سندھودیش تحریک بابت “انور ساجدی” کے ابہامات و الزامات کا جواب – معشوق قمبرانی

251

سندھودیش کی تحریک بابت ’انور ساجدی‘کے ابہامات و الزامات کا جواب

 تحریر : معشوق قمبرانی

دی بلوچستان پوسٹ

آجکل یوں تو بہت سارے مسئلے مسائل پر بحث مباحثے ہوتے رہتے ہیں، ان میں سے چند ایک کا تعلق مہم جوئیانہ بیانات و ابہامات سے ہوتا ہے تو کچھ کا تعلق محض ’دانشورانہ ذہنی عیاشی و شغل مشغلے‘سے ہوتا ہے۔
آجکل سوشل میڈیا پر آنے والی اکثر باتوں کا حقیقی سچ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔
ایک ذمہ دار کالم نویس کی حیثیت سے ہم ایسے کئی افواہی اقسام کے بحث مباحثوں کا حصہ ہونے سے گریز کرتے ہیں اور ایسی ہوائی باتوں کو کبھی سنجیدہ بھی نہیں لیتے ہیں۔
پر جب بات سندھ وطن کی قومی سلامتی، آزادی اور قومی تحریک کے خلاف پاکستانی ریاست کے کئی ہتھکنڈوں کے ذریعے لڑی جانے والی دشمن کی ’نفسیاتی پروپیگنڈہ‘ اور قومی فکر کے اوپر نفسیاتی حملے کی ہو توقومی شعور رکھنے کی حیثیت سے ہم لازم سمجھتے ہیں کہ سندھودیش کی تحریک کے اوپر ہونے والے نفیسیاتی پروپیگنڈوں وحملوں کامضبوط دلائل کی روشنی میں جواب دیا جائے۔

کوئٹہ  اور حب چوکی (بلوچستان) سے شائع ہونے والا اخبار ’روزانہ انتخاب‘ کے ایڈیٹر انور ساجدی نے اپنے مضمون”افکار پریشان” میں تازہ جسمم کے چیئرمین شفیع برفت اور ایم کیوایم کے رہنماء الطاف حسین کی آپسی قربت اور سیاسی بیانات کے تناظر میں مجموعی طور پر سندھ کی قومی تحریک کے بابت اپنے الزامات و ابہامات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
”جسمم چیئرمین شفیع برفت کے اعلانیہ ایک بیان میں سندھودیش کی مبینہ جلاوطن حکومت بننے جا رہی ہے! شفیع برفت کی جانب سے جس کا سربراہ الطاف حسین کو تجویز کیا گیا ہے
ماضی میں لسانی سیاست کی پس منظر رکھنے والے الطاف حسین کی سندھیوں میں کتنی مقبولیت ہے یا خود شفیع برفت کی اس وقت سندھ میں کیا پوزیشن ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ
شفیع برفت کیا بیان دے رہا ہے یا اس کی سندھ میں ابھی کیا پوزیشن ہے یا نہیں ہے؟ الطاف حسین کا ماضی کیا رہا ہے؟ یا اب سندھی قوم ان کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے؟ سندھودیش کی کوئی جلاوطن حکومت  بننے بھی جا رہی ہے؟ یا ایسے اعلانات و بیانات کے پیچھے کوئی او ایجنڈا یا محرکات کارفرما ہیں؟ وغیرہ وغیرہ اس موضوع پر ساجدی صاحب کے اٹھائے گئے سوالات و ابہامات کا جواب کسی دوسرے مضمون میں تفصیلی طور پر دینگے۔

محترم ساجدی صاحب اپنے مضمون میں ان ساری بے بنیاد باتوں کو بنیاد بنا کے آگے چل کر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ
سندھودیش کی آزادی کی تحریک سائیں جی ایم سید کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔

یہاں پرمیرے مضمون کا بنیادی نقطہ یہی ہے کہ کیا ساجدی صاحب کو سندھ کے اندر چلنے والی قومی آزادی کی تحریک کے بارے میں کوئی صحیح معلومات بھی ہے؟ یا وہ صرف پاکستانی میڈیا کے ’سرکاری پروپیگنڈہ مہم‘ سے متاثر ہوکر یہ رائے قائم کر رہے ہیں؟
سندھ کی قومی تحریک کی عملی جدوجہد کے ایک کارکن کی حیثیت سے میں ساجدی صاحب کی اس دعویٰ کو مکمل طور پر رد کرتا ہوں کہ سندھ کی قومی تحریک سائیں جی ایم سید کے جسمانی موت کے ساتھ ختم ہوگئی
ایسی ہی دعویٰ سائیں جی ایم سید کی وفات کے بعد پنجاب میں کیئے گئے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنماء بینظیر بھٹو نے بھی کچھ ان الفاظ میں کی تھی کہ
آج ہم نے سندھودیش کی تحریک کو جی ایم سید کے ساتھ دفن کردیا۔

لیکن30 دسمبر 2007 کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بینظیر کی موت کے تیسرے دن ان کے گاؤں گڑھی خدابخش (لاڑکانہ)میں اس کی اپنی قبر کے سامنے لاکھوں کی تعداد میں جمع ہونے والی سندھی قوم نے یہ نعرہ لگایا کہ

“نہ کھپے نہ کھپے پاکستان نہ کھپے، سندھ گھرُے تھی آزادی”
(نہیں چاہیئے نہیں چاہیئے، پاکستان نہیں چاہیئے، سندھ مانگتی ہے آزادی)
کے ساتھ ساتھ تاریخ کا سچ سندھیوں کی دل کی آواز کی صورت میں باہر نکل آیا۔

کسی بھی سیاستدان یا فکری رہنماء کے جسمانی طور پر وصال کر جانے سے قومی افکار، نظریات اور سچ کبھی بھی نا ختم ہوتے ہیں نا دفن ہوتے ہیں، سائیں جی ایم سید کی وفات کے ساتھ سندھودیش کی تحریک ہی ختم ہوجانے والی ساجدی صاحب کا یہ دعویٰ ایسی ہے جیسے مارکس کے جسمانی موت کے ساتھ دنیا بھرمیں سے “مارکسزم” کا نظریہ ہی ختم ہوگیا ہو یا جیسے کوپرنکس کی موت بعد سورج دوبارہ زمین کے چوگرد چکر لگا رہا ہو۔
ساجدی صاحب کا یہ “منطق” تو علم، فلسفے، سیاست، نظریات و جدلیات کے عقلی اصولوں کے ہی خلاف ہے،ہم اسے ساجدی صاحب کی سندھ کی قومی تحریک سے مکمل ناآشنائی یا لاعلمی کا بھی نام دے سکتے ہیں، کیونکہ ساجدی صاحب اپنے مضمون میں ایک تو سندھ کی تحریک کا منظر نامہ بلکل غلط اور بے بنیاد افواہ و ابہامات کے بناء پر پیش کر رہے ہیں تو دوسری جانب سائیں جی ایم سید کے جس کتاب کا ذکر کیا ہے، اس کتاب کو پڑھنے کی بات تو دور ، اس کا نام ہی غلط لکھا ہے، یہ ان کی لاعلمی کی حد ہے۔

دنیا کی تاریخ کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ جس قوم کی زمین پر نوآبادیاتی قبضہ و حملہ ہوتا ہے تو وہاں پر”قومی تضاد” اپنی پوری شدت و طاقت سے نہ صرف موجود رہتا ہے بلکہ وقتاََ فوقتاََ عوامی و مزاحمتی جدوجہد کی شکل و صورت میں اپنا اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔

سائیں جی ایم سید نے سندھودیش کی آزادی کا نظریہ وقومی فکر ۱۹۷۲ع میں دیا، اس کے بعد تقریباََ تیں دہائیوں تک سندھودیش کی آزادی کا وہ ہی قومی فکر سندھی عوام میں قومی شعور لانے کے ساتھ ساتھ عوامی شمولیت و پذیرائی کے اپنے ارتقائی مراحل طے کرتا ہوا اپنی پوری قوت و طاقت سے آگے بڑھتا رہا ہے، سائیں جی ایم سید نے جب سندھودیش کی آزادی کااعلان کیا تو اس وقت سائیں جی ایم سید کے ساتھ سندھ یونیورسٹی کے چند انگلیوں پہ گنے چنے طلباء و سیاسی کارکن تھے،لیکن ۸۰ اور ۹۰ کی دہائی میں جیئے سندھ تحریک کی شکل اپنی ارتقائی مراحل طے کرتا ہوا لاکھوں لوگوں تک پہنچی، جس شعور کی روشنی میں انیس سو اٹاسی  میں ’سندھ قومی اتحاد‘بنا اور اس کے پلیٹ فارم سے لاکھوں لوگوں کے بڑے بڑے اجتماع ہونے لگے،سندھ کے لاکھوں لوگ سندھ وطن کی آزادی کی تحریک سے بلواسطہ اور بلاواسطہ وابستہ ہونے لگے،ان ہی دہائیوں میں پاکستانی ریاست نے سندھ کی قومی تحریک کو کچلنے اور ختم کرنے کے لیئے ”ٹوڑھی پھاٹک“ کے مقام پر جیئے سندھ کے کارکنا ن پر گولیاں چلانے، انہیں شہید کرنے سے لیکرسینکڑوں کی تعداد میں گرفتاریوں تک ہر قسم کا حربہ استعمال کیا۔

سندھ کی قومی تحریک اپنے ان شروعاتی دہائیوں سے پاکستانی ریاست کے شدید ترین ریاستی عتاب و آپریشنز سے گذرتے ہوئے بھی اپنے وجود اور وطن کی آزادی کی تحریک کو لیکر آگے بڑھتی رہی ہے، سائیں جی ایم سید ۲۵  اپریل ۱۹۹۵ کو جسمانی طور پر جدا ہوئیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ سندھ کی آزادی کی تحریک کے لئے سائیں جی ایم سید کی شخصیت ایک بہت بڑے چھپر چھانو والی تھی،جس کے جانے سے سندھ کی قومی تحریک ایک بڑے وژن رکھنے والے رہنماء و اپنے قومی رہبر سے محروم ہوگئی لیکن بقول ساجدی صاحب کی دعویٰ کہ ”تحریک ہی ختم ہوگئی“۔ یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے،کیونکہ سائیں جی ایم سید کی جسمانی جدائی نے جب ایک طرف ایک عظیم رہبر کا خال چھوڑا تو دوسری جانب اسی  خال نے قومی تحریک کے کئی الگ الگ گروپوں کو سائیں کے جانے کے غم کو طاقت میں تبدیل کرنے کے لیئے سائیں جی ایم سید کے چہلم ۵ جون ۱۹۹۵ پر ’جیئے سندھ قومی محاذ‘ جیسی ایک بڑی مشترکہ پارٹی کا قیامِ عمل لانے کا کردار ادا کیا۔

سندھ کے تمام اخباری ریکارڈ موجود  ہیں کہ سائیں جی ایم سید کے بعد جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم) نے کالاباغ ڈیم، سندھ کے وسائل، غیر سندھی آبادکاری و سندھ کے تمام مسائل سمیت سندھ کی آزادی کی جدوجہد کو سندھ کے شہر شہر، گاؤں گاؤں تک پہنچانے والی ایک بہت بڑی جماعت بن کر ابھری، جس کی طاقت، عوامی شمولیت و حمایت دیکھ کر اس وقت کی اپوزیشن پارٹی پی پی کی رہنماء بینظیر بھٹو نے سندھ، پنجاب سرحد پر کالاباغ ڈیم کے خلاف جسقم کے ساتھ مشترکہ دھرنہ دینے پر مجبور ہوگئی،یہی وہ قومی تضاد کا سب سے اعلیٰ اظہار تھا کہ جیئے سندھ کی پنجاب مخالف سیاسی لائن پر وفاقی سیاست کرنے والی پیپلز پارٹی کو بھی جسقم کے ساتھ مل کر سندھ،پنجاب سرحد پر دھرنا دینا پڑا،پنجاب کے ظلم کے خلاف جس دھرنے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئیں، یہی سائیں جی ایم سید کی فکر ی فتح تھی، یہی جیئے سندھ کی عوامی طاقت و شمولیت کا اظہار تھا جو سندھ کے سیاسی مسائل کے مشترکہ نقاط پر اس وقت کی ایک اور بڑی شہری جماعت ایم کیوایم کو جسقم سے اتحاد کرنا پڑا، ان سارے تاریخی حوالات کا ذکر کرنا اس لیئے بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ سندھ کی قومی تحریک کی جدوجہد سے ساجدی صاحب سمیت جتنے بھی لاعلم تجزیہ و کالم نویس ہیں وہ چیزوں کا صحیح تجزیہ کر سکیں۔

