بارگ جان تم سے بہت کچھ سیکھنا تھا – سنگت زید بلوچ

74

بارگ جان تم سے بہت کچھ سیکھنا تھا

تحریر: سنگت زید بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بارگ جان یار مجھے تم سے بہت سی باتیں کرنی تھیں، میں نے ڈیڑھ سال کی باتیں، واقعات، حادثات، اپنے سفر، کام کا رپورٹ دینا تھا، علاقائی لوگوں کے عجیب و غریب حرکتوں اور باتوں پر لمبا سا دیوان کرنا تھا، دل کھول کر ہنسنا تھا، ہنسانا تھا، علاقائی سیاسی حالات و دشمن کے خلاف اپناحکمت عملی، آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا تھا، بہت کچھ ابھی تک ہمیں سیکھنا تھا آپ سے یار، آپ بہت جلدی ہمیں چھوڑ کر ہم سے جسمانی طور پر جدا ہوئے۔

تمہارے بغیر شور و لجے کے درخت وپتے، چشمے اور دریائے بڈو کے پانی کا بوند بوند، خاران و واشک کے صحرا و جنگل سب اداس و خاموش ہیں۔

تمہارا کیمپ میں موجود لائیبریری، جہاں کی کتابیں ہر صبح کی کرن کے ساتھ یہ آس لگاتے ہیں کہ اب علم وعمل کا دیوانہ آکر کتابوں پر پڑے دھول کو صاف کرکے، پیار و مہر، ذوق وشوق، غور فکر سے ہمیں مطالعہ کریگا، سنگتوں کے ساتھ ڈسکس کریگا، اپنے علم سے دوسروں کو روشناس کریگا۔

بارگ جان ہمیشہ مطالعہ کرتے اور مطالبہ کرتے کہ جو سنگت پڑھ نہیں سکتا اسکو اپنے ساتھ بٹھا کر سناو اور سمجھاو اور ہمیشہ مثبت سیاسی و جنگی ٹیکنیک پر بحث و مباحثہ کرتا، وہ کہتا کہ اس سے نالج بڑھتی ہے، جو مطالعہ کرتے ہیں، وہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، انسان کو شعور علم سے ملتا ہے اور پختہ بھی علم کے بدولت ہوتا ہے۔

شہید کے زیر سایہ میں نے جدوجہد میں بہت کچھ سیکھا، بی ایس او کے دور سے میرا اسکے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ میرے حقیقی استاد تھے، جس سے میں نے سیاسی، مزاحمتی، جنگی، موبلائزیشن اور سب کچھ سیکھا۔ میں کوئی لکھاری نہیں لیکن لکھنے میں پہلی مرتبہ مجھے بارگ جان نے ہی حوصلہ دیا۔ میرے الفاظ کو سنوار کر میرے ہمت بنے، وہ بلوچ تحریک کو ایک عوامی تحریک بنانے میں سرگرم عمل تھے۔ عوام کو ساتھ لیکر چلنے، عوامی رائے، عوام کے مفادات کا انتہاہی خیال رکھنے والے ہر دلعزیز رہنما تھے، وہ خاران میں مسلح جدوجہد کا بانی تھا، جس نے پہل کی تھی، جنگ میں جنکی جہد مسلسل کے بدولت خاران کے نوجوان جوق در جوق تحریک آزادی سے منسلک ہوئے، سینکڑوں ہنوز وطن کی دفاع میں دشمن سے برسرپیکار ہیں، اور کئی فرزندان وطن، وطن کے ناموس وحرمت و آزادی کے لیے اپنی قمیتی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ بارگ جان کی طرح تا ابد سوچ فکر و نظریہ و تاریخ کے اوراق میں زندہ رہینگے۔

شہید ہمیشہ بلوچ قومی یکجہتی، قومی قوت کو ایک طاقت ایک سنگر ہونے کی انتہاہی حامی تھے، وہ بلوچ تحریک کے بد ترین انتشار و مصنوعی اختلافات کے باوجود تمام تنظیموں کے سنگتوں سے رابطہ رکھتے، سیاسی پلیٹ فام پر مسائل کو حل کرنے کے لیے زور دیتے رہتے۔

اپنے اسی سوچ، فکر و فلسفہ پر گامزن خاران کے پہاڑوں، صحراوں سے جھالاون خضدار کے چٹوک و مولی وتراسانی کے آغوش تک اپنے فکر و عمل علم سے لوگوں کو جہالت، فرسودہ قبائلی نظام کے اندھیرےمیں شعور کی روشنی سے روشناس کرتا۔ بلوچ عوام میں بلوچ کاز کی تبلیغ وترویج کرتا ہوا 19 فروری2018 کو تراسانی کے مقام پر اپنے ہم خیال نظریات رکھنے والے ضیاء دلجان ٹک تیر کےساتھ دشمن فوج اور انکے مذہبی دہشتگرد او سرداروں کی ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ سامنا ہوا ایک طویل گھمسان کی جنگ لڑی گئی، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی، جس میں قابض پنجابی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ گولیاں ختم ہونے پر اپنی آخری گولی جو ہر فکری نظریاتی ساتھی جانثار اپنے لیے پہلے سے ہی وقف کردیتا ہے اور اپنی آخری گولی آخری سانس کے فلسفے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے قابض دشمن کو شکست دیکر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے حلق میں اتار کر اس دنیا فانی اور ہم سے جسمانی طور پر الگ ہوئے، وطن کے ہواؤں میں مل کر فنا وفدا ہوئے۔ وطن کی مٹی کے خوشبوں میں، بلبل کی چہچہاہٹ، رات کی خاموشی اور دن کے اجالے میں وطن کے گوشے گوشے میں تا ابد زندہ ہیں، تاریخ کے سنہری اوراق میں ہمارے سوچ و فکر نظریئے میں زندہ ہیں۔

یہ موت نہیں موت کو شکست دیکر زندہ رہینے کا نام ہے۔ شہید بارگ ودلجان کا ایک سنگر میں شھادت نے اتحاد کی راہیں ہموار کی اور آج ہمیں براس کی صورت میں ایک مظبوط اتحاد، طاقت ایک مشترکہ ادارہ میسر ہوا ہے، دونوں نے یکجہتی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قربانی میں پہل کی۔

شہداء وطن کی قربانیاں صرف اور صرف ایک آزاد وطن، آزاد سماج کے لیئے ہیں، اس مقصد کو منزل مقصود تک پہنچانا ہر بلوچ پر فرض وقرض ہے۔

شہیدوں کے خون کا ہر قطرے قطرے کا حساب لینا انکی جہد کو جاری و ساری رکھنا شہداء کے ساتھ وفا ہے۔ شہدائے قوم و وطن کا اور کوئی نعم البدل نہیں سوائے آزادی کے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