براس سے وابستہ امیدیں – برزکوہی

478

براس سے وابستہ امیدیں

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

جنگ فناء سے بقاء کی طرف سفر ہے، جنگ مستقبل کا امن ہے، جنگ بیداری و شعور کی پختگی کا اہم ذریعہ ہے، جنگ بزدلی کو مات دیتی ہے، جنگ ٹوٹے ہوئے، بکھرے ہوئے حوصلوں کو بلندیوں تک سر کرتی ہے۔ جنگ خوف و دہشت کا سینہ چیر کر بہادری کو جنم دیتی ہے، جنگ اندھیرے میں روشنی ہے، جنگ مایوسی و ناامیدی کا دشمن ہے، جنگ بزدل و بہادر کے فرق کی وضاحت ہے۔ جنگ الجھنوں، تھکاوٹ، تذبذب اور سطحیت کو مٹانے کانام ہے۔ جنگ خود مٹتے ہوئے زبان، تاریخ، کلچر و ثقافت، تہذیب کو دوبارہ زندہ و جاوید رکھنے کا نام ہے۔ جنگ غلامی سے نجات کا واحد ذریعہ ہے، جنگ تاریخ میں تاریخی کردار نبھانے کا بہترین موقع ہے، جنگ اتحاد و اتفاق کا نام ہے، جنگ نظریاتی سنگتی و رشتوں کو مضبوط کردیتی ہے، جنگ مصنوعیت، جھوٹ و فریب دھوکا دہی کو خاک میں ملادیتی ہے۔ جنگ اپنے صفوں میں تنگ نظر، منافق، ڈرپوک لوگوں کو جگہ نہیں دیتی ہے۔ جنگ دوست و دشمن، خیر خواہ و بدخواہ کے درمیان فرق کی واضح لکیر ہے۔ جنگ وہ بہتا پانی ہے جو گندگی کو اپنے اندر ٹکنے نہیں دیتا اور باہر پھینک دیتا ہے۔ جنگ بہادر شہسواروں، جانثاروں اور سربازوں کو کوسوں دور سے لاکر ایک لڑی، ایک ہی قوت میں آخر کار پرو دیتا ہے۔ جنگ مصنوعی، باتونی بھڑک باز کرداروں کو طشت ازبام کردیتی ہے، جنگ شیرزال ماں بہن بیٹیاں جنم دیتی ہے، جنگ بہادر فرزند پیدا کرتی ہے۔ جنگ آپ کے شاعر، ادیب، دانشور، گلوکار کے پہچان و کردار کو حقیقی سمت و رخ فراہم کرکے ان کو تاریخ کے صفحوں میں ہمشہ زندہ رکھتی ہے۔ جنگ خود غرض، مصلحت پسند، موقع پرست، بدنیت، حسد و بغض رکھنے والے اناپرست لوگوں کو برداشت نہیں کرتی ہے، جنگ ہی اولین تقاضہ سچائی، مخلصی اور عاجزی ہوتا ہے۔ غلامی و محکومی کی دلدل میں جنگ کے علاوہ تاریخ میں کردار بن کر ابھرنا ممکن نہیں ہے۔ جنگی اثرات سے جو ذہنی امراض جنم لیتے ہیں، جنگ ہی ان کا خاتمہ و علاج کرتا ہے۔ جنگ ایک آرٹ ہے، جنگ ایک فلسفہ ہے، جنگ ایک تعلیم ہے، جنگ سنجیدگی و پختگی کا دوسرا نام ہے، جنگ صرف اور صرف ایماندار بے غرض اور بہادر لوگوں کا کام و پیشہ ہوتا ہے، یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ جنگ کھوئے ہستی کی کھوج ہے، جنگ انسان کی جنم نَو ہے، جنگ تخلیقِ ذات ہے، جنگ علم و زانت ہے، جنگ تکمیل ذات ہے۔ جنگ، جنگ کیلئے نہیں۔ جنگ حق کیلئے، جنگ آزادی کیلئے، جنگ امن کیلئے، جنگ برابری کیلئے۔

