سماجی و انقلابی روایات – برزکوہی

217

سماجی و انقلابی روایات

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

روایات کسی بھی معاشرے کے وہ طے شدہ نمونے ہیں جن کی چند مخصوص خصوصیات اور علامات ہیں اور جو سال ہا سال سے کسی معاشرے میں رائج ہیں، یہ نسل در نسل غیر تحریری طور پر سفر کرتے ہیں اور غیر مشروط اور لاشعوری طور پر زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یہ معاشرے کو وہ اہمیت اور منفرد معیار عطا کرتی ہیں جو اس معاشرے کی پہچان بن جاتے ہیں۔ اس کا تعلق ماضی سے ہے۔

کیا ہمارے سماجی روایات آج انقلابی روایات میں ڈھل سکتے ہیں؟ کیا قومی آزادی یا انقلاب برپا کرنے کی خاطر اپنے سماج کے بنیادوں کو ہلا کر، سماج میں انقلابی تبدیلی لانا قومی آزادی کا تقاضہ نہیں ہے؟ کیا قومی آزادی یا قومی ریاست کی بحالی و تشکیل سے قبل پورے قوم و سماج میں، سوچ و فکر کے حوالے سے، کرداروں کے حوالے سے جو بھی تبدیلی رونما ہوتے ہیں یا جنم لیتے ہیں، کیا وہ انقلابی تبدیلی نہیں ہے؟ کیا قومی آزادی سے قبل ایک قومی جدوجہد کو سائینسی و فکری بنیادوں پر منظم کرنے کی خاطر اپنے سماج میں انقلابی تبدیلی لانا قومی تحریک کا تقاضہ نہیں ہوتا ہے؟ کیا ہمارے سماجی روایات آج کے انقلابی روایات سے مماثلت رکھتے ہیں؟ کیا ہمارے سماجی روایات تحریک آزادی کی راہ میں بلاواسطہ یا بالواسطہ رکاوٹ نہیں ہوسکتے ہیں؟

جس طرح سماجی روایات ماضی سے ماخوذ اور اسکا مظہر ہوتے ہیں، اس کے برعکس قومی آزادی کی تحریک یا انقلاب مستقبل کی وکالت کررہا ہوتا ہے۔ پرانے روایات کو بدلنے کی بات کرتا ہے۔ انقلاب یا ایک ترقی پسند تحریکِ آزادی کے نظریئے کا پہلا نکتہ ہی یہی ہوتا ہے کہ سماج کے پرانے ڈھانچے میں خرابی تھی کہ سماج قومی غلامی یا طبقاتی غلامی کا شکار ہوئی۔ پرانے روایات اس سماج میں برابری و آزادی برقرار نہیں رکھ سکے، اسی لیئے سماج ایک مکمل تبدیلی کا متقاضی ہے۔

بلوچ سماج کی مثال لیں، تو ہمارے وہ قبائلی و سماجی روایات، سماج کو قومی غلامی سے بچانے میں ناکام رہے، جو اسکا ہمیشہ سے فرضِ اولین تھا۔ اسی لیئے یہ روایات شخصیتوں کی صورت میں بھگی کھینچتی نظر آئی اور آج دشمن کے کام میں بہت سے مقامات ہم کوپہ نظر آتی ہے۔

اب تحریک آزادی نئے روایات کا متقاضی ہے، خاص طور پر حالتِ جنگ میں پرانے ان تمام روایات سے پہلو تہی کرنے کا متقاضی ہے جو قومی و سماجی غلامی کے طوالت کا باعث بن سکتی ہے۔ کیا ایسی صورتحال میں اگر ضِد روایات کو ساتھ لیکر چلنے کی ہو تو کیا یہ ممکن ہے؟

مطلب پاکستان و چین جیسے بلوچ دشمن قوتوں سے براہِ راست اپنی قومی آزادی و قومی بقاء کی جنگ لڑنا، پھر بھی تحریکی و جنگی تقاضات سے زیادہ اگر بلوچ جدوجہد سے وابستہ لوگوں کا سوئی ابھی تک اپنے روایتی، قبائلی، سماجی، مذہبی، روایات پر اٹکی ہو تو پھر کیا ہم ایک ہاری ہوئی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں؟ یہ پھر آبیل مجھے مار کے مصداق ہوا۔ اپنے پیروں کو باندھ کر اولمپک میں دوڑنے کی تیاری ہے۔

