ایرانی فلم | شبی کہ ماہ کامل شد – ذوالفقار علی زلفی

193

ایرانی فلم: شبی کہ ماہ کامل شد

تحریر: ذوالفقار علی زلفی

دی بلوچستان پوسٹ

2019 کی فلم “شبی کہ ماہ کامل شد” (When the moon was full) کو بعض ناقدین “قصرِ شیرین” (Castle of Dreams) اور “متری شش و نیم” ( Just 6.5) کے بعد ایرانی سینما کی تیسری اہم ترین فلم قرار دے رہے ہیں ـ امکان ظاہر کیا جارہا تھا ان تینوں میں سے کسی ایک کو آسکر ایوارڈ کے لیے بھیجا جائے گا لیکن غیرمتوقع طور پر قرعہ فال ایک ڈاکومینٹری کے نام کھلا ـ

“شبی کہ ماہ کامل شد” بلوچستان کی شدت پسند مذہبی تنظیم “جنداللہ” کے سربراہ عبدالمالک ریگی کے بھائی عبدالحمید ریگی کی زندگی کا احاطہ کرتا ہے ـ اسکرین پلے کو لیکن ایک عورت کی نظر سے ترتیب دیا گیا ہے اس لیے گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ دراصل عبدالحمید ریگی کی فارسی (تھرانی) اہلیہ فائزہ منصوری کی داستان ہے ـ ایک ایسی محبوبہ، بیوی اور ماں کی الم ناک داستان جو لاعلمی میں ایک دہشت گرد خاندان کی رکن بن جاتی ہے ـ

فلم کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ـ پہلا حصہ مغربی بلوچستان کے دارلحکومت زاھدان اور ایرانی دارلخلافہ تھران کی زندگی کا احاطہ کرتا ہے جبکہ دوسرے حصے میں پاکستان اور مشرقی بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے شب و روز کو قید کیا گیا ہے ـ

پہلا حصہ محبت سے لبریز ہے ـ زاھدان کا بلوچ نوجوان ؛ عبدالحمید تھران کی فارس خاتون فائزہ کو دل دے بیٹھتا ہے ـ دونوں محبت کے خوب صورت رشتے میں بندھ جاتے ہیں ـ بلوچ رشتہ لینے تھران جاتے ہیں ـ تھرانی تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد لڑکی دے دیتے ہیں ـ اس حصے میں بلوچستان کی دیہاتی زندگی اور بلوچ ثقافت کو تفصیل کے ساتھ مثبت انداز میں پیش کیا گیا ہے ـ

فلم کا دوسرا حصہ دہشت سے مملو ہے ـ عبدالحمید ریگی کوئٹہ منتقل ہوتا ہے اور بعد میں فائزہ اور اپنے دو سالہ بچے کو بھی بلوا لیتا ہے ـ کوئٹہ پہنچنے کے بعد فائزہ؛ عبدالمالک ریگی اور اس کی تنظیم کی دہشتگردی سے آشنا ہوتی ہے ـ رفتہ رفتہ وہ جان جاتی ہے اس کا محبوب ، عاشق اور شوہر بھی ایک تکفیری بن چکا ہے ـ خواب ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں، زندگی بوجھ بن جاتی ہے اور وہ محبوبہ سے یکایک صرف اور صرف ایک ماں بن جاتی ہے ـ ایک ایسے بچے کی ماں جس کا مستقبل غیریقینی کی فضا میں معلق ہے ـ

فلم کا اسکرین پلے بظاہر درست ہے لیکن اس کی روانی جگہ جگہ متاثر ہوتی رہتی ہے ـ عبدالحمید اور فائزہ کے درمیان بعض رومانی سینز خاصے لمبے اور اسکرین پلے سے غیر متعلق نظر آتے ہیں ـ ان سینز میں عبدالحمید (ھوتن شکیبا) کی رومانی اداکاری بھی پھیکی پھیکی سی محسوس ہوتی ہے ـ اسکرین پلے واضح کرتا ہے کہ عبدالحمید ریگی ایک سنی مسلمان ہے لیکن اس کے برعکس کم از کم پہلے حصے میں فائزہ منصوری کا مسلک کھل کر سامنے نہیں آتا ـ

