پہلا فیصلہ – برزکوہی

233

پہلا فیصلہ

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

ڈاکٹر چے گویرا کیا خوب کہتے ہیں کہ “میں بحیثیت انقلابی، جہدکار اور گوریلا اپنے اس بنیادی حق کے لیئے ہمیشہ و ہر وقت اپنے قیادت اور پارٹی سے لڑوں گا، جس حق کے لیئے میں جدوجہد کا حصہ بنا، یعنی یہ میرا بنیادی حق ہے کہ مجھے لڑائی کی ذمہ داری سونپنے، رسک لینے اور اپنا کردار نبھانے کا موقع فراہم کیا جائے، تاکہ میں تحریک و تنظیم میں اپنا تاریخی کردار ادا کروں۔”

مکمل اتفاق کے ساتھ اگر ڈاکٹر کے ان تاریخی جملہ جات پر غور کیا جائے تو شاید ہم جیسے جہدکار سمجھ لیں کہ ایک انقلابی جہدکار اور گوریلا کا بنیادی حق پارٹی و تحریک میں کیا ہے اور کیا ہونا چاہیئے؟ اور ہم بنیادی حق کن کن چیزوں کو سمجھتے ہیں؟ اور اپنے بنیادی حق کو کہاں اور کیسے ڈھونڈتے ہیں؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بلوچ تحریک میں ذرہ غور سے دیکھا جائے، کچھ ایسے غیر انقلابی و روایتی رجحانات جنم لے چکے ہیں یا لے رہے ہیں کہ تحریک و تنظیم ہمارے ذاتی و مادی ترجیحات، ضروریات، مفادات اور خواہشات کو پورا کرے، ہمیں پرسکون حالات و پرسکون ماحول میں آسودہ و آرام دہ زندگی گذارنے دے اور کوئی تنظیمی و تحریکی کام و ذمہ داری اور رسک لینے کا موقع بھی نہ دے، بس آرام سے بیٹھنے دے، پھر ہم بہت خوش و مطمیئن ہونگے کہ پارٹی اور پارٹی قیادت ہمیں ہمارا بنیادی حق دیکر خوب سنبھال رہا ہے۔ کیا یہ خود اپنے آپ سے بحثیت ایک انقلابی و ایک جہدکار بڑا دھوکا اور ظلم نہیں ہوگا؟ یا پھر پارٹی یا پارٹی قیادت کی طرف سے کسی انقلابی جہدکار کے کردار کو مسخ کرنے کا بے رحم عمل نہیں ہوگا؟

ایک امر انتہائی قابلِ غور ہے اور جسے ایک جہدکار کو جہد سے وابستگی کے پہلے دن سے فتح یا شہادت تک نہیں بھولنا چاہیئے کہ اس نے تحریک سے جڑنے کا فیصلہ کیوں لیا تھا؟ چاہے کوئی بیس سال سے تحریک سے منسلک ہو یا کوئی نوخیز نوجوان ہو، اسکا بنیاد وہی فیصلہ ہوتا ہے جو اسکے جڑت کا سبب بنا تھا۔ وہ فیصلہ ہمیشہ تحریک میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے، جس میں کوئی ذاتی غرض و مقصد نہیں ہوتا۔ ایک جہدکار اس بنیاد سے جتنا دور ہٹتا جاتا ہے، وہ اتنا ہی عمومیت، مراعات، آسائش، آرام اور پروٹوکول کی جانب مائل ہوتا جاتا ہے۔ پھر وہ جہد کے اندر ہی ایک ایسی زندگی کی امید اور مانگ رکھنے لگتا ہے جو جہد کے بنیادی تقاضوں سے ہی متضاد ہوتا ہے، اس پر ستم یہ کہ اگر ایک بار وہ اس عمومیت کا عادی ہوجائے پھر وہ دوبارہ اپنے بنیادی فیصلے کی جانب لوٹائے جانے، یعنی جہد میں ایک متحرک کردار ادا کرنے کو خود کے ساتھ زیادتی سمجھنے لگتا ہے۔ اگر اس سوچ کا جلد قلع قمع نا کیا جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ ایسے جہدکاروں بلکہ لیڈروں کے حجم میں ایک غیرضروری اضافہ ہوتا جاتا ہے، جو تحریک کے اندرایک بیوروکریٹک سوچ کی آبیاری کرتے ہوئے ایک منفی غیر رسمی بیوروکریسی تشکیل دیکر تحریک کے رفتار، سمت اور فطرت کو ہائی جیک کرلیتے ہیں۔

رہنماؤں کی ذمہ داری:
تحریک و تنظیموں کے اندر ایسی صورتحال سے بچنے کیلئے سب سے اہم کردار رہنماؤں و ذمہ داروں کا ہوتا ہے۔ کام کرنے سے زیادہ مشکل، کام لینا خاص طور پر صحیح بندے سے صحیح کام لینا ہوتا ہے۔ آپ اسلیئے رہنما یا ذمہ دار ہیں کہ آپ صرف کام نہیں کریں بلکہ آپ ہر جہدکار و کارکن سے اسکے صلاحیتیوں کے مطابق کام لیں۔ اگر کوئی جہد کار یہ فیصلہ کرکے تحریک سے جڑا ہے کہ اسے اپنا کردار ادا کرنا ہے، تو یہ آپکا کام ہے کہ آپ اسے بتائیں کا اسکا کردار کیا ہے، اور اسکا کردار نبھانے کا موقع دیں۔ اگر کوئی تحریک سے جڑنے کے باوجود سالوں بیکار بیٹھا رہتا ہے، تو یہ رہنما یا اس ذمہ دار کی ناکامی ہے۔ پھر اسے اپنے ذمہ داریوں سے دستبردار ہونا چاہیئے۔

جہدکاروں کو غیرضروری خطرات میں جھونکنا اور انہیں ضائع کرنا گناہ ہے، لیکن تحریک میں یہ امر کچھ جہتوں کی جانب سے دیکھا گیا کہ جہدکاروں کو غیرضروری طور پر محفوظ رکھنے کی خاطر انہیں سالوں فضول بٹھایا گیا، جو بلآخر مایوس ہوکر لوٹ گئے یا ایک ایسے آرام پسندی کا شکار ہوگئے کہ واپس جہد کی طرف نا لوٹ سکے۔ کوئی بھی جہد کے ساتھ جڑتا ہے تو وہ ضروری خطرات کا ادراک رکھ کر ہی جڑتا ہے۔ حفاظت کے نام پر انہیں بیکار کرنا بھی اسی آرام پسند سوچ کو جنم دیتا ہے، دراصل یہ بھی ذمہ دار کا فرض ہے کہ غیرضروری خطرات سے بچا کر ضروری رسک کو مدنظر رکھتے ہوئے جہدکاروں کو ہمیشہ متحرک رکھے۔

جہدکاروں میں غیرمساوانہ رویہ بھی اکثر دیکھا جاتا ہے، کچھ جہدکاروں کی بنیادی ضروریات تک پوری نہیں ہوتیں اور کام کا پورا بوجھ بھی ان پر ہوتا ہے۔ لیکن کچھ جہدکاروں کو کبھی سینارٹی، کبھی حلقہ اثر، کبھی ذمہ داروں سے نزدیکی، کبھی کسی اور وجہ سے ضرورت سے زیادہ سہولیات میسر ہوجاتی ہیں۔ جو تنظیم و تحریک کے اندر غیرمساوات کو ہوا دیکر ایک غیرمتوازی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سہولیات سے آراستہ جہدکار، اسی “اسٹیٹس کو” کو قائم رکھنے کیلئے جتن کرتے ہیں اور اسی سوچ و رجحان کو جنم دیتے ہیں جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور باقی جہدکاروں میں بھی بد دلی پیدا ہوجاتی ہے، اگر کوئی تحریک سے دستبردار نہیں بھی ہوجائے تو اسکی کوشش ہمیشہ یہی رہتی ہے کہ وہ بھی “منظور نظر” بن کر، ان سہولیات سے آراستہ ہوجائے۔ یعنی وہ بھی اپنے بنیادی فیصلے کہ فطرت سے ہٹ جاتے ہیں۔ ایسے صورتحال میں ذمہ داروں کا فرض بنتا ہے کہ ہر صورت تنظیم میں مساوات قائم رکھنے کی کوشش کریں۔

کارکنان کی ذمہ داری:
ایسی صورتحال میں ایک کارکن یا جہد کار کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی ذات پر چیک اینڈ بیلنس رکھے۔ اسکا بنیادی فیصلہ اسکا خط استواء ہے، وہ دیکھتا رہے کہ وہ اس لائن سے دور تو نہیں نکل رہا، اگر وہ محسوس کرے کہ وہ اپنے بنیادی فیصلے اور بنیادی نظریئے سے دور نکلتا جارہا ہے تو وہ اپنے ان فیصلوں اور کردار پر غور کرے جو اسے دور کررہے ہیں اور ان میں تبدیلی لائے۔ تحریکیں جب طوالت اختیار کرتی ہیں تو کارکنان میں نفسیاتی طور پر یہ رجحان جنم لیتے رہتے ہیں، یہ کوئی گناہِ کبیرہ نہیں، لیکن تب تک جب تک آپ اپنا چیک اینڈ بیلنس کرکے واپس اسی لائن پر، واپس اپنے بنیادی نظریئے و فیصلے پر آتے جائیں۔ ورنہ آپ بہت دور نکل جاتے ہو، بہت سے کارکن پھر خود کو تحریک اور نظریئے سے اتنا کٹا محسوس کرتے ہیں کہ انہیں سرینڈر جیسے شرمندگی میں بھی جھجھک محسوس نہیں ہوتی اور کچھ تحریک کے اندر رہتے ہوئے اپنے لیئے کچھ بنانا چاہنا شروع کردیتے ہیں، جو بنیادی طور پر اس نظریئے کا وفات ہے۔

جیسا کہ اس مضمون کا ابتداء ہی ڈاکٹر چی کے ان الفاظ سے کیا گیا تھا کہ “میں بحیثیت انقلابی، جہدکار اور گوریلا اپنے اس بنیادی حق کے لیئے ہمیشہ و ہر وقت اپنے قیادت اور پارٹی سے لڑوں گا، جس حق کے لیئے میں جدوجہد کا حصہ بنا، یعنی یہ میرا بنیادی حق ہے کہ مجھے لڑائی کی ذمہ داری سونپنے، رسک لینے اور اپنا کردار نبھانے کا موقع فراہم کیا جائے، تاکہ میں تحریک و تنظیم میں اپنا تاریخی کردار ادا کروں۔” اسی طرح یہ کارکن یا جہدکار کی ذمہ داری ہے کہ اگر قیادت انہیں بیکار بٹھاتی ہے، ان سے کماحقہ کام نہیں لیتی تو وہ اسے آرام کا موقع سمجھ کر خوشی خوشی قبول نہیں کریں، بلکہ قیادت پر دباؤ ڈالیں انہیں جدوجہد کرنے اور ایک کردار ادا کرنے کا موقع دیں۔ اگر قیادت بار بار اس میں ناکام ہوتی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ یہ قیادت ناکام ہے۔

ایک کارکن و جہدکار کی یہ بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ناصرف خود پر بلکہ اپنے ساتھی جہدکاروں پر بھی ایک چیک اینڈ بیلنس رکھیں، اگر آپکا ساتھی اس بنیادی نظریئے و فیصلے سے دور ہوتا جارہا ہے، تھکا معلوم ہوتا ہے، یا اسی آرام طلب سوچ کا شکار نظر آتا ہے تو آپ کھل کر بغیر نقطہ چینی کے بات کریں، مطالعہ کریں، مباحثے کریں۔ حالات پر غور کریں۔ کام کرنے کے نئے طریقوں پر غور کریں، انہیں قیادت کے سامنے پیش کریں۔ بیکاری کو اپنے گرد پھٹکنے نا دیں۔ بیکاری ایک جہدکار کو ذہنی، جسمانی اور نظریاتی طور پر دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کردیتا ہے۔

حرف آخر:
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ گو کہ مندرجہ بالا رجحانات بلوچ قومی تحریک آزادی میں خطرناک حد تک موجود نہیں، لیکن اس امر سے انکار نہیں کہ یہ رجحانات وجود رکھتے ہیں اور پنپ رہے ہیں۔ اگر قیادت و کارکن جلد از جلد ان عوامل پر غور شور کرکے انکا قلع قمع نہیں کریں گے پھر یہ ایک کینسر کا شکار اختیار کرسکتا ہے، پھر ہمیں باہر کے دشمن کی ضرورت نہیں ہوگی ہم اپنے بوجھ کے نیچھے خود ہی دب کر مرجائیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