بلوچستان پر پاکستانی قبضے سے لیکر آج تک بلوچ قومی آزادی کے حصول، پاکستان کے قبضہ گیریت کے خلاف، قومی آزادی کی جنگ جاری و ساری ہے، کبھی نشیب و کبھی فراز، بلوچ قومی آزادی کی جنگ کا حصہ رہے ہیں۔

مگر زیربحث سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ بلوچوں کی جنگ کی سطح، شدت اور نوعیت کیا ہے؟ اور یہی امر جنگ میں ضروری ہوتا ہے، صرف جنگ برائے جنگ یا جزوی جنگ لڑنے سے نہ ہی دشمن کو تکلیف و شکست ہوگی، نہ ہی دنیا آپ کی طرف متوجہ ہوگی، نہ ہی کسی قوت کی طرف سے آپ کو اخلاقی، سیاسی، سفارتی اور مالی کمک و مدد حاصل ہوگی اور نہ ہی اوپر متذکرہ جنگی فوائد و خصوصیات جزوی جنگ سے حاصل ہونگی اور نا ہی قوم پر اسکے ایسے اثرات مرتب ہونگے کہ قومی سطح پر تبدیلیاں رونما ہوں۔

گذشتہ دنوں کیچ کے علاقے دشت میں پاکستانی فوج کے ایک کمیپ پر بلوچ مسلح تنظیموں کے اتحاد (براس)کے جانثاروں کا حملہ اور کیمپ پر قبضہ، موجود تمام اہلکاروں کومارنا اور ان کے اسلحہ و گولہ بارود کو اپنے قبضہ میں لیکر خود فرار ہونے میں کامیاب ہونا، بلوچ قومی آزادی کی جنگ کی شدت و نوعیت اور سطح کو جزوی جنگ کے سرکل سے نکالنے اور حقیقی جنگ کی شکل اور رخ پر روانہ کرنے کا ایک بہترین کوشش اور حکمت عملی ہے گوکہ اس نوعیت کا یہ پہلا حملہ یا آپریشن نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس نوعیت اور شدت کے حملے ہوچکے ہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کیسے اور کس طرح تسلسل کے ساتھ بلوچ قومی آزادی کی قومی جنگ کو اس نوعیت اور سطح پر لاکھڑا کرنا ہوگا؟

سب سے پہلے سوچنے، سمجھنے، جاننے کی حد تک یہ سمجھنا اور مطمیئن ہونا ہوگا کہ حقیقی جنگ اسی نوعیت اور سطح کا نام ہے، دوسرا جزوی جنگ اور مکمل جنگ کے فرق کو سمجھنا ہوگا اور جزوی جنگ کو مکمل جنگ سمجھ کر کبھی مطمیئن نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم بھی ایک جنگ لڑرہے ہیں۔ بلکہ جزوی جنگ کو اس وقت مکمل جنگ کی طرف ارتقاء سمجھنا چاہیئے۔ آج اگر بلوچ قومی آزادی کی جنگ اپنا ارتقائی عمل طے کرکے ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو ابھی بلوچ قومی آزادی کی جنگ کا تقاضہ کیا ہے؟

بہترین حکمت عملی اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ حملے سے قبل یہ سوچنا اور سمجھنا ہوگا صرف اور صرف رسم جنگ کو پورا نہیں بلکہ جنگی تقاضات کو مکمل پورا کرکے مکمل جنگ لڑنا ہوگا ۔

رسم جنگ کہنے کا مقصد جنگ کے ساتھ صرف وابستگی و تعلق یا بطور رسم کسی پوسٹ و چوکی پر حملہ یا بطور رسم قبولیت سے بہتر ہے اور آج کا تقاضہ بھی ہے کہ سوچ، ارادہ، نیت اور حکمت عملی، منصوبہ بندی مکمل جنگ کی طرف ہو۔

