولان، قلات، ژوب، کوہلو اور زرغون شامل ہیں، میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ 1995ء تک پاکستان کی 56فیصد گیس یہیں سے نکالی جاتی تھی جوکہ اب 2017ء میں 17فیصد ہے۔ سندھ کے بعد بلوچستان گیس کے پیداوار میں دوسرے نمبر پر ہے مگر صوبے کے 34اضلاع میں سے صرف 20اضلاع کو گیس میسر ہے، یہاں تک کہ سوئی سے 4کلومیٹر دوری پر آبادی گیس سے یکسر محروم ہے۔ دوسری طرف گیس کی مد میں بلوچستان کے چند حکمران خاندان گیس کی رائلٹی کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے سے زیادہ حصہ بٹورتے ہیں،مگر ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں لوگوں کو صحت، تعلیم، پانی اور روزگارکی سہولیات میسر نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان تمام تر سہولیات کی عدم موجودگی اور بدامنی کی وجہ سے علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

سیندک پراجیکٹ

ان تمام قدرتی وسائل پر وہاں کے مظلوم عوام کی ملکیت ہونا تو دور کی بات، ضلع چاغی میں موجود سیندک پراجیکٹ کے باشندے پینے کے صاف پانی پینے سے بھی محروم ہیں۔

سیندک پروجیکٹ کے حجم،ملکیت اور علاقے میں آباد لوگوں کے مسائل کے حوالے سے ہم پہلے مفصل مضمون لکھ چکے ہیں مگر یہاں پر اتنا لکھنا مناسب ہے کہ سیندک پروجیکٹ میں 1.69ملین ٹن کاپر، 2.24ملین اونس سونا اور 2.49ملین اونس تانبے کے ذخائر موجود ہیں، جسکی مالیت ہزاروں ملین ڈالرز بنتی ہے، مگر ان تمام قدرتی وسائل پر وہاں کے مظلوم عوام کی ملکیت ہونا تو دور کی بات، ضلع چاغی میں موجود سیندک پراجیکٹ کے باشندے پینے کے صاف پانی پینے سے بھی محروم ہیں۔ جبکہ اس پراجیکٹ کی ملکیت اب چینی سامراج کی ایک کمپنی کے پاس ہے، اور اس پر کام کرنے والے محنت کشوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ اس کے علاوہ ضلع چاغی کے لوگوں کے لئے صحت کی سہولیات کا اتنا فقدان ہے کہ چاغی میں 22,700 لوگوں کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ جبکہ چاغی ڈسٹرکٹ میں کالے یرقان اور گردوں کی بیماریاں عام ہیں۔ چاغی ضلع میں 65فیصدلوگ پینے کے صاف پانی سے بالکل محروم ہیں،70فیصد لڑکیاں تعلیم کے زیور سے محروم ہیں،38فیصدلوگ آج کے جدید دور میں بھی بجلی جیسی سہولت سے فیض یاب نہیں ہوپارہے ہیں۔

کوئلہ

سندھ کے بعد بلوچستان کوئلے کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر ہے، جس کا حجم 217ملین ٹن سالانہ ہے۔ بلوچستان کے جن علاقوں میں کوئلے کے ذخائر پائے جاتے ہیں وہاں پر صوبے کے دیگر علاقوں کی طرح محرومی کے بادل چھائے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی کوئلے کی کانیں ملک کی خطرناک ترین مائنز ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف حادثات کی وجہ سے محنت کشوں کی اموات ہوتی رہتی ہیں۔ کول مائنز پر بھی حسبِ معمول صوبے اور ملک کے چند رئیس خاندانوں اور فوجی اشرافیہ کی اجارہ داری ہے۔ کول مائنز کے علاقوں میں بھی صوبے کے دیگر علاقوں والی ہی صورتحال ہے جس میں عوام کو علاج،تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں۔ کول مائنز کے علاقے میں وہاں کے باشندوں کو علاج جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی تو دور کی بات ہے حتی کہ کول مائنز میں کام کرنے والے محنت کشوں کو کسی حادثے کی صورت میں کوئی بھی سہولت میسر نہیں ہوتی،جبکہ کول مائنز مالکان ٹھیکیدار اور ریاستی ادارے ان محنت کشوں کے دن رات کے استحصال سے اربوں روپیہ منافع کما رہے ہیں۔

