کراچی: بلوچ طالب علموں کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج

222

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے تنظیم کے مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن عبدالوہاب بلوچ ولد سیاھل اور فیروز بلوچ کی ماورائے عدالت گرفتاری کے خلاف کراچی پریس کلب میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں طالب علموں سمیت مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلقات رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے میں لاپتہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کے لواحقین اور گذشتہ سال جبری گمشدگی کے شکار ہونے والی حانی گل نے بھی شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

احتجاج کے مقررین نے طلبہ رہنماوں کی جبری گمشدگی اور غیرقانونی اقدامات کے خلاف خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان اور قوم پرست رہنماوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاب بلوچ اور فیروز بلوچ سمیت ہزاروں طالبعلموں کی بازیابی کو جلدازجلد یقینی بنا کر ایسے اعمال کے مرتکب اداروں کیخلاف تحقیقی کاروائی کی جائے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے رہنماوں نے کہا کہ دس دسمبر کو مرکزی ورکنگ کمیٹی کے ممبر وہاب سیاھل کو گوادر سے لاپتہ کیا گیا جبکہ فیروز بلوچ کو اکتیس مئی دو ہزار انیس کو ان کے چچا زاد بھائی جمیل بلوچ کے ہمراہ قلات کے مقام پر ماورائے عدالت گرفتار کیا گیا۔ جمیل بلوچ آٹھ ماہ کی قید کے بعد حال میں بازیاب ہوئے جبکہ اُن کیساتھ لاپتہ ہونے والے فیروز بلوچ آج تک پابندِ سلاسل ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی عہدیداروں کی اغوا نما جبری گُمشدگی اس بات کی دلیل ہے کہ طلباء سیاسی کارکنوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال کر خوف کی ایک ایسی فضا قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں نوجوان اپنے فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر سماج میں کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی  ایک پرامن طلبہ تنظیم ہے جس کے مرکزی رہنماؤں کو جبری طور پر لاپتہ  کرکے زندانوں کے نظر کرنا تعلیمی اداروں میں طلبہ سیاست پر قدعن لگانے کے زمرے میں آتا ہے۔

 مرکزی رہنماوں نے کہا بلوچستان کی تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار ہے جس کی وجہ سے مخصوص تعداد میں طالبعلم تعلیمی اداروں کا رُخ کر کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اسی اثنا میں  طالبعلموں کو معمول کے بنیاد پر جبراً اغوا کرنا تعلیمی اداروں میں خوف اور گُٹھن کی ایک ایسی فضا کا قیام ہے جہاں طالبعلم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال سے قاصر ہوں۔ بلوچستان میں مختلف سازشی حربوں کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو تعلیمی اداروں سے دور رکھنے کی دانستہ طور پر کوششیں کی جارہی ہے، طلبا سیاست پر قدغن عائد ہے. تعلیمی ادارےمیں خوف اور گٹھن کی فضا طاری ہے۔ وہاب بلوچ اور فیروز بلوچ کی جبری گُمشدگی اسی سلسلے ہی کی کڑی ہے۔

لاپتہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کی ہمشیرہ فریدہ بلوچ نے ٹی بی پی نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی راشد حسین کو ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود منظر عام پر نہیں لایا جارہا ہے جس کے باعث ہم احتجاج پر مجبور ہے۔

فریدہ بلوچ نے بتایا کہ راشد حسین کو متحدہ عرب امارات کے خفیہ اداروں نے لاپتہ کرکے چھ مہینے تک خفیہ مقام پر رکھا جہاں انہیں کسی قسم کی قانونی حقوق نہیں دیئے گئے جبکہ انہیں غیرقانونی طور پر پاکستان منتقل کرنے کے بعد بھی جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا جس کیخلاف ہم ہر فورم پر آواز اٹھا رہے۔

رہنماوں نے اپنے خطاب میں  کہا کہ بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی عہدیداروں کی جبری گُمشدگی کی وجہ سے  بلوچ طالبعلم نہایت ہی تشویش کا شکار ہیں طلبہ رہنماوں کی گرفتاری سے طلبہ سیاست پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، پر امن سیاست کسی بھی طالبعلم کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور یہی وہ عمل ہے جس سے طلباء کی ذہنی پرورش ہوتی ہے۔

مظاہرے میں گذشتہ سال جبری گمشدگی کے شکار ہونے والی حانی گل بلوچ نے بھی شرکت کی جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے ان کے منگیتر نسیم بلوچ کے ہمراہ لاپتہ اور بعدازاں انہیں تین مہینے بعد رہا کیا گیا لیکن نسیم بلوچ تاحال لاپتہ ہے۔

خیال رہے نسیم بلوچ کراچی یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم تھے۔

مظاہرین نے حکومتِ بلوچستان، وفاقی حکومت اور تمام اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی عہدیداروں اور تمام لاپتہ طالبعلم کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے۔