ساجدی صاحب کے علم میں اضافہ کرنے کے لیئے ’جیئے سندھ قومی محاذ کے‘ چیئرمین شہید بشیر خان قریشی کی رہنمائی میں ۲۳ مارچ ۲۰۱۲ کو کراچی میں کیئے گئے ’فریڈم مارچ‘ کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق جس میں سندھ کی آزادی کی مانگ کے لیئے۳۰ لاکھ لوگ جمع ہوئے تھے، جنہوں نے پاکستان کے23 مارچ 1940 کی لاہور قراداد کو رد کرکے سندھ کی آزادی کا واضح پیغام دیا تھا، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سائیں جی ایم سید نے جس تحریک کو لاکھوں لوگوں میں چھوڑ ا تھا، شہید بشیر خان قریشی اپنی پارٹی کی محنت و عوامی جدوجہد، شمولیت و حمایت کے ذریعے اسی تحریک کو سندھ کے کروڑوں لوگوں تک پہنچایا۔
دو ہزار بارہ  کے بعد مارچ 2014 میں فریڈم مارچ کے اعلان کے بعد شہید بشیر خان قریشی کے بھائی جسقم مرکزی رہنما مقصود خان قریشی اور سلمان ودھو کو پاکستانی خفیہ اداروں  نے نوشہرو کے قریب گولیاں مارنے کے بعد آگ میں جلا کر شہید کردیا تھا جس کے باوجود ۲۳ مارچ ۲۰۱۴ کو کراچی میں سندھی قوم نے سندھ کی آزادی کے لیئے لاکھوں لوگوں کا مارچ کیا، نہ صرف جسقم مگرجیئے سندھ تحریک (صفدر سرکی)، جسقم (آریسر) سمیت قومی تحریک کی کئی جماعتوں نے اب تک کراچی سمیت پوری سندھ میں کئی بار لاکھوں لوگوں کے اجتماع کیئے ہیں، جن میں تازہ ستمبر 2019  اور نومبر 2019 میں جیئے سندھ محاذ اور جسقم (بشیر خان) کے کیئے گئے پیغام سندھ مارچ کے مثال نمایاں ہیں۔

تازہ ۱۷ جنوری 2020 کو سائیں جی ایم سید کی ۱۱۶ ویں سالگرہ کے موقع پر باوجود کئی ریاستی خوف و دہشت پھیلانے کے باوجود لاکھوں لوگ سن میں جمع ہوئیں اور اپنے وطن سندھودیش کی آزادی کی جدوجہد کو اپنی منزل تک پہنچانے کا عزم دہرایا ہے۔

آخری بات
قومی آزادی کی تحریکیں شخصیات کے آنے یا جانے سے ختم نہیں ہوتیں ، جہاں پر قومی تضاد اپنی جتنی شدت سے موجود ہوتاہے ، وہاں پر قومی آزادی کی تحریکیں بھی اتنی ہی شدت و زمینی حقیقت کے ساتھ آگے بڑھتی رہتی ہیں۔
تمام تر کمزوریوں کے باوجود قومی تضاد کی حقیقت کی موجودگی میں سندھ کی آزادی کی تحریک آج بھی اپنی منزِل مقصود طرف کی طرف رواں و دواں ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