ساحلی پٹی اور گوادر

گوادر کو نام نہاد چینی سامراجی منصوبے سی پیک کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا رہا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ گوادر شہر میں عام عوام کے لیے پینے کا صاف ناپید ہے اور صاف پانی کا ایک ٹینکر 8ہزار سے15ہزار روپے کے درمیان ملتا ہے۔

بلوچستان کی ساحلی پٹی 770 کلو میٹر طویل ہے، جس میں ضلع گوادر بھی شامل ہے۔ گوادر کے حوالے سے تو ہر کوئی واقف ہے، مگر وہاں کی عام مظلوم عوام کے حوالے سے کسی کو علم نہیں ہے کہ ان کی زندگی سامراجی طاقتوں کے اس اکھاڑے میں کیسے گزرتی ہے۔ گوادر کے 80فیصد لوگ ماہی گیری سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے علاوہ ان کا کوئی دوسرا بڑا ذریعہ معاش نہیں ہے، مگر ماہی گیری کے اس دنگل میں ٹرالر مافیا والے گوادر کے محنت کشوں کی روزی پر لات مارتے رہتے ہیں، جس کی مثال یہ ہے کہ 770کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی سے سالانہ صرف 147ہزارٹن مچھلی کا شکار ہوتا ہے، جبکہ350کلومیٹر کی سندھ کے ساحلی پٹی سے 346ہزار ٹن مچھلی پکڑی جاتی ہے۔ مزیدبرآں، گوادر کو نام نہاد چینی سامراجی منصوبے سی پیک کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا رہا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ گوادر شہر میں عام عوام کے لیے پینے کا صاف ناپید ہے اور صاف پانی کا ایک ٹینکر 8ہزار سے15ہزار روپے کے درمیان ملتا ہے۔ گوادر شہر کے باسی، جن کی اکثریت ماہی گیری کے شعبے سے منسلک ہے، ان کا پیشہ چینی سامراجی منصوبے سی پیک کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے ماہی گیر مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ نااہل حکمران ان ماہی گیروں کو ایک لمبے عرصے سے جھوٹے وعدے اور جھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں مگر عملی طور پر ان کی مدد کے لئے کچھ نہیں کیا جارہا۔ پچھلے ستر سالوں میں ماہی گیروں کے روزگار کا تحفظ تک فراہم نہیں کیا جا سکا ہے۔ جبکہ ان سامراجی منصوبوں کی وجہ سے مقامی ماہی گیری کا شعبہ دن بدن تباہ ہوتا جا رہا ہے۔

پینے کے صاف پانی کے لیے گوادر شہر میں کوئی متبادل نظام نہیں ہے بلکہ یہاں کے بچے اور بچیاں تعلیم اور ترقی کا سفر طے کرنے کی بجائے گھر سے ان واٹر ٹینکروں تک سفر طے کرنے میں مگن ہوتے ہیں تاکہ ان کے خاندانوں کی پیاس بجھ سکے۔ آنکڑا ڈیم جوکہ 1990ء میں 25ہزار کی آبادی کو پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ اب بالکل ناکافی ہو چکا ہے کیونکہ اب گوادر کی آبادی 3لاکھ کے قریب ہے، جبکہ اس ڈیم کی صلاحیت 50فیصدکم ہوچکی ہے، اور سروے کے مطابق یہ پانی بھی پینے کے قابل نہیں ہے۔ گوادر شہر میں بندرگاہ،نئی سڑکیں،اور رئیل اسٹیٹ کی شکل میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے مگر روزانہ 100 سے زائد گائنی کی مریضوں کا معائنہ کرنے کے لیے گوادر کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایک ہی لیڈی ڈاکٹر موجود ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ماہر گائناکالوجسٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے حاملہ خواتین کو زچگی کے دوران سینکڑوں میل دور جانا پڑتا ہے۔ گوادر شہر کے ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں آپریشن تھیٹر تو موجود ہے لیکن بے ہوشی کا ڈاکٹر نہیں، زچگی وارڈ ہے لیکن گائناکالوجسٹ نہیں۔ کوسٹل ہائے وے کے ذریعے گوادر کو کراچی سے ملایا گیا ہے، مگر گوادر کے اندرونی و مضافاتی علاقے اب تک پختہ سڑک کی سہولت سے محروم ہیں۔

