عبدالوہاب سیاہل اور فیروز بلوچ کو بازیاب کیا جائے – بی ایس اے سی

56

عبدالوہاب سیاہل بلوچ اور فیروز بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا – بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ عبدلالوہاب سیاہل بلوچ اور فیروز بلوچ تنظیم کے مرکزی ذمہ دار تھے جنہیں مختلف علاقوں سے ماورائے عدالت گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ فیروز بلوچ کو اکتیس مئی دو ہزار انیس کو ان کے کزن جمیل بلوچ کے ساتھ قلات کے مقام پر ماورائے عدالت گرفتار کیا گیا جبکہ وہاب بلوچ کو دس دسمبر دو ہزار انیس کو گوادر کے مقام سے لاپتہ کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فیروز بلوچ کے ساتھ گرفتار ہونے والے جمیل بلوچ کی بازیابی خوش آئند ہے لیکن سات مہینوں سے لاپتہ فیروز بلوچ اور ڈیڑھ مہینے سے لاپتہ وہاب بلو چ ابھی تک بازیاب نہیں ہوسکے۔

مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی طالب علموں کی منظم طلبہ آرگنائزیشن ہے جو بلوچستان سمیت پورے پاکستان بھر میں اپنی علمی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ تنظیم کا مقصد طالب علموں کے اندر علمی و فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ ایک پرسکون معاشرہ قائم ہوسکے لیکن تنظیم کے مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کی وجہ سے ہم ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور طلباء ایک بے وجہ خوف کا شکار ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہاب بلوچ کی گرفتاری کو ڈیڑھ مہینے کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن انہیں نہ منظر عام پہ لایا گیا ہے اور نہ ہی اہلخانہ کو ان کے بارے کوئی اطلاع دی گئی ہیں بلکہ اس کے برعکس یقین دہانی کے باوجود ابھی تک کچھ عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ تنظیم نے وہاب بلوچ کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تاکہ وہاب بلوچ کی باحفاظت بازیابی ممکن ہوسکے لیکن انہیں ابھی تک منظر عام پہ نہیں لایا گیا جو ہمارے لئے تشویشناک ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عبدالوہاب بلوچ، فیروز بلوچ، ماجد بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی اسیران کی بازیابی کے لئے 18 جنوری کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ اہم اہل قلم دوست انسانوں سے اپیل کرتے ہیں وہ اس احتجاجی مظاہرے میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