فلم کے پہلے حصے میں دکھایا جاتا ہے کہ عبدالحمید ریگی موسیقی، شاعری اور فلموں سے لطف اندوز ہونے والا ایک ایسا نوجوان ہے جو جانوروں کی تکلیف پر بھی تڑپ اٹھتا ہے ـ وہ سراپا محبت ہے، وہ وحشی ترین جانور مگرمچھ کا بھی خیال رکھتا ہے، اپنے بھائی عبدالمالک ریگی کو ایک گمراہ جوان گردانتا ہے ـ جبکہ دوسرے حصے میں اس کو ایک ایسے باریش نوجوان کی صورت دکھایا جاتا ہے جو اپنے دہشتگرد بھائی کے تکفیری نظریات سے کُلّی طور پر متفق ہے ـ ایک شخصیت سے نکل کر اس کے متضاد شخصیت میں ڈھل جانا یقیناً ایک ارتقائی عمل ہے جو مختلف سماجی، معاشی و سیاسی الغرض معروضی حالات سے تشکیل پاتا ہے ـ اسکرین پلے اس حوالے سے خاموش ہے ـ وہ اس تبدیلی کو ایک اچانک واقعے کی صورت بیان کرتا ہے ـ یہ ایک ایسی خامی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ـ

فلم میں جس شہر کو کوئٹہ دکھایا جاتا ہے اسے دیکھ کر کوئٹہ کے شہری یا اس سے واقف فلم بین کو یقیناً صدمہ پہنچے گا ـ کیونکہ یہ شہر کچھ بھی ہوسکتا ہے سوائے کوئٹہ کے ـ سنا ہے فلم کی شوٹنگ بنگلہ دیش میں بھی ہوئی ہے شاید یہ بنگلہ دیش کا کوئی شہر ہو ـ ویسے اگر کوئٹہ میں شوٹنگ ہوتی تو سیٹ حقیقت سے قریب تر ہوتا ـ

اداکاری کا شعبہ ملا جلا ہے ـ فائزہ منصوری کے کردار میں الناز شاکردوست نے کردار سے کاملاً تو نہیں لیکن بڑی حد تک انصاف کیا ہے ـ ھوتن شکیبا کی اداکاری پہلے حصے میں کمزور ہے لیکن دوسرے حصے میں انہوں نے جم کر اپنے جوہر دکھائے ہیں ـ مجموعی طور پر دونوں مرکزی اداکاروں کا کام تسلی بخش ہے ـ

اس فلم کا کریڈٹ لیکن کُلی طور پر ہدایت کارہ و اسکرین رائٹر نرگس آبیار کو جاتا ہے ـ انہوں نے ایک مذہبی شدت پسند خاندان کی اندرونی زندگی کو نسائی نکتہِ نظر سے بیان کیا ہے ـ بعض فنی خامیوں سے قطع نظر نرگس آبیار کی ہدایت کاری حوصلہ افزا ہے ـ نرگس آبیار قبل ازیں 2016 کو بھی ایک خوب صورت فلم “نفس” (Breath) کو ہدایت دے چکی ہیں ـ

یہ فلم گوکہ بلوچ کی منفی شبیہہ ابھارتی ہے، اسے ایک سنی شدت پسند کے طور پیش کرتی ہے جو خواتین کو انسان تک نہیں سمجھتے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سرحدی (خاش، زاھدان، زابل) اور وسطی (جھالاوان) بلوچستان مذہبی تنگ نظری کے اندھے گڑھے میں گرتے جارہے ہیں ـ اب کوئی ہمیں آئینہ دکھائے تو برا ماننے کی بجائے اصلاح کی کوشش بہتر ہوگی ـ


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