دیگر قدرتی وسائل

دیگر قدرتی وسائل میں کرومائیٹ، جپسم اور ماربل وغیرہ بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے متعلقہ علاقوں سے ہٹ کر ملک کے دیگر علاقوں سے بھی محنت کش اپنی روزی روٹی کمانے کی خاطر یہاں آتے ہیں۔ ان تمام تر قدرتی وسائل کی ملکیت نجی ہے اور چند سرمایہ داروں،کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے جبکہ ریاستی اور خصوصاً فوجی اشرافیہ بھی لوٹ مار میں اپنا پورا حصہ بٹورتی ہے۔ اسکی وجہ سے ان تمام علاقوں کے لوگوں کو ان قدرتی وسائل سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان تمام تر قدرتی وسائل کے خام مال سے صنعتی اشیاء بنانے کے لیے صوبے میں کوئی کارخانے نہیں ہیں، جوکہ مظلومیت کا ڈھونگ رچانے والے مقامی حکمرانوں کے خصی پن اور دلالی کا اہم ثبوت ہے۔

محرومی، غربت اور پسماندگی

ان تمام تر قدرتی وسائل پر بحث کے بعد ہم بلوچستان کے مظلوم عوام کی محرومی کی طرف آتے ہیں، کہ یہاں پر موجود عام عوام کی زندگی کیسے گزر رہی ہے۔ اس ضمن میں ہم بلوچستان بھر کے مظلوم عوام کو بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حوالے سے درکار سہولیات اور اُن کی فراہمی کے حوالے سے مفصل بحث کرینگے۔

غربت

اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کے 20غریب ترین اضلاع میں بلوچستان کے 16اضلاع شامل ہیں جن میں قلعہ عبداللہ96فیصدشرحِ غربت کیساتھ پہلے نمبر پر ہے۔

پاکستان میں غربت کے لحاظ سے بلوچستان کا پہلا نمبر ہے، 71.1فیصدلوگ غربت کا شکار ہیں، مزید یہ کہ غربت کی شہروں کی نسبت دیہاتوں میں زیادہ خطرناک صورتحال ہے، یعنی85فیصد دیہاتی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کے 20غریب ترین اضلاع میں بلوچستان کے 16اضلاع شامل ہیں جن میں قلعہ عبداللہ96فیصدشرحِ غربت کیساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ عالمی اداروں کے حساب سے بلوچستان میں غربت کی بنیادی وجوہات کے حوالے سے جتنے بھی پیرامیٹرز ہیں وہ شدید تنزلی کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر پینے کے صاف پانی کو اگر لیجئے تو بلوچستان میں صرف 20فیصد لوگوں کو یہ سہولت میسر ہے۔ قحط سالی اور بے حس حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جارہی ہے جس کی وجہ سے دیہاتی آبادی کی شہروں کی طرف ہجرت ایک لازمی اور فطری امر ہے۔ بلوچستان کے صرف 25فیصددیہاتوں میں بجلی فراہم کی گئی ہے جبکہ پاکستان کے دیگر دیہاتوں میں یہ تناسب تقریباً75فیصد ہے۔ اس کے علاوہ غربت کی دیگر وجوہات میں ریاستی جبر کے نتیجے میں بد امنی،مسلح بغاوتیں، انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی، ناخواندگی، لاعلاجی اور بیروزگاری سرفہرست ہیں۔ 2013ء سے 2018ء تک بلوچستان میں درکار بارشوں سے 10فیصدکم بارشیں ہوئی ہیں جسکی وجہ سے قحط اور خشک سالی میں اضافہ ہورہا ہے۔ WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق اس خشک سالی سے 44لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں،5سال سے کم670,000بچے اور 370,000حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

بیروزگاری

بلوچستان میں سالانہ 25ہزار کے قریب نوجوان گرایجویشن کرکے محنت کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، جن میں صرف ڈھائی سے تین ہزار کے قریب نوجوانوں کو روزگار نصیب ہوتا ہے

