سردار عطاء اللہ مینگل کی شخصیت کو متنازعہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے- نیشنل پارٹی

137

نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا کہ سردار عطااللہ خان مینگل بلوچستان کے بزرگ سیاستدان ہیں ان کی دل سے عزت و احترام کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کو متنازعہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں سردار عطااللہ خان مینگل کی بلوچستان کے لیے جدوجہد اور قربانی نیشنل پارٹی کے لیے قابل قدر ہیں بلوچستان کے شعوری و فکری تحریک کے اہم اکابرین میں شمار ہوتا ہے سردار عطااللہ خان مینگل اپنے بیٹے کی پارٹی کے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے کو سپورٹ کریں یا اس سے اختلاف رکھیں ایسی فیصلے کو لے کر پارٹی میں رئیں یا علحیدگی اختیار کریں یہ ان کا اپنا ذاتی فیصلہ ہوسکتا ہے جس سے نیشنل پارٹی کو کوئی سروکار نہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ گوادر کے حوالےسے قانون سازی کی باتوں میں صداقت نظر نہیں آرہی ہے غلط سیاسی فیصلوں کو سیاسی کور دینے کے لیے اس طرح کی باتیں سامنے آرہے ہیں ۔

بیان میں کہاگیاکہ بلوچستان اور ملک بھر میں جبری طور پر افراد کو لاپتہ کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے ان مسائل پر ہر فورم پر آواز بلند کی ہے اس میں بی این پی مینگل کا بھی ایک کردار ہے اس پر سب متفق ہیں اور اس حوالے سے ان کے چھ نکات کو ڈیڈھ  سال کا عرصہ بھی گزر چکا ہے لیکن تاحال اس میں پیش رفت نظر نہیں آرہا ہے بلکہ مزید اس میں شدت پیدا ہوا ہے اور بی این پی مینگل اس حکومت کا حصہ ہے اور اس پر غیر آئینی اقدام کو سپورٹ و مدد فراہم کررہا ہے ایسے میں بلوچستان کے عوام کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ بی این پی مینگل کی قیادت سے یہ سوال اٹھائیں کہ وہ کب تک اس سلیکٹیڈ حکومت کا ایسی طرح حصہ رئیں گے اور عوام کو دھوکے میں رکھیں گے اور انھیں لولی پاپ دکھائیں گے کہ ہم گوادر پر قانون سازی کے لیے حکومت کا حصہ ہیں ابھی بہت ہوگیا ہے ایک سال کے الٹی میٹم کو بھی بہت وقت گزر گیا اور اب تو صورتحال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہر ناجائز عمل کو قانونی حیثیت دینے کے لیے بی این پی مینگل پیش پیش نظر آرہا ہے حالانکہ پی ٹی آئی کی حکومت اور جماعت جنرل پرویزمشرف کو بچانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگائی ہے اور یہ سب کچھ مینگل گروپ کی سپورٹ سے کیا جارہا ہے اس جرم و گناہ سے حکومت میں شامل کوئی جماعت مبرا نہیں ہوسکتا۔

نیشنل پارٹی تنقید و خود تنقیدی کے فلسفے پر کاربند ہے سوال یہ ہے کہ باپ پارٹی پر ہم کیوں تنقید نہیں کرتے ہیں وہ اس لیے کہ ان کا مینڈیٹ ہی اسٹیبلشمنٹ کو تحفظ فراہم کرنا ہے جبکہ بی این پی مینگل کو عوام نے مینڈیٹ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دیا ہے اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کے لیے نہیں دیاہے