اکثر ہمارے ایسے سماجی و قبائلی روایات ہیں، اگر جہدکار ان کی پاسداری کریں تو اس سے ہمارے دشمن کو براہِ راست فائدہ ہوگا، کیا بحثیت کسی جہدکار کو ایسی روایات کی پاسداری کرنا چاہیئے؟

بالکل مختلف حالات و اوقات اور معروضی حالات کے تحت تحریکی اور جنگی تقاضات مختلف ہوتے ہیں، مگر کیا ہم تحریکی و جنگی تقاضات سے مکمل آگاہ ہیں؟ تحریکی و جنگی تقاضات سے نابلد و بے خبر ہوکر پھر بھی تحریک کا حصہ ہوکر جدوجہد کرنا، کیا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف نہیں ہوگا؟

اگر قومی فکر قومی آزادی کا ہی ہو، لیکن مزاج و طبیعت، رویہ اور سوچ روایتی و قبائلی، سماجی اور مذہبی ہو پھر کیا ملاوٹی کچونبر کسی بھی قومی آزادی کی تحریک کا متحمل ہوسکتا ہے؟

ہر قوم، ہر فرد کو اپنی سالوں سال سماجی روایت بے حد عزیزہوتے ہیں، کیونکہ انسان کی پیدائش سے لیکر پوری زندگی پر یہ شعوری و لاشعوری طور پر شدت کے ساتھ اثر انداز ہوکر اپنے نقوش چھوڑ دیتے ہیں، ان کو یکسر نظر انداز کرنا یا مسترد کرنا اتنا آسان نہیں، یہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں لیکن ایک قومی نجات کی تحریک و جنگ کی حصول کی خاطر انقلابی تبدیلی میرے خیال میں تحریک کا تقاضہ ہوتا ہے، بغیر تبدیلی کے تحریکی کامیابی و ترقی کم نقصان و زوال زیادہ ہوگا۔

مثلاً دشمن کو مدنظر رکھ کر چند تنظیمی دوستوں کو عوام کے سامنے یا دشمن کے سامنے اپنے دوستی اور تعلق کو ظاہر نہیں کرنا چاہیئے تاکہ وہ دشمن کی نظر میں نہ آئیں بلکہ وہ محفوظ اور ان کا دوستی خفیہ ہو، مگر سماجی، قبائلی اور مذہبی روایات کے مطابق ان دوستوں کی مرگ و زند، غم و خوشی میں شریک ہونا سماج کا تقاضہ ہے، اس کو لازمی پورا کرنا ہوگا، کیا پھر ان سماجی رشتوں کو مدنظر رکھ کر یہ سماجی تقاضہ پر کرنا خود تحریکی تقاضات کی نفی نہیں ہے؟

آج ایسے سینکڑوں مثالیں، تجربات، مشاہدات ہمارے پاس موجود ہیں، جن کو ہم اپنی سماجی روایات قرار دیکر ان کی پاسداری کرکے تحریکی و جنگی روا یات اور تقاضات کو پیروں تلے روند کر نظر انداز کرچکے ہیں، ان کے نقصانات براہِ راست ہمارے تحریک پر پڑرے ہیں، کیا یہی تسلسل اسی طرح جاری و ساری رہ کر روایات کو قران شریف کی طرح مقدس سمجھ کر سات کپڑوں کی تہہ میں لپیٹ کر اپنے سینے پر لگا کر اسی طرح تحریکی روایات و تقاضوں کو نظر انداز کرکے یا بھول کر خطرہ مول کر نقصان اٹھاتے رہینگے؟

موجودہ بلوچ تحریک میں بھی ایسے رجحانات بدرجہ اتم دیکھنے کو ملتی ہیں کہ جہاں سماجی روایات کو اتنا مقدم رکھا جاتا ہے کہ اس امر کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ یہ تحریکی روایات و اصولوں پر کس حد تک منفی اثرات مرتب کرکے، نقصانات کا سبب بن رہا ہے۔

مثال کے طور پر کسی دوست کے شادی بیاہ میں شرکت کی روایت کو اتنا مقدم جانا جاتا ہے کہ یہ بات نظر انداز کی جاتی ہے کہ اس طرح کے کسی تقریب میں جانے سے وہ کتنے لوگوں کی نظر میں آسکتا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال مرگ کی صورت میں فاتحے پر بھی بنتی ہے۔ یہاں دلیل روایات کی دی جاتی ہے، کہ دوسرا دوست برا مان جائیگا۔ شاید حالتِ امن میں یہ روایت واجب ہو، لیکن تحریک میں انکو ساتھ لیکر چلنا کیا نقصانات کا باعث نہیں بنتا؟