ملک بھر میں بیروزگاری عروج پر ہے، اگر اس کو ہم بلوچستان کے حوالے سے دیکھیں تو صرف یہ کہنا کافی ہوگا کہ بلوچستان میں سالانہ 25ہزار کے قریب نوجوان گرایجویشن کرکے محنت کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، جن میں صرف ڈھائی سے تین ہزار کے قریب نوجوانوں کو روزگار نصیب ہوتا ہے جبکہ باقی بیروزگاری کا شکار ہوکر دربدر کی ٹھوکریں کھاکر مختلف غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ 2016-17ء میں محکمہ تعلیم بلوچستان نے 4500اسامیوں کا اعلان کیا تھا جس پر لگ بھگ ایک لاکھ نوجوانوں نے NTS کی بھاری بھر کم فیسیں جمع کرائیں، جن میں صرف 4500کا انتخاب ہونا تھا، مگر وہ انتخاب بھی سیاسی اقرباء پروری اور رشوت کی نذر ہوگیا جس کے خلاف 10 مہینوں تک NTSپاس نوجوانوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ اس کے علاوہ 5ستمبر2018ء کو NTS پاس نوجوان سعید احمدبلوچ نے پنجگور میں بیروزگاری کی وجہ سے خودکشی کرلی۔ ایسے واقعات بلوچستان سمیت ملک بھر میں ہوتے رہتے ہیں مگر اُن کی رپورٹنگ نہیں ہوتی۔ ملک بھر کے اندر بیروزگاری کا ایک ایسا جال پھیلا ہوا ہے جس کو حل کرنا اس نظام کے بس کی بات نہیں۔ ریلوے میں بلوچستان کے کوٹے پر 90آسامیوں کے لیے 16ہزار نوجوانوں نے درخواستیں دی تھیں۔ واضح رہے کہ ان 90پوسٹوں کے لیے تعلیم کی حد ہائیر سیکنڈری ایجوکیشن تھی مگر ان 16ہزار درخواست دہندگان کی اکثریت ایم اے،ایم ایس سی اور گریجویٹ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بیروزگار فارماسسٹس کے احتجاجی کیمپ کے تین مہینے پورے ہوگئے ہیں،مگر نااہل حکمران ان بیروزگاروں کو صرف لالی پاپ دے رہے ہیں۔ جتنے بھی پروفیشنل ڈگری ہولڈرز اور نان پروفیشنل ڈگری ہولڈرز ہیں، وہ روزگار پانے کے لیے احتجاج پر ہیں۔ بیروزگاری کی وجہ سے اکثر نوجوان اپنی فیلڈ کو چھوڑ کر کوئی اور پیشہ اختیار کرلیتے ہیں۔ اسی لئے آج کل بلوچستان میں غیر رسمی معیشت (اسمگلنگ) کیساتھ ایک بڑی تعداد میں نوجوان جڑرہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوتا۔مگر یہ پیشہ جان لیوا ہوتا ہے بالخصوص تیل سمگلنگ میں روزانہ ایسے واقعات ہوتے ہیں، جن میں نوجوان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 36لاکھ بچوں میں سے صرف 13لاکھ بچے سکول جاتے ہیں جن میں اکثریت لڑکوں کی ہے۔ کیونکہ بلوچستان میں اب بھی لڑکیوں کی تعلیم کو شجرِ ممنوعہ تصور کیا جاتا ہے۔

