افغانستان : پاکستان مخالف گروپ حزب الاحرار کے مراکز پر حملہ، اہم رہنماؤں سمیت 15 افراد جانبحق

200

افغانستان میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران ٹی ٹی پی کے دو اہم رہنماؤں سمیت حزب الاحرار کے سرکردہ کمانڈر مارے گئے ہیں ۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق گذشتہ شب افغانستان کے مرکزی خفیہ ادارے این ڈی ایس کے خصوصی دستوں نے پاکستان مخالف مسلح مذہبی گروپ حزب الاحرار کے مراکز پر حملہ کیا ۔

 حملہ مہمند ایجنسی کی تحصیل خویزئی بائزئی کے سرحدی علاقے میں ہوا جس  میں حزب الاحرار کے اہم کمانڈرز سمیت 15 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئے ـ

جاں بحق ہونے والوں میں کمانڈر ضرار، کمانڈر حزب اللہ، مولانا موسیٰ حقانی، مولانا جنت گل (جنتی)، حاجی حسن، کمانڈر سعید اور کمانڈر جنید شامل تھے ـ

ذرائع کے مطابق حملے میں متعدد غیر مسلح افراد بھی مارے گئے ۔

 دوسری جانب علاقائی عمائدین نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا اس علاقے میں جماعت الاحرار کا نام و نشان تک نہیں ہے، ایسے حملوں کا سارا فائدہ پاکستانی فوج کو ہوتا آرہا ہے، اگر یہ بند نہ کیے گئے تو افغان حکومت اپنے خلاف نیا محاذ کھول سکتی ہے ـ

 حزب الاحرار کے ذمہ دار نے کہا یہ حملہ ان کے لیے کئی وجوہات سے حیران کن ہے کیونکہ نہ تو حزب الاحرار نے افغان فورسز کیخلاف کوئی کارروائی کی ہے اور نہ ہی یہ ان کے لائحہ عمل میں شامل ہے بلکہ یہ حملہ کسی اور کی خوشنودی کیلئے ہوا ہے ـ

یاد رہے کہ حزب الاحرار ایک مسلح مذہبی  گروپ ہے اور اسکی سربراہی عمر مکرم کررہے ہے جن کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔

کچھ عرصہ قبل حزب الاحرار نے یہ وضاحت کی تھی کہ ہماری جنگ صرف پاکستان سے ہے ہم نہ ہی کسی اور سے لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی اور تنظیم کے ساتھ ہمارا تعلق ہے بلکہ ہمارا لائحہ عمل ایک مستقل لائحہ عمل ہے جو کہ پاکستان کے خلاف ہے ـ