اس سے دشمن کو نقصان زیادہ ہوگا، دنیا کی توجہ اور متذکرہ قومی تبدیلی رونما ہونگے اور جنگ میں دوستوں اور قوم کا نقصان جو جنگ کا بنیادی حصہ ہے وہ ضرور ہونگے، مگر مہنگا حساب نہیں ہوگا، کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق، بغیر کسی فائدے کے ہزیمت کا سامنا نہیں ہوگا۔ جنگ میں قربانی ضرور دینا پڑے گا لیکن قربانی دینی ہے تو اپنے قوم کا، سرزمین کا، اور جنگ کا پورا حق ادا کرکے، جنگ کے تقاضے پورے کرکے قربان ہونا مہنگا سودا نہیں۔

جنگوں و تحریکوں کی باریک بینی سے مطالعہ و تجربے سے ہمیشہ یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ جہاں بھی مخلتف تحریک و تنظیم، گروپس وغیرہ ہوں، آخر کار وہاں سے ایک حقیقی و منظم قوت ابھر کر سامنے آسکے گی، جو حقیقی جنگ کے تمام لوازمات و تقاضات کو پورا کرکے مکمل جنگ کو آگے بڑھائے گی۔ آج اگر خوش فہمی نہ ہو تو براس اس قوت کی شکل اختیار کرسکتا ہے، بشرطیکہ براس قیادت سے لیکر کارکنوں تک یہ سوچ و اپروچ مکمل ایک پختہ شعور اختیار کرے کہ جنگ کو اب حقیقی جنگ کی طرف مزید گامزن کرنا ہوگا۔

یہ پروسس خود ایک پختہ و سنجیدہ عمل ہے، اس میں مکمل جنگ پر توجہ بہترین حکمت عملی اور بہترین منصوبہ بندی، چیزوں کو مکمل قومی و اجتماعی نظر سے دیکھنے و سمجھنے، صبر و برداشت، دوراندیشی اور مستقل مزاجی بہت اہم ہوتا ہے۔

جذبات، نفرت، دشمنی، جذبہ انتقام اپنی جگہ ہونا بھی چاہیئے لیکن اگر حکمت عملی کی بنیاد پر بلوچ گوریلا سرمچار کسی بھی دشمن کے پوسٹ یا کیمپ پر آپریشن کرتے ہوئے، دشمن فوج کو بارہا ہتھیار پھینکنے اور سرنڈر ہونے پر مجبور کریں اور گرفتار کریں، بعد میں ان کو جنگی قیدی بنا کر جنگی قیدی جیسا سلوک کرکے پھر انسانیت کی بنیاد پر رہا کریں، پھر ایک تو دنیا میں بلوچ قومی جنگ کے حوالے سے مزید بہترین تاثر پیدا ہوگا اور اس سے بھی بڑھ کر پھر آئندہ کسی بھی دشمن کے پوسٹ اور چوکی پر آپریشن اور قبضے کے وقت، دشمن کی فوج مزاحمت بھی نہیں کریگا۔ ان کو یہ پہلے سے معلوم ہوگا کہ ہم پھر رہا ہونگے۔ ہمیں نہیں مارینگے، پھر صرف قبضہ اور دشمن کے ہتھیاروں کو اٹھانے کا کام ہوگا۔ اس سے بھی دشمن کو بہت نقصان اور قومی جنگ کو فائدہ حاصل ہوگا۔

گوکہ ہر تبدیلی ترقی نہیں ہوتا، مگر ہر ترقی تبدیلی ضرور ہوتا ہے اور انسانی ذہن سے لیکر جنگ تک ترقی ضروری ہوتا ہے، ایک ہی ڈگر پر چلنا، کامیابی کا ضامن نہیں ہوتا ہے، اس کے لیئے تبدیلی و ترقی ناگزیر ہوتا ہے، البتہ ہر ترقی و تبدیلی وقتی طور پر ضرور عجیب و غریب اور انوکھا ہوتا ہے، اس سے گریز نہیں کرنا چاہیئے اس کے ضرور دوررس نتائج ہونگے، باقی فیصلہ اور قدم اٹھانا میرا اور آپ کا سب کا کام ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