تعلیم

تعلیم کے حوالے سے بلوچستان کا نمبر ایک بار پھر آخری ہے، بلوچستان میں شرحِ خواندگی46فیصدہے، جن میں 63فیصد مرد اور26فیصد خواتین خواندہ ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 36لاکھ بچوں میں سے صرف 13لاکھ بچے سکول جاتے ہیں جن میں اکثریت لڑکوں کی ہے۔ کیونکہ بلوچستان میں اب بھی لڑکیوں کی تعلیم کو شجرِ ممنوعہ تصور کیا جاتا ہے۔ 2013ء کی ایک رپورٹ کے مطابق 65فیصد دیہی لڑکیاں کبھی سکول گئی ہی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پورے صوبے میں لڑکیوں کے لیے صرف درجن بھر ڈگری کالجز ہیں، جبکہ 11اضلاع میں لڑکوں کے لیے بھی ڈگری کالجز نہیں ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 900گھوسٹ سکولز ہیں، ڈیڑھ لاکھ اساتذہ کا ریکارڈ موجود نہیں، جبکہ 3لاکھ طلبہ کا جعلی ریکارڈ بنایا گیا ہے۔ صوبے میں 86فیصد بچے گورنمنٹ اور16فیصد پرائیویٹ سکولز میں پڑھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی زبوں حالی پر اگر سرسری نظر ڈالی جائے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ 36فیصد سکولز میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، جبکہ 56فیصد سکولوں میں بجلی کی فراہمی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگر صوبے کے کالجز اور یونیورسٹیز کی بات کی جائے، تو یہاں پر بھی حالت قابلِ تشویش ہے۔ جن جن مشکلات کا سامنا طلبہ کو کرنا پڑتا ہے اُن میں سب سے بڑا مسئلہ فیسوں میں مسلسل اضافہ، ہاسٹلز کی عدم موجودگی، ٹرانسپورٹ کے مسائل، کیمپس میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی، اساتذہ کی کمی، غیر منظم سمسٹر سسٹم وغیرہ شامل ہیں۔ صوبے میں حالیہ نئے میڈیکل کالجز کے طلبہ مسلسل احتجاج پر ہیں جن کے مطالبات تعلیمی نظام کی ناقص صورتحال کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے طلبہ سیاست کو بزورِ طاقت ختم کیا جارہا ہے، جو تعلیمی اداروں میں طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ صوبے کی سب سے بڑی یونیورسٹی کو چھاؤنی بنایا گیا ہے، جس میں قدم قدم پر مورچے اور چیک پوسٹیں لگائی گئیں ہیں، جبکہ بلوچستان یونیورسٹی کے علاوہ صوبے کے تمام بڑی یونیورسٹیز اور کالجز میں FCکا ایک بریگیڈ موجود ہوتا ہے، جوکہ اکثر جگہوں پر ہاسٹلز اور بعض اداروں میں سپورٹس کمپلیکس پر غیر قانونی قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ سابقہ صوبائی حکومت کی نام نہاد تعلیمی ایمرجنسی اورموجودہ حکومت کی مکمل نااہلی کی حقیقت کا ایک اندازہ صوبے میں تعلیمی معیار کی مسلسل گراوٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔

نومولود بچوں کی شرح اموات (ایک ہزار میں 97) اور جبکہ دوران زچگی شرح اموات(ایک لاکھ میں 785) پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ بچوں کی پیدائش کی سہولیات 16فیصدہے، جبکہ صرف 18فیصد بچے سند یافتہ ہیلتھ کیئررز کے ہاتھوں پیدا ہوتے ہیں۔ صرف 16فیصد بچوں کو ویکسین کی سہولت دستیاب ہے۔

صحت

صحت کی سہولیات اور علاج معالجے کا مسئلہ پورے ملک میں اس وقت شدید نوعیت اختیار کر گیا ہے، جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ٹیچنگ ہسپتالوں کی حالیہ نجکاری کے فیصلے (ایم ٹی آئی ایکٹ) کے ذریعے محنت کش عوام کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج خریدنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں صحت کے حوالے سے صورتحال مزید تشویشناک ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے صوبے میں 7300افراد پر ایک ڈاکٹر میسر ہے، جبکہ پورے صوبے میں صرف23سرکاری ہسپتال ہیں جن میں کوئٹہ شہر سے باہر اکثر ہسپتال RHCلیول کے ہوتے ہیں۔ کوئٹہ شہر کے اندر بھی سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی لیبارٹریز میں چند ایک ٹیسٹوں کے علاوہ باقی تمام ٹیسٹ پرائیویٹ لیبارٹریز سے کرائے جاتے ہیں، جبکہ آپریشن تھیٹر اور وارڈز میں درکار تمام ادویات مارکیٹ سے خریدنی پڑتی ہیں۔ سول ہسپتال میں ٹراما سینٹر ایک ایسا ادارہ ہے جس میں مختلف حادثات و ناگہانی واقعات کے مریض لائے جاتے ہیں مگر ٹراما سینٹر میں صرف ڈائریکٹر کے علاوہ کوئی بھی پروفیشنل نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اکثر مریضوں کو CMH ریفر کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جوکہ صوبے کے مظلوم عوام کیساتھ ظلم ہے۔ کیونکہ CMH عام عوام کے لئے ایک پرائیویٹ اور مہنگا ترین ہسپتال ہے۔ اس کے علاوہ پورے صوبے میں ان RHCکی حالت ایسی ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی، میڈیسن کی موجودگی تو دور کی بات ہے، آکسیجن کی سہولت بھی ناپید ہے۔ ایسے میں کسی بھی حادثے کی صورت میں مریض کسی علاج معالجے کے بغیر ہی مر جاتا ہے۔

بنیادی مراکز صحت، جن کی تعداد صوبے میں 553ہے، ان سب کو PPHIکے زریعے چلایا جاتا ہے۔ نومولود بچوں کی شرح اموات (ایک ہزار میں 97) اور جبکہ دوران زچگی شرح اموات(ایک لاکھ میں 785) پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ بچوں کی پیدائش کی سہولیات 16فیصدہے، جبکہ صرف 18فیصد بچے سند یافتہ ہیلتھ کیئررز کے ہاتھوں پیدا ہوتے ہیں۔ صرف 16فیصد بچوں کو ویکسین کی سہولت دستیاب ہے۔ گزشتہ دو مہینوں کے دوران کوئٹہ،نوشکی،خضدار اور ڈیرہ بگٹی میں کینسر کے موذی مرض سے درجنوں افراد کی ہلاکتیں رپورٹ ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ یرقان، زکام کے وائرس کی طرح عام ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں پینے کے صاف پانی کی عدم موجودگی اور عطائیوں کی بھر مار ہے۔ ایشیاء میں پاکستان کینسر کی بیماری میں ٹاپ پر ہے، مگر یہاں بھی کم آبادی رکھنے والے صوبے یعنی بلوچستان کا نمبر پاکستان میں پہلا ہے۔ بلوچستان میں صحت کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے 30کلومیٹر کا اوسط سفر طے کرنا پڑتا ہے، جبکہ فی کس OPDکی سہولت0.4ہے، جوکہ قابل قبول حد 1 یا1.2 سے کافی حد تک کم ہے۔ 73فیصد مریض شدید غربت اور بے بسی کیوجہ سے اپنا علاج نہیں کر اسکتے۔ملیریا، جوکہ قابلِ علاج بیماری ہے، اس کی وجہ سے کئی اموات و اقع ہوتی ہیں۔ 2017ء کی ایک رپورٹ کے مطابق 75ہزار افراد اس بیماری کے شکار پائے گئے ہیں۔ یونیسیف کے ایک رپورٹ میں بلوچستان کے 84فیصد بچوں کو قابلِ علاج بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں کمزور بتایا گیا ہے۔

کوئٹہ شہر میں پرائیویٹ ہسپتال ایک پرچون دکان کی مانند ہیں۔ ایک ہی روڈ پر بیسیوں نجی ہسپتال ہوتے ہیں جوکہ صرف کاروبار کی نیت سے کھولے جاتے ہیں۔ ان پرائیویٹ ہسپتالوں میں WHOکے قوانین کا نفاذ بھی بالکل نہیں ہوتا۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں عوام کو بیدردی سے لوٹا جاتا ہے، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔جبکہ دوسری طرف ملک بھر کے حکمران طبقے کی طرح بلوچستان کے نااہل حکمران اپنا اور اپنے خاندان کا علاج باہر سے کراتے ہیں۔

