منظور پشتین کی گرفتاری قابل افسوس ہے – اشرف غنی

204

ایسے حالات میں جب ہمارا خطہ دہشت گردی و بدامنی کا شکار ہے ہمیں انسانی حقوق کے پرامن کارکنوں کی حمایت کرنا چاہیے ۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پشاور سے پاکستانی پولیس کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کو قابل افسوس قرار دیتے ہوئے کہا میں اس بابت ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعلامیہ کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔

افغان صدر نے مزید کہا کہ ایسے وقت جب ہمارا خطہ شدت پسندی و دہشت گردی کے مستقل خطرے سے دوچار ہے تو ہمیں انسانی حقوق کے کارکنوں اور پرامن تحریکوں کی حمایت کرنا چاہیے ۔

 انہوں نے کہا اگرچہ ہمارا خطہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے مستقل خطرہ کی زد میں ہے ، لیکن حکومتوں کو انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہری حقوق کی پرامن تحریکوں کی حمایت کرنی چاہئے۔

اشرف غنی نے مزید کہا  انصاف کے طلب گار تحریکوں  بالخصوص پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف تشدد کا استعمال خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے گا جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔
افغان صدر نے کہا اگر پرامن تحریکوں کی سرگرمیوں سے کوئی متفق نہیں تو انھیں چاہیے کی ان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے نہ کہ تشدد کے استعمال سے ۔

واضح رہے کہ گذشتہ رات پشاور سے پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کو ان کے دیگر دوستوں کے ہمراہ گرفتار کرلیا تھا جنہیں آج عدالت میں پیش کرکے منظور پشتین کو ریمانڈ کےلئے پولیس کے حوالے کردیا گیا جبکہ دیگر کو رہا کردیا گیا ۔