ریڈیو زرمبش بلوچی پروگرام پر تنقید – سراج نور

247

ریڈیو زرمبش بلوچی پروگرام پر تنقید

تحریر: سراج نور

دی بلوچستان پوسٹ

آج کل ریڈیو زرمبش کی طرف سے ایک بلوچی پروگرام کا انعقاد ہورہا ہے۔ جس میں ضیاء بلوچ سے بلوچی ادب کے بارے میں بات چیت کی گئی، تو انہی دنوں میں سلطان قابوس کا موت بھی ہوا۔ ریڈیو زرمبش نے میجر مجید سے بھی سلطان قابوس کے بابت بات چیت کیا اور آج میجر مجید کا ایک نظم جو سلطان قابوس کے تعریف میں لکھا گیا ہے، اُس کو بھی ریڈیو زرُمبش کی طرف سے شائع کیا گیا۔

سب سے پہلے ہم ضیاء بلوچ پر متوجہ ہونگے۔ محترمہ کرینا جہانی نے بلوچی لکھائی کے لیئے ایک نیا اصول متعارف کردیا ہے کیوںکہ کے سید ظہور کے اصولوں میں تھوڑا کمی ہے۔ اسی طرح ضیاء بلوچ کا کہنا ہے کہ سید کے اصولوں سے کسی کو پڑھنے میں مشکل کا سامنا نہیں ہوا اور الفاظ کو پڑھنا آنکھوں کا کام ہے۔ مثلاّ(شیر ءُ شہر او شار۔ کاھور ۔کور یا کہیر۔)لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بلوچی صرف مکران میں محدود نہیں ہے بلکہ بلوچ دنیا میں بہت جگہوں میں موجود ہیں اور ہر ایک کا بولنے کا طریقا الگ ہے۔ بلوچی میں بہت سارے بولی موجود ہیں۔ اگر میں مکرانی ہوں تو میں سمجھتا ہوں لیکن رخشانی اور سلیمانی یا باقی بلوچ تو نہیں سمجھ سکتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سید کے مطابق بلوچی میں (ض ص خ غ ث ظ ق) اور بعض الفاظ موجود نہیں ہیں۔ لیکن ہمارے بڑے شاعرو لکھاری اور ادیب اِن الفاظ کا استحمال کرتے ہیں۔ یعنی مکران میں اکثریت یہ الفاط استعمال کرتے ہیں، باقیوں کو تو چھوڑو۔ بقول سید کے اگر ہم رومن کے اصول استعمال کریں تو ہمارا زبان زیادہ ترقی کرے گا اور زیادہ لوگ اِس بات سے متفق ہیں کیوںکہ عربی رسم الخط سے بلوچی رسم الخط تھوڑا الگ ہے اور ایک دوسرے سے زیادہ ملتے جلتے نہیں۔

بقول گوس بہار (مرحوم)کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ عربی ہمارے دین کی رسم الخط ہے لیکن یاد رہے کہ بہیت سارے مسلم ممالک نے رومن رسم الخط لےکے اپنے زبان کو منظم اور طاقتور بنایا۔ لیکن ہماری بدبختی اور ناپختگی ہے کہ ہم ایسا کررہے ہیں۔ اگر ہم پشتو، دری یا سندھی اور کوئی بھی زبان میں بات کرنا سیکھ لیں لیکن جب تک ہم اُن زبانوں کی رسم الخط نا جانیں تب تک ہم اُن زبانوں میں لکھے کتابوں کو پڑھ نہیں سکتے۔ اس لیئے میں کہتا ہوں کہ ہمیں رومن استعمال کرنا ہوگا تاکہ ہمیں بلوچی کو مضبوظ کرنی پڑے گی تاکہ سب بلوچ مثلاّ (جو بیرونی ملکوں میں مقیم ہیں) اسے پڑھ سکیں اور استعمال کر سکیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ سلطان قابوس کا تعریف کرنا، اُس پر نظم لکھنا اور اسے اپنے پروگرام میں چلانا، میرے سمجھ میں نادانی ہے۔ کہتے ہیں کہ اومان کے چالیس یا پینتالیس فیصد آبادی بلوچ پہ مشتمل ہے لیکن وہاں بلوچی زبان پڑھایا نہیں جاتا اور بلوچی کلچر کا تو نام و نشان نہیں۔ اور جیسا کے پاکستان کے فوج میں پٹھان استعمال ہو رہے ہیں، ویسے ہی اومان میں بلوچوں کو استعمال کیا جارہا ہے اور انہیں مروایا جارہا ہے۔ بقول سنگت زاکرمجید کے جب بلوچستان میں جدوجہد ابُھرے گا تو اومان بلوچوں کی تعریف اور انہیں فوج میں بھرتی کرنا شروع کرے گا۔ اور باقی عرب ملکوں میں بھی بلوچوں کا کوئی عزت نہیں ہے ۔واضح مثال ہمارے سامنے موجود ہے، راشد حسین جس کو عرب امارات کی پولیس نے ائرپورٹ سے گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کردیا۔عربوں نے ہمارے لیے کچھ بھی اچھا نہیں کیا۔ ہمارے بلوچی لباس جو دنیا کی بہترین اور اسلام کے حساب سے سب سے محفوظ ترین لباس ہیں، اسے بُرقعے میں چھپایا ہے اور بلوچی زبان کو بھی خطرہ میں ڈالدیا۔ اور ہمارا کلچر بھی ان عربوں کی بدولت آج کل دکھائی نہیں دیتا۔

ہمارے آزادی کی جدوجہد میں سب سے بڑا رکاوٹ عرب ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت بہت کرتے ہیں اور اُن کی حقوق کا بہت خیال کیا جاتا ہے لیکن ان عربوں نے اسلام کا غلط استعمال کرکے عورتوں کو تعلیم سے دور رکھا۔ اور انہیں اپنے کلچر سے دور رکھا۔ اور اِن سب چیزوں میں پاکستان برابر شریک ہے۔ اگر ہم بڑے بڑے شہروں میں دیکھیں مثلاّ(تربت یا پنچگور) تو وہاں بلوچی کلچر تو دکھائی نہیں دیتی۔ اور دیہاتی و پہاڑی علاقوں میں بلوچی ثقافت زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب پاکستان اور اُس کے بلوچ مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ ہمیں ہمارا زبان و ثقافت کے بارے میں نہیں پڑھایا جارہا ہے۔ میرا کہنے کا مقصد ہے کہ بلوچستان و بلوچ کے مسئلہ و مسائل بہت زیادہ ہیں اور اِن مسائل کا حل صرف آزادی ہے۔ اور اگر ریڈیو زرمبش بلوچ اور بلوچی کو طاقتور بنانا چاہتا ہے تو بلوچستان کے بہت سارے شخصیات موجود ہیں، انُ کا تعریف کیا جائے۔ اگر کوئی بھی بلوچی زبان کو سامنے لانا چاہتا ہے اور اُسے مظبوط بنانا چاہتا ہے تو وہ اس آزادی کی جنگ کو مد نظر رکھ کر آگے بڑھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