تباہ حال انفراسٹرکچر

انفراسٹرکچر میں ہم بالخصوص سڑکوں کی زبوں حالی پر روشنی ڈالیں گے، جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر ایسے جان لیوا حادثات رونما ہوتے ہیں کہ بعض اوقات ایک ہی خاندان کے تمام افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 60ملین لوگ ٹریفک حادثات کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں، جن میں 10 لاکھ لوگ جاں بحق اور 50 لاکھ زخمی ہوتے ہیں۔ ان میں سے 90فیصد تیسری دنیا کے ممالک میں پیش آتے ہیں۔ NTRC کی ایک رپورٹ کی مطابق پاکستان میں سالانہ 14لاکھ افراد روڈ ایکسیڈنٹ میں متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے مطابق 2013-14ء میں 50ہزارسے زائد لوگ حادثات میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ایک دوسری تحقیق کے مطابق روزانہ 15 لوگ روڈ حادثات کی وجہ سے جاں بحق ہوتے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق قومی شاہراؤں میں سے 40فیصدبلوچستان میں واقع ہیں، جن کی کل لمبائی 5ہزار کلومیٹر ہے۔ یہاں پر WHOکی رپورٹ کے مطابق سالانہ 15 سے 16ہزار افراد حادثاتی اموات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کوئٹہ۔کراچی شاہراہ، جسے اب مقامی لوگ قاتل شاہراہ کہتے ہیں، پر روزانہ کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ سے ایران بارڈر، کوئٹہ گوادر، کوئٹہ چمن، کوئٹہ لاہور، کوئٹہ اسلام آباد و پشاور، ایسی قومی شاہراہیں ہیں، جن پر سالانہ ہزاروں ایسے خونخوار حادثات رونما ہوتے ہیں جن میں ہزاروں جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ صرف جون2019ء کے مہینے میں کوئٹہ سے ژوب تک 400کلومیٹر کے فاصلے میں 50 سے زائد لوگ مختلف حادثات کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صوبے میں 5ہزار کلومیٹر کی قومی شاہراؤں پر سالانہ کتنے لوگ مرتے ہوں گے۔ یہاں پر ایک اہم بات یہ ہے کہ ان تمام شاہراہوں کا صوبے کے کسی نہ کسی ضلعی ہیڈ کوارٹر سے گزر ہوتا ہے جہاں پر سرکاری ہسپتال موجود ہوتے ہیں مگر اُن ہسپتالوں کی زبوں حالی کا ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں۔ ان حادثات میں معمولی زخمی کو بروقت مکمل ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے موت کو گلے لگانا پڑتا ہے، کیونکہ سرکاری و پرائیویٹ دونوں سطح کے ہسپتال روڈ ایکسیڈنٹ میں ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں کلومیٹر کی دوری پر ہوئے حادثات کے متاثرین کو کوئٹہ تک لایا جاتا ہے، جس میں اکثر اوقات راستے میں ہی مریض جان گنوا بیٹھتے ہیں، جبکہ کوئٹہ پہنچنے کے بعد ان کو مختلف سرکاری و نجی ہسپتالوں میں ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں، جس کا ہم مفصل جائزہ لے چکے ہیں۔

حادثات کی بنیادی وجوہات میں تیز رفتاری، اندھی سڑکیں (جہاں کیٹ آئیز نہ ہوں)، ٹریفک انجینئرنگ ڈیزائن میں کوتاہیاں،اور سب سے بڑا مسئلہ ناتجربہ کاری اور لاقانونیت کا ہے۔ گاڑی چلانا سیکھنے کے لیے ٹریننگ دینے والے اداروں کی عدم موجودگی،اور بغیر ٹریننگ کے لائسنسوں کا اجراء ایک اہم مسئلہ ہے۔ اکثر اوقات ڈرائیوروں کی غلطیوں کی وجہ سے خطرناک حادثات رونما ہوتے ہیں، مگر اس بوسیدہ اور گلے سڑے نظام کے دلال،بے حس اور نااہل حکمران ان سارے ضروری لوازمات کی اہمیت کو سمجھنے سے کوسوں دور ہیں۔

بلوچستان کے مظلوم عوام کو اس ظلم اور بربریت کے چھائے ہوئے بادلوں سے خود کو نکالنے کے لیے باقی پاکستان، اس خطے اور پوری دنیا کے محنت کشوں کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جڑت بنانا ہو گی

سوشلزم یا بربریت

عظیم مارکسی استاد فریڈرک اینگلز نے خوب کہا تھا کہ آج انسانیت کے پاس دو ہی رستے ہیں سوشلزم یا بربریت۔ آج نہ صرف بلوچستان یا پاکستان اس موڑ پر کھڑے ہیں، بلکہ دنیا بھر میں مروجہ سرمایہ دارانہ نظام کی زوال پذیری اور مختلف نامیاتی بحرانوں کی وجہ سے پوری انسانیت اس موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے، جس کے حوالے سے انقلابی استاد اینگلز نے بات کی تھی۔ بلوچستان کے مسائل کو ہم دنیا بھر کے مسائل سے کسی بھی صورت میں الگ نہیں کرسکتے، اور نہ یہ الگ ہوسکتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل پاکستان کی دیگر محکوم قومیتوں اور مظلوم طبقات سے الگ ہیں، تو یہ ان کی خام خیالی ہے، البتہ مسائل کی نوعیت میں کچھ فرق ضرور ہو سکتا ہے۔ مگر ایک نظام کے اندراور ایک ہی سیارے پر رہتے ہوئے بلوچستان کو کسی دوسرے سیارے سے متعلق سمجھنا صرف یوٹوپیائی دانشوری ہے۔ اس سلسلے میں انقلابی استاد لیون ٹراٹسکی کا مشہور تھیسز ”ناہموار اور مشترکہ ترقی“ (Uneven And Combined Development) سے نہ صرف اس خطے یا تیسری دنیا کے مسائل سمجھے جاسکتے ہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی زوال پذیری اور خصی پن کو بھی واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

اوپر کی گئی بحث کو اگر ہم عالمی حوالے سے دیکھنے کی کوشش کریں تو 2008ء میں سرمایہ دارانہ نظام کے عالمی نامیاتی بحران کے بعد سے لے کر اب تک دنیا بھر کے محنت کش جن تکالیف، مصائب، مسائل اور مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، وہ انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں محنت کش عوام غربت، ننگ، بھوک، افلاس، لاعلاجی،بیروزگاری، دہشت گردی، بنیاد پرستی، استحصال، ظلم اور بربریت کے نہ ختم ہونے والے جبر کا شکار ہیں، جس کو سوشلزم کے سائنسی نظریات کے ذریعے سمجھنے اوراس کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ انقلابی استاد کارل مارکس نے کہا تھا، ”کہ فلسفیوں نے آج تک دنیا کی صرف تشریح کی ہے،لیکن اصل کام دنیا کو بدلنے کا ہے“۔ اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اگر ہم صرف بلوچستان کے اندر سیندک پراجیکٹ کی مالیت کا غیر جانبدارانہ تخمینہ لگائیں تو یہ نہ صرف بلوچستان کے مظلوم عوام بلکہ پاکستان بھر کے مظلوم و محکوم عوام کو بہت کچھ دے سکتا ہے، مگر یہاں پر سرمائے اور محنت کا تضاد جب تک موجود ہے تب تک 1 فیصدسرمایہ دار اور ریاستی اشرافیہ 99فیصدمحنت کش عوام کا خون نچوڑتے رہیں گے۔

بلوچستان کے مظلوم عوام کو اس ظلم اور بربریت کے چھائے ہوئے بادلوں سے خود کو نکالنے کے لیے باقی پاکستان، اس خطے اور پوری دنیا کے محنت کشوں کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جڑت بنانا ہو گی، کیونکہ 2008ء کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد پوری دنیا میں طبقاتی خلیج کا نہ صرف کھل کر اظہار ہوا ہے بلکہ اس طبقاتی خلیج کیخلاف دنیا بھر میں کئی تحریکیں اُبھر چکی ہیں اور مزید اُبھریں گی۔ جوں جوں سرمایہ دارانہ نظام گل سڑ رہا ہے توں توں اس کے مظالم اور ننگے استحصال و جبر میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس کی واضح مثال 2018ء میں برسرِ اقتدار آنے والی تبدیلی سرکار کی طرف سے آئی ایم ایف کے احکامات کے تحت نافذ کی گئی معاشی دہشت گردی کے مترادف ننگی جابرانہ معاشی پالیسیاں ہیں۔ ظلم، جبر اور استحصال پر چلنے والے اس ظالم سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے دلال حکمرانوں کیخلاف غیر مصالحانہ طبقاتی جدوجہد کرنی ہوگی، اور اس جدوجہد کو دنیا بھر کے مظلوموں اور محنت کشوں کیساتھ جوڑنا ہوگا تاکہ انسانیت کے مستقبل کے لئے ایک غیر طبقاتی سماج کی روشن،کھلی اور ہوا دار عمارت تعمیر کی جا سکے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