اسی طرح پہلے بھی یہ مثال کئی مواقعوں پر دی جاچکی ہے کہ بلوچ روایات میں دورانِ جنگ “ہکل” دیئے بغیر حملہ کرنے کو بزدلی سمجھا جاتا ہے، کیا آج بلوچ، طاقتور دشمن کے خلاف اس روایت کو ساتھ لیکر چلنے کا متحمل ہوسکتا ہے؟ جس طرح قصوں کہانیوں میں ہکل کی روایت خوبصورت نظر آتی ہے لیکن اسے موجودہ تحریک میں عملی طور پر اپنانے کی بات بیوقوفی ہی نظر آئیگی، یہی بات دراصل بہت سے دوسرے روایات پر بھی آج صادق آرہی ہے، لیکن ان پر کھل کر اس خوف کے باعث بات نہیں ہوتی ہے کہ اگر کوئی روایت شکنی کا مرتکب ہوا تو وہ بلوچ نہیں۔ ایک بات یاد رکھی جائے کہ روایات قوم کیلئے بنتی ہیں۔ قوم روایات کی خاطر نہیں بنتی۔ اولیت قوم اور اسکی بقا کو حاصل ہے۔

اسی طرح ان روایات کے تحت چلتے جائیں تو ہم خود کو پیچیدگیوں کی ایک ایسی گھانٹ میں پھنسا دیں گے کہ نکلنا ممکن نا ہوگا، یعنی اگر دشمن کا کوئی کرنل و برگیڈیئر عورت ہو تو کیا روایت کے تحت عورت ہونے پر اسے استثنیٰ دی جائیگی؟ چاہے وہ جتنا بھی نقصاندہ کیوں نا ہو؟ بہت سے لوگ بلوچ تحریک میں خواتین کی شرکت، انکا روڈوں کپر احتجاج، انکی قیادت تک کو بلوچ سماجی روایات کے منافی قرار دیتے ہیں، کیا پھر ان روایات کو بھی قبول کیا جائے؟ بلیدیوں نے بالاچ گورگیج کو طعنہ مارا تھا کہ چھپ کر گوریلہ حملے کرکے، وار کرنا بزدلی ہے اور بلوچوں کی روایت نہیں، تو بلوچ گوریلا جنگ چھوڑ دیں؟

بطور آزادی کے سپاہی، ہم نا صرف ایک آزاد قوم و مملکت کیلئے لڑرہے ہیں بلکہ ایک ایسے سماج کیلئے بھی لڑرہے ہیں جو آزاد ہو، ایک ایسا سماج جس میں وہ اجزائے ترکیبی باقی نا رہیں، جو غلامی، نا انصافی یا غلامی کے طوالت کا باعث بنے۔

بلوچ قوم میں دوسرے اقوم کی طرح ہزاروں روایات موجود ہیں، یقیناً تمام روایات منفی نہیں ہیں۔ یہ بھی بلوچ روایت ہے کہ بیرونی حملے کی صورت میں سب آپسی جنگیں بھلا کر بیرونی دشمن سے لڑیں۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ خاص طور پر آزادی کے تحریک کے ایک سپاہی کو سمجھنا چاہیئے کہ کونسی روایات زائد المیعاد ہوچکی ہیں، انہیں مسترد کرنا چاہیئے اور کون سے روایات درست معنوں میں اس قوم کو پہچان اور تحفظ دے سکتی ہیں، انہیں اپنانا چاہیئے، کونسی روایات محض حالتِ امن کیلئے ہیں اور جنگی حالات میں باعث نقصان ہونگی۔

اگر آپ آنکھیں بند کرکے ہر روایت کے پیروی کرنے کے قائل ہیں، کیونکہ یہ سماج میں سالوں بلکہ صدیوں سے رائج تھا، آپ جنگ، تحریک، موجودہ دنیا، عصری تقاضوں کو سمجھنے ان روایات کو نئے تقاضوں پر پرکھ جانچ کرنے سے قاصر ہیں، تو آپ ارادتاً یا غیرارادتاً اس تحریک، اپنے ساتھیوں، قوم اور اپنی ذات تک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، ایک ترقی پسند انقلابی روایات رکھ سکتا ہے، لیکن ایک روایت پسند کبھی ترقی پسند انقلابی نہیں بن سکتا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