نئی ولایت – انور ساجدی

167

نئی ولایت

تحریر : انور ساجدی 

دی بلوچستان پوسٹ

جب انگریز برصغیر آئے تھے تو ہندوستان یورپ سے زیادہ خوشحال تھا لیکن یہاں کوئی نظم وضبط ترتیب اور سلیقہ نہیں تھا صفائی کا فقدان تھا جبکہ انگریزوں نے ہندوستان اور دیگر علاقوں کو لوٹ کر اپنے شہر اچھے بنائے پختہ سڑکوں کاجال بچھایا بڑے بڑے تعلیمی ادارے کھولے اس لئے ہندوستان کے لوگوں کا جب انگلینڈ جانا ہوتا تھا تو وہ انکے شہروں کی صفائی اور ترتیب کو دیگرحیران رہ جاتے تھے اس لئے انہوں نے اسے ولایت کا نام دیا یعنی ایک اور دنیا اس وقت روئے زمین پر جو بھی محرالعقول سائنسی ایجادات نظرآتی ہیں وہ یورپ اور انکے بسائے ہوئے امریکہ کی مرہون منت ہیں لیکن یہ دنیا جو آج ڈیجیٹل دور میں داخل ہے اسکی بنیاد دواہم ایجادات ہیں جب مارکونی نے ریڈیو اور گراہم بیل نے ٹیلی فون ایجاد کیا تو دنیا بدل گئی جو گذشتہ سوا سوسال ہیں انسان نے کمال کیا ریل ،ہوائی جہاز ،موٹر بجلی اورجدید مواصلاتی نظام یہ اسی عرصے میں ایجاد ہوئے یہ جو موجودہ ڈیجیٹل دور ہے یہ آئندہ سوسال میں کیا رخ اختیار کرے گا یہ صرف وہ سائنسدان جانتے ہیں جو تسخیر کائنات کے انتہائی اہم کام میں مصروف ہیں۔

امریکہ پہلا ملک ہے اس نے خلائی فورس بنانے کا اعلان کیا ہے انکی دیکھا دیکھی چین اور روس نے بھی خلا پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے منصوبے شروع کردیئے ہیں خلا میں جانے کا مقصد اپنے قیمتی اثاثوں کووہاں پر محفوظ بنانا اور دشمنوں کو وہاں سے حملے کرکے نیست ونابود کرنا ہے یہ ممالک مسلسل ایسے سیاروں کے کھوج میں ہیں جہاں انسانی آبادی بس سکے اگرانسانی رہائش کے قابل سیارے نہ بھی مل سکے تو موجودہ صدی کے آخر میں ایسے خلائی شہر بسائے جائیں گے جہاں کروڑوں انسان جاکر آباد ہونگے جب وہ زمانہ آئیگا تو زمین کے لوگ اسی نئی دنیا کو ولایت کا نام دیں گے ہر ایک کی تمنا ہوگی کہ وہ نئی ولایت کی سیر کرے موجودہ جہازوں کی جگہ ایسے خلائی جہاز لے لیں گے جو زمین سے زمین کا فاصلہ منٹوں میں اور خلائی شہروں میں جانے کیلئے اتنا وقت لیں گے جتناکہ اب یورپ امریکہ اور آسٹریلیا جانے میں لگتا ہے۔

عہد حاضر کے عظیم سائنسدان اسٹیفن ہاکنگز نے توپیشگوئی کردی ہے کہ انسان زمین پر ایسے خطرناک تجربہ کررہا ہے جو بالآخر اس سیارہ کی تباہی پرمنتج ہوگا گزشتہ صدی میں انسان نے ایٹم بم بنایا اور جاپان پر اس کا استعمال بھی کیا اسکے بعد سے ایٹم سے کہیں خطرناک مادوں پر مشتمل اور مہلک ہتھیار بنائے جارہے ہیں سائنسی اور معاشی طور پرترقی یافتہ ممالک ایسے جراثیمی ہتھیار بناچکے ہیں کہ ان کے استعمال سے زمینی حیات کا بڑاحصہ نیست ونابود ہوسکتا ہے یہ جو کانگووائرس ،برڈ فلو ہے سارس ایبولا اور اب کرونا وائرس ہے ہو نہ ہو یہ انہی ممالک کی لیبارٹریوں سے لیک ہونے یا انسانوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔

حال ہی میں چین کے شہر ووہان میں جو وائرس پھیلا اس کا نام کرونا وائرس رکھ دیا گیا ہے کئی سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اگر اس کا بروقت تدراک نہ ہوسکا تو 6 کروڑ لوگ اس میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوسکتے ہیں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹ نے تو بیماری کے تدراک میں مدد دینے کیلئے اربوں ڈالر کا فنڈ بھی قائم کردیا ہے بد قسمتی سے پاکستان کا تعلق ان ممالک سے ہے جنہوں نے چھ ایٹم بم میزائل اور دیگر جدید اسلحہ تو بنالیا ہے لیکن ایسی کوئی لیبارٹری نہیں بنائی جو ان خطرناک وبائی امراض کی تشخیص کرسکے جب ڈینگی وائرس پھیلا تھا تو کافی عرصہ کے بعد اسکی تشخیص اور علاج دریافت ہوسکا پاکستان کے پاس تو اپنی 40فیصد آبادی کوغذا پہنچانے کے وسائل بھی نہیں ہیں بدانتظامی اور کرپشن سے اس کا شاندار نہری نظام تباہ ہوچکا ہے گندم، چاول اور کپاس کی پیداوار میں کمی آگئی ہے جس کی وجہ سے آٹے کے حصول کیلئے لوگوں کی قطاریں لگنا شروع ہوگئی ہیں ان حقائق کے برعکس حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ 21 ویں صدی اور اسکے بعد کے عرصہ کے چیلنجز کا ادراک رکھتی ہے اور وہ ان تبدیلیوں سے اچھی طرح آگاہ ہے جو کرہ ارض پر وقوع پذیر ہونے والی ہیں اگرچہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو سائنسی ایجادات اور معاشی ترقی کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں بلکہ دنیا کے ممالک کے فہرست میں سب سے نیچے ہیں لیکن اسکے باوجود تحریک انصاف کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اس ارتقائی عمل کاحصہ ہے جودنیا میں جنم لے رہی ہے اس حکومت کا بنیادی دعویٰ تھا کہ وہ اپنے زیادہ تر وسائل ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ پرخرچہ کرے گی تاکہ اچھے طالب علم قابل سائنس دان اور ماہر معیشت دان پیدا ہوسکیں لیکن اس حکومت کا آغاز اچھا نہیں ہے یہ ابھی تک اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہ کرسکی اور نہ آئندہ پانچ سال کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے کیونکہ ملکی وسائل محدود ہیں اور انکے بڑھنے کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے پاکستان کے پاس اس وقت چار اقسام کے وسائل موجود ہیں۔
ایک۔معدنی دولت جس میںتیل ،گیس ،کوئلہ ،تابنا اور سونا شامل ہے۔

دو۔افرادی قوت25کروڑ آبادی جس کا نصف حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

تین ۔اس کا ساحل سمندر جے بروئے کارلاکر آمدنی کے ذریعے بڑھائے جاسکتے ہیں۔

چار۔اسکی وسیع وعریض زمین جو سونا اگل سکتی ہے۔

جہاں تک معدنی دولت کاتعلق ہے وسائل اورتکنیکی مہارت کم ہونے کی وجہ سے اس سے فوری طور پر استفادہ کرنا ممکن نہیں ہے افرادی قوت کوعہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے طویل عرصہ درکار ہے کیونکہ گزشتہ ادوار میںسائنسی اور تکنیکی تعلیم کے شعبوں کو یکسر نظرانداز کیا گیا تعلیم میںپسماندگی کی وجہ یہ ہے کہ صرف ایک شعبہ میںمہارت حاصل کی گئی وہ ہے سیکیورٹی وسائل کا بیشتر حصہ بھی سیکورٹی کی مد میں خرچ کیاجاتا ہے سائنس کا شعبہ اتنا مفلوک الحال ہے کہ فواد چوہدری جیسا شخص اس کا وزیرہے۔

یہ دنیا کہاں جائے گی اس کی ترقی کہاں پر جاکر رکے گی کم از کم ہمارے لوگ یہ نہیں جانتے لیکن یہ بات طے ہے کہ مستقبل کی دولت میںسونا ،تانبا اور ہیرے جواہر کوئی اہمیت نہیں رکھیں گے،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ 1973ءکی جنگ رمضان جوعربوں اور اسرائیل کے درمیان لڑی گئی اور جس میں تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا اسکے بعد امریکی اور یہودی سائنس دانوں نے تیل کا متبادل ذریعہ تلاش کرنا شروع کردیا کوئی10برس پہلے امریکہ میںایک موٹرساز کمپنی ”ٹیسلا“ قائم کی گئی جس نے الیکٹرک کاروں کاتجربہ شروع کردیا یہ تجربہ کامیاب ہوگیا اور آج ٹیسلا دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن چکی ہے اسکی ایجاد کی وجہ سے محض چند سالوں کے دوران تیل توانائی کا اہم ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ موٹر ریل اور ہوائی جہاز صرف اورصرف الیکٹرک سے چلیں گے۔

گذشتہ صدی کے آخری عشرے تک مغرب میں تیل کی تجارت موٹر سازی کی صنعت اور رئیل اسٹیٹ کے مالکان یا اس کا کاروبار کرنے والے لوگ ارب پتی تھے لیکن1990ءکی دہائی میں جب ارکسن کمپنی نے سیل فون ایجاد کیا تو دنیا کی معیشت تبدیل ہوگئی۔ راکفیلر فورڈ کی جگہ مائیکرو چپ بنانے والی کمپنی کے مالک دنیا کے سب سے امیرترین شخص بن گئے آن لائن اسٹورز کے مالک جیف بیروز اس وقت امیرترین شخص ہیں جبکہ دنیا کے بڑے کاروبار گوگل ،یوٹیوب ،فیس بک ،علی بابا اورریلائنس گروپ ہیںجو انفارمیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔

انڈیا کے مکیش امبانی نے امازون کے مقابلے کااعلان کیا ہے یہ گروپ بھی دیگر کاروبار کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کاحامل ہے اور اس کی سب سے بڑی دولت ”ڈیٹا“ ہے اور دنیا کی سب سے بڑی ایپس ٹیکسی اوبر ہے اسکے مالک نے ایک آنہ سرمایہ کاری کے بغیر اربوں ڈالر کاکاروبار بنایا۔

حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے ایک پروگرام پیش کیا جس میں دہلی کے جواہر لعل نہرو ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کو دکھایا گیا اور بتایا گیاکہ دنیا کی تمام بڑی کمپنیاں اپنی افرادی قوت اسی انسٹیٹیوٹ میں تلاش کرتی ہے1950ءکی دہائی میں جب نہرو نے یہ ادارہ بنایا تھا تو اسکی کامیابی پر شک کااظہار کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت انڈیا ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے تھا لیکن آج بہت آگے ہے۔

ابھی دوروز ہوئے حکومت پاکستان کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر جنہیں عرف عام میں پی آئی او کہا جاتا ہے یہ صاحب حکومت کی پبلسٹی پروپیگنڈہ اور میڈیا کو اشتہار جاری کرنے کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں، نام ہے ان کا طاہر حسن جب پشتونخوا میں تحریک انصاف کی پہلی حکومت قائم تھی تو انہیں وہاں پر سیکریٹری اطلاعات کے منصب پر فائز کیا گیا تھا تحریک انصاف کی مرکزی سرکار نے موصوف کو حال ہی میں میڈیا کے معاملات سپرد کردیئے ہیں۔

وہ سی پی این ای ہاﺅس آئے وہاں پر انہوں نے ایک چشم کشا مگر پریشان کن خطاب کیا ان کا یہ کہنا بہت ہی معنی خیزتھا کہ بہت جلد میڈیا کے شعبے میں ایسی تبدیلیاں آنے والی ہیں کہ حکومت بتانے سے قاصر ہے انہوں نے ایک مسودہ بھی پیش کیا جو حکومت کی نئی اشتہاری پالیسی سے متعلق ہے اس پالیسی کا اہم جزو ڈیجیٹل میڈیا ہے یعنی چند دنوں میں جو اشتہارات جاری ہونا شروع ہو جائیں گے اس کا بڑاحصہ ڈیجیٹل میڈیا کیلئے مختص ہوگا غالباً یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل عمران خان نے اپنے یوٹیوبر سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک انصاف کے لوگ نہ اخبارات پڑھیں اور نہی ٹی وی دیکھیں بلکہ ڈیجیٹل میڈیا پر انحصار کریں کیونکہ تحریک انصاف کی کامیابی اسی کے مرہون منت ہے حکومت کے موقف میں یہ تضاد کھل کر سامنے آگیا ہے کہ ایک طرف وہ اخبارات چینلوں کو دفن کرنے کی کوشش کررہی ہے اور انہیں اہمیت نہ دینے کی تلقین کررہی ہے دوسری طرف وہ اتنی خوفزدہ ہے کہ سنسرشپ پریس ایڈوائس پابندیوں اور اشتہارات کو ہتھیار بناکر انہیں دبانے کی کوشش کررہی ہے،اشتہارات کے اجراء کیلئے ایک چار رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں سائبرکرائم کاایک ماہر بھی شامل ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا کو بھی ریگولیٹ کرنے یا کنٹرول کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

اگر حکومت کے خیال میں پرنٹ میڈیا کا دور ختم ہوچکا تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں مخالفانہ یا حقیقت پسندانہ انفارمیشن شائع کرنے سے نہ روکے بلکہ اسے آزاد کردے یعنی اسے اپنی پبلسٹی کیلئے بھی استعمال نہ کرے اور اشتہارات کی بندش سے بھی نکال باہر کرے، ویسے حقیقت تو یہی ہے کہ پرنٹ میڈیا اس وقت بقاء کے مسئلہ سے دوچار ہے اس کے اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں حکومت نے اس کا گلا دباکر آمدنی کے ذرائع بھی دبوچ لئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا کسی خرچ اخراجات کے بغیر چل رہا ہے لیکن سوشل میڈیا پانی کا بلبلہ ہے ریکارڈ اور تاریخ صرف ضابطہ تحریر بناتا ہے جو پرنٹ میڈیا ہے اگر حکومت پابندیاں ہٹائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اپنے بل بوتے پر زندہ رہے یا اپنے ای پیپر کے ذریعے اپنا احیاء کرلے لیکن حکومتی ارادے ٹھیک نہیں ہیں اس نے حال ہی میں مرکزیت کی پالیسی نافذ کی ہے جو وحدانی طرز حکومت کا حصہ ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومت وفاقی نظام پر یقین نہیں رکھتی اور وحدتوں کی مالی و سیاسی خودمختاری اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی اس حکومت اور سرپرستوں کی شدید خواہش ہے کہ صوبوں سے ان کی جان چھوٹے تاکہ مرکز دوبارہ مضبوط ہوجائے جیسے کہ ون یونٹ کے دور میں تھا تب تک وہ پرنٹ میڈیا کی بَلی چڑھانا چاہتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